مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
77. في ولد الزنا لمن ميراثه
اس بات کا بیان کہ ولد الزنا کی میراث کس کو ملے گی؟
ترقیم عوامۃ: 32006 ترقیم الشثری: -- 33487
٣٣٤٨٧ - حدثنا عبد السلام عن مغيرة عن إبراهيم (قال: ميراث) (١) اللقيط بمنزلة اللقطة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، هـ]، وسيأتي برقم [٣٣٧٢٧].
مغیرہ حضرت ابراہیم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ راستے میں ملنے والے بچے کی میراث کا حکم وہی ہے جو راستے میں ملنے والے مال کا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33487]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33487، ترقيم محمد عوامة 32006)
ترقیم عوامۃ: 32007 ترقیم الشثری: -- 33488
٣٣٤٨٨ - حدثنا عبد السلام عن الحارث بن (حصيرة) (١) عن زيد بن وهب قال: لما (رجم) (٢) علي المراة، قال لاهلها: هذا ابنكم ترثونه ولا (٣) يرثكم، وإن (جنى جناية) (٤) فعليكم (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (حصين)، وفي [هـ]: (حضيرة)، وانظر: ما تقدم برقم [٢٩٨٢٨].
(٢) في [أ، ب، جـ]: سقط النقطة: (رحم).
(٣) تقدم في كتاب الديات باب [٢١٣] بدون حرف النفي، والصواب إثباتها كما هنا، وانظر: كنز العمال ١١/ ٣٧، المغني ٦/ ٢٢٦، والكافي لابن قدامة ٢/ ٥٢٩.
(٤) في [ب]: (خبا خباية).
(٥) ضعيف؛ لضعف الحارث بن حصيرة.
زید بن وھب فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عورت کو سنگسار کیا تو اس عورت کے ورثاء کو فرمایا کہ یہ تمہارا بیٹا ہے، تم اس کے وارث ہو گے اور وہ تمہارا وارث ہوگا، اور اگر یہ کوئی جر م کرے تو اس کا تاوان تم پر ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33488]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33488، ترقيم محمد عوامة 32007)
ترقیم عوامۃ: 32008 ترقیم الشثری: -- 33489
٣٣٤٨٩ - حدثنا عباد (بن العوام) (١) عن محمد بن سالم عن الشعبي عن علي وعبد الله في ابن الملاعنة امه عصبته، وعصبتها عصبته، وولد الزنا بمنزلته (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، م].
(٢) ضعيف جدًا؛ محمد بن سالم متروك.
شعبی روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کے بارے میں فرمایا کہ اس کی ماں اور اس کی ماں کے عصبہ اس بچے کے عصبہ ہیں اور ولد الزنا (حرامی) کا حکم بھی وہی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33489]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33489، ترقيم محمد عوامة 32008)
ترقیم عوامۃ: 32009 ترقیم الشثری: -- 33490
٣٣٤٩٠ - حدثنا عباد عن عمر بن عامر عن حماد عن إبراهيم قال: ميراثه كله لامه يعني ابن الملاعنة، ويعقل (عنه) (١) عصبتها، وكذلك ولد الزنا، وولد النصراني وامه مسلمة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عنها).
حماد روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کی تمام وراثت اس کی ماں کے لئے ہے اور اس کے جرم کا تاوان اس کے عصبہ ادا کریں گے اور حرامی بچے کا، اور اس نصرانی کے بچے کا جس کی ماں مسلمان ہو یہی حکم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33490]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33490، ترقيم محمد عوامة 32009)
ترقیم عوامۃ: 32010 ترقیم الشثری: -- 33491
٣٣٤٩١ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري قال: ولد الملاعنة وولد الزنا يتوارثان من قبل الام.
معمر روایت کرتے ہیں کہ زہری نے فرمایا کہ لعان کرنے والی عورت کا بیٹا اور حرامی بچّہ، دونوں اپنی ماں کی جانب سے رشتہ داروں کے وارث ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33491]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33491، ترقيم محمد عوامة 32010)
ترقیم عوامۃ: 32011 ترقیم الشثری: -- 33492
٣٣٤٩٢ - حدثنا حفص عن (عمرو) (١) عن الحسن قال: ولد الزنا بمنزلة ابن الملاعنة، او ابن الملاعنة بمنزلة ولد الزنا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (عمر).
عمرو راوی ہیں کہ حضرت حسن نے فرمایا کہ حرامی بچے کا وہی حکم ہے جو لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کا حکم ہے، یا یہ فرمایا کہ لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کا وہی حکم ہے جو حرامی بچے کا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33492]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33492، ترقيم محمد عوامة 32011)
ترقیم عوامۃ: 32012 ترقیم الشثری: -- 33493
٣٣٤٩٣ - حدثنا وكيع عن الاشعث عن الشعبي قال: كتب هشام بن هبيرة إلى شريح يساله عن ميراث ولد الزنا، فكتب إليه: ارفعه إلى السلطان (فليل) (١) حزونته وسهولته.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (قليل)، وانظر: أخبار القضاة ١/ ٣٠١.
شعبی فرماتے ہیں کہ ابن ہبیرہ نے بذریہ خط حضرت شریح سے حرامی بچے کی میراث کے بارے میں سوال کیا کہ تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا معاملہ بادشاہ تک پہنچاؤ کہ اس کی کفالت کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33493]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33493، ترقيم محمد عوامة 32012)
ترقیم عوامۃ: 32013 ترقیم الشثری: -- 33494
٣٣٤٩٤ - حدثنا يحيى بن آدم عن إبراهيم عن الحسن بن الحارث عن الحكم قال: ولد الزنا وولد (المتلاعنين) (١) ترثهما امهما واخوالهما.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (الملاعنين).
حسن بن حرّ حضرت حکم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ حرامی اور لعان کرنے والوں کی ماں اور اس کے ننھیال اس کے وارث ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33494]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33494، ترقيم محمد عوامة 32013)