مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
47. في رجل ترك جده وأخاه لأبيه وأمه وأخاه لأبيه
جب مرنے والا اپنا بھتیجا اور دادا چھوڑے
ترقیم عوامۃ: 31884 ترقیم الشثری: -- 33336
٣٣٣٣٦ - (١) حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في رجل ترك جده، واخاه لابيه، وامه واخاه لابيه، فللجد النصف، ولاخيه لابيه وامه النصف في قول علي وعبد الله، وكان زيد يعطي الجد الثلث والاخ من الاب والام الثلثين، قاسم بالاخ من الاب مع الاخ من الاب والام ولا يرث شيئا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [م]: (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك هؤلاء الصحابة.
حضرت ابراہیم اس آدمی کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنے دادا اور حقیقی بھائی اور باپ شریک بھائی کو چھوڑ کر مرجائے کہ دادا کے لئے آدھا مال ہوگا اور آدھا مال حقیقی بھائی کے لئے ہوگا، یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ دادا کو ایک تہائی مال دیتے تھے، اور حقیقی بھائی کو دو تہائی مال دیتے تھے، آپ نے تقسیم میں تو باپ شریک بھائی کو حقیقی بھائی کے ساتھ شریک کیا، لیکن باپ شریک بھائی کو وارث نہیں بنایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33336]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33336، ترقيم محمد عوامة 31884)
ترقیم عوامۃ: 31885 ترقیم الشثری: -- 33337
٣٣٣٣٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن الاعمش عن إبراهيم قال: كان عبد الله يقاسم بالجد الإخوة إلى الثلث، ويعطي كل صاحب فرض فريضته، ولا يورث الإخوة من الام مع الجد، (ولا يقاسم) (١) (بالإخوة) (٢) للاب الإخوة للاب والام (مع الجد) (٣) ، وإذا كانت اخت لاب وام (واخت) (٤) لاب وجد اعطى الاخت من الاب والام النصف والجد النصف، وكان علي يقاسم بالجد الإخوة إلى السدس، ويعطي كل صاحب فريضة فريضته، ولا يورث الإخوة من الام مع الجد، ⦗٣٠١⦘ (ولا يقاسم بالإخوة للاب الإخوة للاب والام) (٥) ، ولا يزيد الجد مع الولد (على) (٦) السدس إلا ان لا يكون غيره، فإذا كانت اخت لاب وام واخ لاب وجد اعطى الاخت النصف، وجعل النصف بين الجد والاخ، وكان زيد يقاسم بالجد الإخوة والاخوات إلى الثلث، فإذا بلغ الثلث اعطاه الثلث، وكان للإخوة والاخوات ما بقي، ولا يورث الإخوة من الام مع الجد ولا يقاسم بهم، وكان يقاسم الإخوة للاب الإخوة للاب والام ولا يورثهم شيئا، وإذا كانت اخت لاب وام واخ واخت لاب، وجد اعطى الاخت من الاب والام النصف، وقاسم الاخ والاخت الجد (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (ولا يقام).
(٢) في [أ، ب]: (الإخوة).
(٣) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٤) في [ط، هـ]: (أخ).
(٥) سقط من: [أ، ب، جـ، م].
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) منقطع؛ إبرهيم لم يدركهم.
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ مال کی تقسیم میں شریک کیا کرتے تھے، اور ہر حق دار کو اس کا حق دیا کرتے تھے، اور دادا کی موجودگی میں ماں شریک بھائی کو وارث نہیں بناتے تھے، اور دادا کے ساتھ حقیقی بھائیوں کی تقسیم میں شرکت کی صورت میں باپ شریک بھائی کو تقسیم کا حصّہ نہیں بناتے تھے، اور جب حقیقی بہن اور باپ شریک بہن اور دادا جمع ہوجاتے تو حقیقی بہن کو آدھا مال اور دادا کو بھی آدھا مال دلاتے تھے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ مال کی تقسیم میں چھٹے حصّے تک شریک بناتے تھے، اور ہر حق دار کو اس کا حق دلاتے، اور دادا کے ہوتے ہوئے ماں شریک بھائی کو وارث نہیں بناتے تھے، اور اولاد کے ہوتے ہوئے دادا کو مال کے چھٹے حصّے سے زیادہ نہیں دیتے تھے، الّا یہ کہ دادا کے علاوہ کوئی اور وارث موجود نہ ہو، پس جب حقیقی بہن اور باپ شریک بھائی اور بہن اور دادا جمع ہوجائیں تو حقیقی بہن کو آدھا مال دیتے اور بھائی اور بہن کو دادا کے ساتھ تقسیم میں شریک بناتے۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول میں دو حصّوں سے نکلے گا، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول میں تین حصّوں سے نکلے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33337]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33337، ترقيم محمد عوامة 31885)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33338
٣٣٣٣٨ - قال ابو بكر: فهذه في قول علي وعبد الله من سهمين وفي قول زيد من ثلاثة اسهم.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33338، ترقيم محمد عوامة ---)