مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
17. في زوج وأم وأخوة وأخوات لأب (وأم) (وأخوات) وإخوة لأم من شرك بينهم
شوہر اور ماں اور بھائیوں اور حقیقی بہنوں اور ماں شریک بھائیوں اور بہنوں کے بیان میں، اور ان حضرات کا بیان جنہوں نے ان کو شراکت دار قرار دیا
ترقیم عوامۃ: 31744 ترقیم الشثری: -- 33172
٣٣١٧٢ - حدثنا ابن مبارك عن معمر عن سماك بن الفضل قال: سمعت وهبا يحدث عن الحكم بن مسعود قال: شهدت عمر اشرك الإخوة من الاب والام مع الإخوة من (الام) (١) في الثلث، فقال له رجل: قد قضيت في هذا عام الاول بغير هذا، قال: وكيف قضيت؟ (قال) (٢) : جعلته للإخوة للام ولم تجعل للإخوة من الاب والام شيئا، قال: ذلك على ما قضينا، و (هذا) (٣) على ما (نقضي) (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ]: (ال [ب]، وفي حاشيبة [ب] لعل الصواب من الأم وكلمات غير واضحة.
(٢) في [أ، ب]: (وقال).
(٣) في [م]: (وهذه).
(٤) في [جـ، م]: (قضينا).
(٥) مجهول؛ لجهالة الحكم بن مسعود.
حکم بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حقیقی بھائیوں کو ماں شریک بھائیوں کے ساتھ ایک تہائی مال میں برابر شریک کیا، ان سے ایک آدمی نے کہا کہ آپ نے اس جیسے ایک مسئلے میں گذشتہ سال کچھ اور فیصلہ دیا تھا، آپ نے پوچھا کہ میں نے کیا فیصلہ کیا تھا؟ اس نے کہا کہ آپ نے مال ماں شریک بھائیوں کو دے دیا تھا اور حقیقی بھائیوں کو کچھ نہیں دیا تھا، آپ نے فرمایا کہ وہ فیصلہ بھی اسی طرح درست تھا جس طرح ہم نے کیا تھا، اور یہ فیصلہ بھی اسی طرح درست ہے جس طرح ہم کر رہے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33172]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33172، ترقيم محمد عوامة 31744)
ترقیم عوامۃ: 31745 ترقیم الشثری: -- 33173
٣٣١٧٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم ان عمر وزيدا وابن مسعود كانوا يشركون في زوج وام وإخوة لام وابي واخوات لام يشركون بين الإخوة من الاب والام مع الإخوة للام في (سهم) (١) ، وكانوا يقولون: لم يزدهم الاب لا قربا ويجعلون ذكورهم وإناثهم فيه سواء (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م]: (بينهم).
(٢) منقطع؛ إبراهيم لم يدركهم.
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر، زید اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ م شوہر، ماں، حقیقی بھائیوں اور ماں شریک بہنوں کو مال میں برابر شریک کیا کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ ان کو باپ نے صرف قرابت داری کا ہی فائدہ پہنچایا ہے، اور وہ مردوں اور عورتوں کو برابر حصّہ دیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33173]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33173، ترقيم محمد عوامة 31745)
ترقیم عوامۃ: 31746 ترقیم الشثری: -- 33174
٣٣١٧٤ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في امراة تركت زوجها وامها وإخوتها لابيها (وامها وإخوتها (لامها) ) (١) (٢) ، فلزوجها النصف ثلاثة اسهم، ولامها السدس سهم، ولإخوتها لامها الثلث سهمان، ولم يجعل لإخوتها لابيها وامها من الميراث شيئا في قضاء علي، وشرك بينهم عمر وعبد الله وزيد بن ثابت بين الإخوة من الاب والام مع بني الام في الثلث الذي ورثوا غير انهم شركوا ذكورهم وإناثهم فيه سواء (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (لأبيها).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) منقطع؛ إبراهيم لم يدركهم.
حضرت ابراہیم نے ا س عورت کے بارے میں فرمایا جس نے موت کے وقت اپنے شوہر، ماں، حقیقی بھائی اور ماں شریک بھائی چھوڑے کہ اس کے شوہر کے تین حصّے یعنی کل مال کا نصف ہوگا اور اس کی ماں کے لئے ایک حصّہ یعنی کل مال کا چھٹا حصّہ ہوگا، اور اس کے ماں شریک بھائیوں کے لئے دو حصّے یعنی ایک تہائی مال ہوگا، اور آپ نے اس عورت کے باپ اور ماں کو میراث کا کوئی حصّہ نہیں دلایا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے جبکہ حضرت عمر اور عبد اللہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ م نے حقیقی بھائیوں کو ماں شریک بھائیوں کا شریک بنایا اس ایک تہائی مال میں جس کے وہ وارث ہوئے، سوائے اس بات کے کہ ان حضرات نے ان میں سے مردوں اور عورتوں کو برابر حصّہ دلایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33174]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33174، ترقيم محمد عوامة 31746)
ترقیم عوامۃ: 31747 ترقیم الشثری: -- 33175
٣٣١٧٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سليمان التيمي عن ابي مجلز ان عثمان شرك بينهم (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع، أبو ملجز لا يروي عن عثمان.
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی ان ورثاء کو برابر کا شریک بنا یا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33175]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33175، ترقيم محمد عوامة 31747)
ترقیم عوامۃ: 31748 ترقیم الشثری: -- 33176
٣٣١٧٦ - حدثنا ابو خالد عن حجاج عن ابن المنتشر عن شريح ومسروق انهما شركا اللإخوة من الاب والام مع الإخوة (من الام) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (للأم).
ابن المنتشر فرماتے ہیں کہ حضرت شریح اور مسروق نے بھی حقیقی بھائیوں کو ماں شریک بھائیوں کا شریک بنایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33176]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33176، ترقيم محمد عوامة 31748)
ترقیم عوامۃ: 31749 ترقیم الشثری: -- 33177
٣٣١٧٧ - حدثنا ابو خالد عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن سعيد بن المسيب بمثله، قال: ما زادهم الاب إلا قربا.
عمرو بن شعیب سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بھی ا س مسئلے میں ایسا ہی فیصلہ کیا، اور فرمایا کہ باپ نے صر ف ان میں قرابت کا ہی اضافہ کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33177]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33177، ترقيم محمد عوامة 31749)
ترقیم عوامۃ: 31750 ترقیم الشثری: -- 33178
٣٣١٧٨ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن ابن طاوس عن ابيه انه قال: لامها السدس، ولزوجها الشطر، والثلث بين الإخوة من الام والإخوة من الاب والام.
ابن طاؤس روایت کرتے ہیں کہ حضرت طاؤس نے فرمایا کہ اس میت کی ماں کو چھٹا حصّہ اور اس کے شوہر کو نصف مال دیا جائے گا۔ اور ایک تہائی ماں شریک بھائیوں اور حقیقی بھائیوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33178]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33178، ترقيم محمد عوامة 31750)
ترقیم عوامۃ: 31751 ترقیم الشثری: -- 33179
٣٣١٧٩ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن عبد الله بن محمد بن عقيل قال: ماتت ابنة للحسن بن الحسن، وتركت زوجها وامها (وإخوتها لامها) (١) ⦗٢٦٤⦘ وإخوتها لابيها وامها، فارتفعوا إلى عمر بن عبد العزيز، فاعطى الزوج النصف، والام السدس، واشرك بين الإخوة من الام والإخوة من الاب والام، وقال (للزوج) (٢) : امسك عن اترابك، ايلحق بهم سهم آخر حتى (ينظر) (٣) حبلى هي ام لا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب، جـ]: (الزوج).
(٣) في [أ، هـ]: (تنتظر).
عبد اللہ بن محمد بن عقیل فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن حسن کی ایک بیٹی فوت ہوگئی اور اس نے شوہر، ماں، ماں شریک بھائی اور حقیقی بھائی چھوڑے، انہوں نے معاملہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تک پہنچایا تو انہوں نے شوہر کو نصف مال اور ماں کو چھٹا حصّہ دیا، اور ماں شریک بھائیوں اور حقیقی بھائیوں کو برابر کا شریک بنایا، اور شوہر سے فرمایا کہ اپنے ہم عمروں سے رکے رہو کہ آیا ان کو ایک اور حصّہ ملتا ہے؟ یہاں تک کہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33179]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33179، ترقيم محمد عوامة 31751)
ترقیم عوامۃ: 31752 ترقیم الشثری: -- 33180
٣٣١٨٠ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم قال: كان عبد الله وعمر يشركان، (قال) (١) : و (كان) (٢) علي لا يشرك (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ].
(٢) سقط من: [أ].
(٣) منقطع؛ إبراهيم لم يدركهم.
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ اور عمر رضی اللہ عنہ ما ان کو برابر کا شریک رکھا کرتے تھے، فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کو برابر شریک نہیں بناتے تھے۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ چھے حصّوں سے نکلے گا شوہر کے لیے تین حصّے یعنی آدھا مال اور ماں کے لئے چھٹا حصّہ اور ماں شریک بھائیوں کے لئے ایک تہائی مال جو کہ دو حصّے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33180]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33180، ترقيم محمد عوامة 31752)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33181
٣٣١٨١ - قال ابو بكر: وهذه من ستة اسهم: للزوج النصف ثلاثة اسهم، وللام السدس وللإخوة من الام الثلث وهو سهمان.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33181، ترقيم محمد عوامة ---)