🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

58. قول زيد في الجد وتفسيره
دادا کے بارے میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ کا فرمان اور اس کی وضاحت
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31912 ترقیم الشثری: -- 33384
٣٣٣٨٤ - حدثنا معاوية بن هشام قال: ثنا سفيان عن الاعمش عن إبراهيم قال: كان زيد يشرك الجد (إلى) (١) الثلث مع الإخوة والاخوات، فإذا بلغ الثلث اعطاه الثلث، وكان للإخوة والاخوات ما بقي. ولا (لاخ) (٢) لام ولا (لاخت) (٣) لام مع (جد) (٤) شيء. ويقاسم الإخوة من الاب الإخوة من الاب والام ولا يورثهم شيئا. فإذا كان اخ لاب وام، وجد، (اعطى) (٥) الجد النصف. وإذا كانا اخوين (٦) اعطاه الثلث، فإن زادوا اعطاه الثلث، وكان للإخوة ما بقي. ⦗٣١٨⦘ وإذا كانت اخت وجد اعطاه مع الإخوة الثلثين، وللاخت الثلث. وإذا كانتا اختين اعطاهما النصف، وله النصف، ما دامت المقاسمة خيرا له. فإن لحقت فرائض امراة (و) (٧) ام (و) (٨) زوج اعطى اهل الفرائض فرائضهم، وما بقي قاسم الإخوة والاخوات، فإن كان ثلث ما بقي خيرا له من المقاسمة اعطاه ثلث ما بقي، وإن كانت المقاسمة خيرا له (٩) اعطاه المقاسمة، وإن كان سدس جميع المال خيرا له من المقاسمة اعطاه السدس، وإن كانت المقاسمة خيرا له من (١٠) جميع المال اعطاه المقاسمة (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (في).
(٢) في [هـ]: (للأخ).
(٣) في [هـ]: (للأخت).
(٤) في [هـ]: (الجد).
(٥) في [ب]: (أعطاه).
(٦) في [هـ]: زيادة (وجد).
(٧) في [هـ]: (أو).
(٨) في [هـ]: (أو).
(٩) في [هـ]: زيادة (من ثلث ما بقي).
(١٠) في [هـ]: زيادة (سدس).
(١١) منقطع.

حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ایک تہائی تک مال کا وارث بناتے تھے، پس جب اس کا حصّہ ایک تہائی تک پہنچتا تو اس کو ایک تہائی عطا فرما دیا کرتے تھے، اور باقی مال بھائیوں اور بہنوں کا ہوتا تھا، اور آپ دادا کی موجودگی میں ماں شریک بھائی اور ماں شریک بہن کو کچھ نہیں دلاتے تھے، اور آپ باپ شریک بھائیوں کو حقیقی بھائیوں کے ساتھ تقسیم میں تو شریک فرماتے لیکن باپ شریک بھائیوں کو وراثت میں سے کچھ عطا نہیں فرماتے تھے، پس اگر حقیقی بہن اور دادا وارث ہوتے تو آپ آدھا مال دادا کو عطا فرماتے اور دو بھائی ہوتے تو آپ دادا کو ایک تہائی مال عطا فرماتے، پس اگر بھائی زیادہ ہوتے تو ایک تہائی مال دادا کو عطا فرماتے اور باقی مال بھائیوں کو دلاتے، اور جب ایک بہن اور دادا وارث ہوتے تو آپ دو تہائی مال دادا کو اور ایک تہائی مال بہن کو عطا فرماتے، اور اگر بہنیں دو ہوتیں تو آدھا مال بہنوں کو اور آدھا مال دادا کو عطا فرماتے جبکہ اس طرح باہم تقسیم سے شرکت دادا کے حق میں بہتر ہوتی، پس اگر اس کے ساتھ دوسرے حصّہ داروں یعنی بیوی، ماں اور شوہر کے حصّے آجاتے تو پہلے ان حصّہ داروں کو ان کے حصّے دلواتے اور بقیہ مال بھائیوں اور بہنوں کے درمیان تقسیم فرما دیتے، اس طرح اگر دادا کے لئے بقیہ مال کا ایک تہائی بہتر ہو تو اس کو بقیہ مال کا ایک تہائی عطا فرماتے، اور اگر تقسیم میں باہمی شرکت اس کے لئے بہتر ہوتی تو ایسا ہی کرتے، اور اگر پورے مال کا چھٹا حصّہ اس کے لئے تقسیم میں شرکت سے بہتر ہوتا تو وہی اس کو عطا فرماتے، اور اگر چھٹے سے زیادہ بہتر دادا کے لئے تقسیم میں شرکت ہوتی تو اس کو تقسیم میں شریک فرمایا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33384]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33384، ترقيم محمد عوامة 31912)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں