🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

57. في هذه الفرائض المجتمعة من الجد والإخوة والأخوات
ان مسائل کا بیان جن میں دادا، بھائی اور بہنیں موجود ہوتی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31911 ترقیم الشثری: -- 33383
٣٣٣٨٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا محمد بن سالم عن الشعبي: في اخت (لاب وام) (١) واخ واخت لاب وجد: في قول علي للاخت من الاب والام النصف، وما بقي فبين الجد والاخت والاخ من الاب على: الاخماس: للجد خمسان، وللاخت خمس. ⦗٣١٣⦘ وفي قول عبد الله: للاخت من الاب والام النصف، وللجد ما بقي، وليس للاخ والاخت من الاب شيء. وفي قول زيد: من ثمانية عشر سهما: للجد الثلث ستة، وللاخ من الاب ستة، (وللاخت من الاب ثلاثة) (٢) ، وللاخت من الاب والام ثلاثة (٣) ثم (ترد) (٤) (الاخت والاخ) (٥) من الاب على الاخت من الاب والام ستة اسهم، فاستكملت النصف تسعة، وبقي (لهما) (٦) ثلاثة اسهم: للاخ سهمان وللاخت سهم. و (٧) (في اختين) (٨) لاب (وام) (٩) واخ لاب وجد: في قول علي: للاختين من الاب والام الثلثان، وما بقي فبين الجد والاخ. وفي قول عبد الله: للاختين من الاب والام الثلثان، وللجد ما بقي، وليس للاخ من الاب شيء. وفي قول زيد: هي ثلاثة اسهم: للجد سهم، وللاخ سهم وللاختين سهم، ثم يرد الاخ من الاب (على الاختين من) (١٠) الاب والام (سهامهما) (١١) (فتستكملان) (١٢) الثلثين، ولم يبق له شيء. ⦗٣١٤⦘ وفي اختين لاب وام، واخت لاب، وجد: في قول علي وعبد الله للاختين (١٣) (للاب والام) (١٤) الثلثان، وما بقي للجد وليس للاخت من الاب شيء. وفي قول زيد: من خمسة اسهم: للجد سهمان، وللاختين من الاب والام سهمان، وللاخت من الاب سهم، ثم ترد الاخت من الاب على الاختين من الاب والام (سهمهما) (١٥) ، ولم يبق لها شيء. وفي اختين لاب وام (واخ) (١٦) واخت لاب وجد: في قول علي: (للاختين) (١٧) من الاب والام الثلثان، وللجد السدس، وما بقي فبين الاخت والاخ من الاب للذكر مثل حظ الانثيين. وفي قول عبد الله: للاختين من الاب والام الثلثان، وللجد ما بقي، وليس للاخ والاخت من الاب شيء. وفي قول زيد: من خمسة عشر سهما: للجد الثلث خمسة (اسهم) (١٨) ، وللاخ من الاب اربعة، وللاخت من الاب سهمان، وللاختين من الاب والام اربعة (اسهم) (١٩) ، ثم يرد الاخ والاخت من الاب على الاختين من الاب نصيبهما، ⦗٣١٥⦘ (تستكملان) (٢٠) (الثلثين) (٢١) ولم يبق لهما شيء. وفي اختين لاب وام واختين لاب وجد: في قول علي وعبد الله: للاختين من الاب والام الثلثان، وللجد ما بقي، وليس للاختين من الاب شيء. وفي قول زيد: من ستة اسهم: للجد سهمان، وللاختين من الاب والام سهمان ( (وللاختين) (٢٢) من الاب سهمان، ثم ترد الاختان من الاب على الاختين من الاب والام) (٢٣) (سهميهما) (٢٤) (فتستكملان) (٢٥) الثلثين، ولم يبق لهما شيء. وفي اخت لاب وام، وثلاث اخوات لاب، وجد: في قول (علي) (٢٦) وعبد الله: للاخت من الاب والام النصف، (وللاخوات) (٢٧) من (الاب) (٢٨) السدس (تكملة) (٢٩) الثلثين، وللجد ما بقي. ⦗٣١٦⦘ (و) (٣٠) في قول زيد: (من) (٣١) ثمانية عشر سهما: (للجد الثلث ستة، وللاخت من الاب والام ثلاثة اسهم، وللاخوات) (٣٢) من الاب تسعة اسهم: ثم (ترد) (٣٣) الاخوات من الاب على الاخت من (الاب والام ستة) (٣٤) اسهم، فاستكملت النصف تسعة، و (ما) (٣٥) بقي لهن سهم سهم. وفي اختين لاب وام، واخ واختين لاب، وجد: في قول علي: للاختين من الاب والام الثلثان، وللجد السدس، وما بقي فبين الاخ والاختين من الاب للذكر مثل حظ الانثيين. وفي قول عبد الله: للاختين من الاب والام الثلثان، وللجد ما بقي، وليس للاخ والاختين من الاب شيء. وفي ام، واخت، وجد: في قول علي: للاخت النصف، وللام (ثلث ما بقي) (٣٦) وللجد ما بقي. وفي قول زيد: من تسعة اسهم: للام الثلث ثلاثة، وللجد اربعة، وللاخت سهمان، جعله معهما بمنزلة الاخ. وفي قول عثمان: للام الثلث، وللجد الثلث، وللاخت الثلث. ⦗٣١٧⦘ وفي قول ابن عباس: للام الثلث، وللجد (٣٧) ما بقي، (و) (٣٨) ليس للاخت شيء لم يكن يورث اخا واختا مع جد شيئا (٣٩) (٤٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م]: تقديم وتأخير هكذا (لأم وأب).
(٢) سقط من: [جـ]، وفي [هـ]: (وللأخت من الأب والأم ثلاثة).
(٣) في [هـ]: زيادة (وللأخت من الأب، الأخ والأخت ثلاثة).
(٤) في [أ، هـ]: (يرد).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [أ، ب، جـ]: (لها).
(٧) في [أ، ب، جـ، م]: زيادة (بقي).
(٨) في [أ، ب، جـ، م]: (أختان).
(٩) سقط من: [أ، ب، جـ، م].
(١٠) زيادة في (ب): (على الأختين من).
(١١) في [هـ]: (سهمه).
(١٢) في [أ، ب، جـ، م]: (فيستكملان).
(١٣) زيادة في [أ]: (من).
(١٤) في [أ، ب]: تقديم وتأخير هكذا: (للأم والأب).
(١٥) في [جـ، م]: (سهمها)
(١٦) سقط من: [أ، ب].
(١٧) في [أ، ب]: (في الأختين).
(١٨) سقط من: [م].
(١٩) زيادة (أسهم) من: [م].
(٢٠) في [أ، ب، جـ، م]: (يستكملان).
(٢١) في [أ، ط، هـ]: (الثلث).
(٢٢) في [أ، ب، جـ]: (وللأخت).
(٢٣) ما بين القوسين مكرر في: [أ، ب، جـ].
(٢٤) في [أ، ب، جـ]: (سهمان).
(٢٥) في [أ، ب، جـ، م]: (فيستكملان).
(٢٦) سقط من: [أ، ب].
(٢٧) في [ب]: (الأخوات).
(٢٨) في [هـ]: (ثلاث).
(٢٩) سقط من: [جـ].
(٣٠) سقط من: [جـ].
(٣١) زيادة من: [أ، ب، جـ، م].
(٣٢) تكرر ما بين القوسين في: [هـ].
(٣٣) في [م]: (يرد).
(٣٤) سقط من: [جـ].
(٣٥) سقط من: [أ، ب، جـ، م].
(٣٦) في [هـ]: (الثلث).
(٣٧) في [أ، ب، جـ، م]: زيادة (الثلث).
(٣٨) سقط من: [هـ].
(٣٩) في [هـ]: زيادة (وفي قول ابن مسعود: للأخت النصف وللأم السدس، وللجد الثلث).
(٤٠) ضعيف جدًا؛ محمد بن سالم متروك.

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ: (١) حقیقی بہن، باپ شریک بھائی اور بہن اور دادا کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ حقیقی بہن کے لئے آدھا مال ہے اور بقیہ مال دادا اور باپ شریک بھائی اور بہن کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ مال کے پانچ حصّے کیے جائیں گے، ان میں سے دو حصّے دادا کو اور ایک حصّہ بہن کو دیا جائے گا، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق حقیقی بہن کے لئے آدھا مال اور دادا کے لئے بقیہ مال ہے، اور باپ شریک بھائی اور بہن کے لئے کچھ نہیں، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق یہ مسئلہ اٹھارہ حصّوں سے نکالا جائے گا، دادا کو چھ حصّے یعنی ایک تہائی مال، باپ شریک بھائی کو چھ حصّے، باپ شریک بہن کو تین حصّے اور حقیقی بہن کو تین حصّے دیے جائیں گے، پھر باپ شریک بھائی اور بہن چھ حصّے حقیقی بہن پر لوٹائیں گے، اس طرح حقیقی بہن کا حصّہ نو حصّے یعنی آدھا مال ہوجائے گا، اور باپ شریک بھائی بہن کے لئے تین حصّے بچیں گے، دو حصّے بھائی کے لئے اور ایک حصّہ بہن کے لئے ہوگا۔ (٢) اور دو حقیقی بہنوں، ایک باپ شریک بھائی اور دادا کے مسئلے کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حقیقی بہنوں کے لئے دو تہائی مال ہے اور بقیہ مال دادا اور بھائی کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو حقیقی بہنوں کے لئے دو تہائی مال ہے اور بقیہ مال دادا کے لئے ہے، اور باپ شریک بھائی کے لئے کچھ نہیں، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق مال تین حصّوں میں تقسیم کیا جائے گا، ایک حصّہ دادا کے لئے، ایک بھائی کے لئے اور ایک حصّہ دو بہنوں کے لئے، پھر باپ شریک بھائی دو حقیقی بہنوں پر اپنا حصّہ لوٹا دے گا، اس طرح بہنوں کا دو تہائی حصّہ پورا ہوجائے گا اور بھائی کے لئے کچھ نہیں بچے گا۔ (٣) اور دو حقیقی بہنوں، ایک باپ شریک بہن اور دادا کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دونوں حقیقی بہنوں کے لئے دو تہائی مال ہے اور بقیہ مال دادا کے لئے ہے، اور باپ شریک بہن کے لئے کچھ نہیں، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مال پانچ حصّوں میں تقسیم کیا جائے گا، دو حصّے دادا کے لئے، دو حصّے دونوں حقیقی بہنوں کے لئے اور ایک حصّہ باپ شریک بہن کے لئے، پھر باپ شریک بہن دونوں حقیقی بہنوں پر اپنا حصّہ لوٹا دیں گی اور اس کے لئے کچھ نہیں رہے گا۔ (٤) اور دو حقیقی بہنوں، ایک باپ شریک بھائی اور بہن اور دادا کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دونوں حقیقی بہنوں کے لئے دو تہائی مال اور دادا کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہے، اور بقیہ مال دونوں باپ شریک بہن اور بھائی کے درمیان اس ضابطے پر تقسیم ہوگا کہ مرد کو عورت سے دوگنا دیا جائے گا، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دونوں حقیقی بہنوں کے لئے دو تہائی مال ہے اور دادا کے لئے بقیہ مال، اور باپ شریک بھائی اور بہن کے لئے کچھ نہیں، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مال کو پندرہ حصّوں میں تقسیم کیا جائے گا، دادا کے لئے پانچ حصّے ایک تہائی مال، باپ شریک بھائی کے لئے چار حصّے، باپ شریک بہن کے لئے دو حصّے اور دو حقیقی بہنوں کے لئے چار حصّے، پھر باپ شریک بھائی اور بہن دونوں حقیقی بہنوں پر اپنا حصّہ لوٹا دیں گے، اس طرح ان کا دو تہائی حصّہ ہوجائے گا اور باپ شریک بھائی بہن کے لئے کچھ نہیں ہوگا۔ (٥) اور دو حقیقی بہنوں اور دو باپ شریک بہنوں اور دادا کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو حقیقی بہنوں کے لئے دو تہائی مال ہے اور باقی مال دادا کے لئے ہے، اور باپ شریک بہنوں کے لئے کچھ نہیں، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مال چھ حصّوں میں تقسیم کیا جائے گا دو حصّے دادا کے لئے، دو حصّے دو حقیقی بہنوں کے لئے اور دو حصّے دو باپ شریک بہنوں کے لئے، پھر باپ شریک بہنیں حقیقی بہنوں پر اپنے حصّے لوٹا دیں گی، اس طرح حقیقی بہنوں کا دو تہائی مال پورا ہوجائے گا اور باپ شریک بہنوں کے لئے کچھ نہیں بچے گا۔ (٦) اور حقیقی بہن اور تین باپ شریک بہنوں اور دادا کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حقیقی بہنوں کے لئے آدھا مال اور باپ شریک بہنوں کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہے دو تہائی مال پورا کرنے کے لئے، اور بقیہ مال دادا کے لئے ہے، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مال اٹھارہ حصّوں میں تقسیم کیا جائے گا: چھ حصّے دادا کے لئے، تین حصّے حقیقی بہن کے لئے اور نو حصّے باپ شریک بہنوں کے لئے ہیں، پھر باپ شریک بہنیں حقیقی بہن پر چھ حصّے لوٹا دیں گی، اس طرح حقیقی بہن کو حصّہ آدھا مال ہوجائے گا، اور باپ بہنوں کے لئے ایک حصّہ بچے گا۔ (٧) اور دو حقیقی بہنوں اور ایک باپ شریک بھائی اور دو باپ شریک بہنوں اور دادا کے مسئلے کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ دونوں حقیقی بہنوں کو دو تہائی مال اور دادا کو مال کا چھٹا حصّہ دیا جائے گا، اور باقی مال باپ شریک بھائی اور بہنو [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33383]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33383، ترقيم محمد عوامة 31911)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں