🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

46. من كان يوصي ويستحبها
ان حضرات کا بیان جو وصیت کیا کرتے تھے اور اس کو اچھا سمجھتے تھے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31575 ترقیم الشثری: -- 32978
٣٢٩٧٨ - حدثنا جرير عن مغيرة عن قثم مولى ابن عباس قال: قال علي: وصيتي إلى اكبر ولدي غير طاعن عليه في بطن ولا في فرج (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ قثم صدوق.
قثم مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری وصیت کا ذمہ دار میرا بڑا بیٹا ہے، اس حال میں کہ میں نے اس پر پیٹ اور شرمگاہ کے معاملے میں کوئی زیادتی نہیں کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32978]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32978، ترقيم محمد عوامة 31575)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31576 ترقیم الشثری: -- 32979
٣٢٩٧٩ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا عبيد الله عن نافع عن (ابن) (١) عمر عن النبي ﷺ قال:"ما حق امرئ مسلم يبيت ليلتين وله شيء يوصي به إلا وصيته مكتوبة عنده" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٧٣٨)، ومسلم (١٦٢٧).

نافع روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مسلمان آدمی پر یہ واجب ہے دو راتیں بھی اس پر اس حال میں نہ گزریں کہ اس کے پاس وصیت کے قابل کوئی چیز ہو اور اس نے اس کی وصیت اپنے پاس لکھ نہ رکھی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32979]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32979، ترقيم محمد عوامة 31576)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31577 ترقیم الشثری: -- 32980
٣٢٩٨٠ - حدثنا عبد الاعلى عن داود عن عامر قال: من اوصى (بوصية) (١) لم يحف فيها، (ولم) (٢) يضار احدا: (يكون) (٣) له من الاجر ما لو تصدق (به) (٤) في (حياته) (٥) في صحته.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (في وصية).
(٢) في [أ، ب]: (ولا).
(٣) في [هـ]: (كان)، وفي [أ، جـ، ك]: (أن يكون).
(٤) في [م]: (بها).
(٥) في [أ، ب]: (حيوته).

داؤد سے روایت ہے کہ حضرت عامر نے فرمایا کہ جس شخص نے کوئی وصیت کی اور اس میں کسی پر ظلم نہیں کیا اور نہ کسی کو نقصان پہنچایا اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ اس کو اپنی زندگی میں تندرستی کے زمانے میں صدقہ کرنے پر ملتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32980]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32980، ترقيم محمد عوامة 31577)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31578 ترقیم الشثری: -- 32981
٣٢٩٨١ - حدثنا ابن إدريس عن داود عن عكرمة عن ابن عباس قال: الضرار (في) (١) الوصية من الكبائر ثم تلا: ﴿غير مضار وصية من الله﴾ (٢) [النساء: ١٢] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (من).
(٢) ضعيف؛ داود بن الحصين ثقة في غير عكرمة.

عکرمہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وصیت کے ذریعے سے کسی کو نقصان پہنچانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: { غَیْرَ مُضَارٍّ وَصِیَّۃً مِنَ اللہِ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32981]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32981، ترقيم محمد عوامة 31578)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31579 ترقیم الشثری: -- 32982
٣٢٩٨٢ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن حبيب قال: ذهبت انا والحكم إلى سعيد بن جبير فسالته عن قوله تعالى: ﴿وليخش الذين لو تركوا من خلفهم ذرية ضعافا خافوا عليهم﴾ إلى قوله: ﴿سديدا﴾ قال: هو الذي يحضره الموت فيقول له من (يحضره) (١) : اتق الله واعطهم، صلهم، برهم -ولو كانوا هم الذين يامرونه بالوصية لاحبوا ان (يبقوا) (٢) لاولادهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (يحضرهم).
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: (ينفقوا).

سفیان سے روایت ہے کہ حضرت حبیب نے فرمایا کہ میں اور حکم حضرت سعید بن جبیر کے پاس گئے اور میں نے ان سے آیت { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ … سَدِیدًا } کی تفسیر پوچھی، انہوں نے فرمایا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مرنے والے کے پاس اس کی موت کے وقت حاضر ہوں اور اس کو نصیحت کریں کہ اللہ سے ڈرو! اور وہ ان حاضرین کو صلہ رحمی اور احسان کے طور پر کچھ دے، حالانکہ اگر اس آدمی کی جگہ خود یہ لوگ ہوں تو وہ یہ چاہیں کہ اپنی اولاد کے لئے خرچ کریں۔ پھر ہم حضرت مِقسَم کے پاس آئے، اور ان سے بھی اسی آیت کے متعلق سوال کیا انہوں نے پوچھا کہ حضرت سعید نے کیا فرمایا؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ یہ فرمایا ہے، فرمایا یہ درست نہیں، بلکہ یہ آیت اس آدمی کے متعلق ہے جس کو موت کے وقت کہا جا رہا ہو کہ اللہ سے ڈر اور اپنا مال اپنے پاس روک رکھ! کہ تیرے مال کا تیری اولاد سے زیادہ حق دار کوئی نہیں ہے، اور اگر وصیت کرنے والا اس کا رشتہ دار ہو تو وہ یہ چاہیں کہ وہ ان کے لئے وصیت کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32982]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32982، ترقيم محمد عوامة 31579)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 32983
٣٢٩٨٣ - فاتينا مقسما (فسالناه) (١) فقال ما قال (سعيد) (٢) ، فقلنا: كذا وكذا، قال: لا، ولكنه الرجل يحضره الموت فيقال له: اتق الله، وامسك عليك ⦗٢١٩⦘ مالك، فإنه ليس احد احق بمالك من ولدك، ولو كان الذي يوصي ذا قرابة لاحبوا ان يوصي لهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (فسألنا).
(٢) في [أ، ب]: (شعبة).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32983، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31580 ترقیم الشثری: -- 32984
٣٢٩٨٤ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن داود بن ابي هند عن القاسم بن عمرو قال: اشتكى ابي فلقيت ثمامة بن حزن القشيري فقال لي: اوصى ابوك؟ قلت: لا، قال: إن استطعت ان يوصي فليوص، فإنها تمام لما انتقص من زكاته.
قاسم بن عمرو فرماتے ہیں کہ میرے والد بیمار ہوگئے، میں حضرت ثمامہ بن حزن قشیری سے ملا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہارے والد نے وصیت کی ہے؟ میں نے کہا: نہیں! فرمانے لگے: اگر تم سے ہو سکے کہ ان سے وصیت کروا سکو تو کرو ادو، کیونکہ وصیت زکاۃ کی کمی کو پورا کرتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32984]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32984، ترقيم محمد عوامة 31580)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31581 ترقیم الشثری: -- 32985
٣٢٩٨٥ - حدثنا ابو خالد عن داود بن ابي هند عن عكرمة عن ابن عباس قال: الضرار في الوصية من الكبائر ثم قرا: ﴿ومن يعص الله ورسوله ويتعد حدوده يدخله نارا خالدا فيها﴾ (١) [النساء: ١٤] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أبو خالد صدوق.
عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وصیت میں کسی کو نقصان پہنچانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، پھر آپ نے پڑھا: { وَمَنْ یَعْصِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیَتَعَدَّ حُدُودَہُ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیہَا }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32985]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32985، ترقيم محمد عوامة 31581)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31582 ترقیم الشثری: -- 32986
٣٢٩٨٦ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: اخبرني إبراهيم بن ميسرة انه سمع طاوسا يقول: ما من مسلم (يوقن) (١) بالوصية (يموت) (٢) ولم يوص إلا اهله (محقوقون) (٣) ان يوصوا عنه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (يؤمر).
(٢) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٣) في [أ، ب، جـ]: (محموقون)، وفي [م]: لم يكتب شيء.

ابراہیم بن میسرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس کو یہ فرماتے سنا: جو مسلمان وصیت کا پختہ ارادہ رکھتا ہے، مگر بغیر وصیت کے مرجاتا ہے اس کے ورثاء پر واجب ہے اس کی طرف سے وصیت کریں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32986]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32986، ترقيم محمد عوامة 31582)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31583 ترقیم الشثری: -- 32987
٣٢٩٨٧ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا مسعر قال: ثنا ابو (حمزة) (١) عن إبراهيم قال: (إنما) (٢) كانوا يكرهون ان يموت الرجل قبل ان يوصي قبل ان (تنزل) (٣) المواريث.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (حمرة).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، هـ].
(٣) في [أ، جـ]: (يترك).

ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام وصیت کرنے سے پہلے مرجانے کو میراث کی آیات نازل ہونے سے پہلے تک ہی ناپسند کیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32987]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32987، ترقيم محمد عوامة 31583)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں