🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. رجل مات وترك خاله وابنة أخيه أوابنة (أخته)
اس آدمی کا بیان جو مرتے ہوئے اپنا ماموں اور ایک بھتیجی یا بھانجی چھوڑ جائے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31778 ترقیم الشثری: -- 33209
٣٣٢٠٩ - حدثنا وكيع قال ثنا زكريا عن عامر قال: سئل مسروق عن رجل مات وليس له وارث إلا خاله (و) (١) ابنة (اخيه) (٢) ، قال: للخال نصيب (اخته) (٣) ولابنة الاخ نصيب ابيها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (أو).
(٢) في [م]: (أخته).
(٣) في [ح، ط، هـ]: (أخيه).

حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جو اس حال میں مرا کہ اس کا سوائے ماموں اور بھتیجی کے کوئی وارث نہیں تھا۔ آپ نے فرمایا ماموں کے لیے اس کی بہن جتنا مال اور بھتیجی کے لیے اس کے باپ جتنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33209]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33209، ترقيم محمد عوامة 31778)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31779 ترقیم الشثری: -- 33210
٣٣٢١٠ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حبان قال: هلك (ابن دحداحة) (١) وكان ذا راي فيهم، فدعا رسول الله ﷺ عاصم بن عدي فقال:"هل كان (له) (٢) فيكم (نسب) (٣) "، قال: لا، ⦗٢٧١⦘ قال: فاعطى رسول الله ﷺ ميراثه ابن اخته ابا لبابة بن عبد المنذر (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (أبو جراحة)، وفي [م]: (أبو) وكلمة سقطة، وفي [جـ]: (ابن جراحة)، وفي حاشية [جـ]: (ثابت بن دحداحة ويقال ثابت بن الدحداح أيضًا).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب]: (سبب).
(٤) مرسل، منقطع حكمًا؛ واسع بن حبان تابعي، ومحمد بن إسحاق مدلس، أخرجه عبد الرزاق (١٩١٢٠)، والدارمي (٣٠٦٠)، وسعيد بن منصور ١/ (١٦٤)، والبيهقي ٦/ ٢١٥، والطحاوي ٤/ ٣٩٦، والحارث (بغية/ ٤٧٦).

حضرت واسع بن حبّان فرماتے ہیں کہ حضرت ابن دحداحہ رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے جو کہ صحابہ کرام میں صاحب رائے آدمی تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور پوچھا کہ کیا ان کی تمہارے ساتھ کوئی قرابت داری تھی؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی میراث ان کے بھانجے ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کو دے دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33210]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33210، ترقيم محمد عوامة 31779)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31780 ترقیم الشثری: -- 33211
٣٣٢١١ - حدثنا يحيى بن آدم عن وهيب عن ابن طاوس عن ابيه عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"الحقوا الفرائض باهلها، (فما) (١) بقي فهو لاولى رجل (٢) " (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (فيما).
(٢) في [هـ]: زيادة (ذكر).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٧٣٢)، ومسلم (١٦١٥).

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وراثتیں ان کے حق داروں کو پہنچا دو اور جو مال بچ جائے، وہ قریب ترین رشتہ دار کے لیے ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33211]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33211، ترقيم محمد عوامة 31780)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31781 ترقیم الشثری: -- 33212
٣٣٢١٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن رجل من اهل المدينة عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حبان قال: كان ثابت بن الدحداح رجلا اتيا يعني طارئا، وكان في بني انيف او في بني العجلان، فمات ولم يدع وارثا إلا ابن اخته ابا لبابة بن عبد المنذر، فاعطاه النبي ﷺ ميراثه (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل مجهول؛ واسع تابعي، والرجل المبهم مجهول، وانظر: ما سبق برقم [٣٣٢٥٩].
حضرت واسع ابن حبّان فرماتے ہیں کہ ثابت ابن دحداح رضی اللہ عنہایک اجنبی آدمی تھے وہ بنو انیف یا بنو عجلان کے علاقے میں رہتے تھے چناچہ وہ فوت ہوگئے اور اپنے بھانجے کے علاوہ کوئی وارث نہیں چھوڑا اور ان کا نام لبابہ بن عبد المنذر تھا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی میراث انہی کو دے دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33212]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33212، ترقيم محمد عوامة 31781)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں