🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. في الرجل يكون له المال القليل أيوصي فيه؟
اس آدمی کا بیان جس کے پاس تھوڑا سا نیا مال ہو، کیا وہ اس میں وصیت کر سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31588 ترقیم الشثری: -- 32992
٣٢٩٩٢ - حدثنا... (١) ابن جريج عن ليث عن طاوس عن ابن عباس (قال: إذا ترك الميت سبعمائة درهم فلا يوصي) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وابن جريج ليس من شيوخ المؤلف ولعلها: (حدثنا ابن المبارك عن ابن جريج).
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: بياض، وفي [ل]: (قال: يسر في المال إلا آية وصية)، وانظر: سنن سعيد بن منصور ٢/ (٢٥٠)، وسنن البيهقي ٦/ ٢٧٠، والدر المنثور ١/ ٤٢٣.
(٣) ضعيف؛ لضعف ليث.

طاؤس سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب مرنے والا سات سو درہم چھوڑ کر جا رہا ہو تو وصیت نہ کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32992]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32992، ترقيم محمد عوامة 31588)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31589 ترقیم الشثری: -- 32993
٣٢٩٩٣ - حدثنا زيد بن حباب عن (همام) (١) عن قتادة ﴿إن ترك خيرا الوصية﴾ [البقرة: ١٨٠] ، قال: خير المال، كان يقال: الف درهم فصاعدا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (خيثم).
ھمام سے روایت ہے کہ حضرت قتادہ نے فرمان باری تعالیٰ {إنْ تَرَکَ خَیْرًا الْوَصِیَّۃُ } کی تشریح میں فرمایا: اس وقت لوگوں میں یہ بات معروف تھی کہ بہتر مال ایک ہزار درہم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32993]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32993، ترقيم محمد عوامة 31589)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31590 ترقیم الشثری: -- 32994
٣٢٩٩٤ - حدثنا ابو خالد عن هشام عن ابيه ان عليا دخل على رجل من بني هاشم يعوده فاراد ان يوصي فنهاه، وقال إن الله يقول: ﴿إن ترك خيرا﴾ وإنك لم تدع مالا فدعه لعيالك (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أبو خالد صدوق.
عروہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بنو ہاشم کے ایک آدمی کے پاس اس کی تیمارداری کے لئے آئے، وہ وصیت کرنے لگا تو آپ نے اس کو منع فرمایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ”اگر (مرنے والا) مال چھوڑے“ اور تم تو کوئی مال چھوڑ کر نہیں مر رہے، اس لئے جو ہے وہ اپنے بچوں کے لئے چھوڑ دو!۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32994]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32994، ترقيم محمد عوامة 31590)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31591 ترقیم الشثری: -- 32995
٣٢٩٩٥ - حدثنا ابو معاوية عن محمد بن شريك عن ابن ابي (مليكة) (١) عن عائشة قال: قال لها رجل: إني اريد ان اوصي، قالت: كم مالك؟ قال: ثلاثة آلاف، قالت: فكم عيالك؟ قال: اربعة، (قالت) (٢) : فإن الله يقول: ﴿إن ترك خيرا﴾ وإنه شيء يسير فدعه لعيالك فإنه افضل (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (لميكة).
(٢) في [جـ، م]: (فقالت).
(٣) صحيح.

ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ میں وصیت کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے پوچھا تیرے پا س کتنا مال ہے؟ عرض کیا: تین ہزار، آپ نے پوچھا تیرے اہل و عیال کتنے افراد ہیں؟ کہنے لگا، چار، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ شرط ذکر فرمائی ہے ”اگر مال چھوڑے“ اور تیرے پاس تو بہت معمولی سا مال ہے اس کو اپنے بچوں کے لئے چھوڑ دو، یہی افضل ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32995]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32995، ترقيم محمد عوامة 31591)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں