🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

99. في امرأة أعتقت مملوكا (ثم مات): لمن يكون ولاؤه؟
اس عورت کا بیان جو غلام کو آزاد کرے پھر وہ مر جائے، کہ اس کی ولاء کس کے لئے ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32168 ترقیم الشثری: -- 33657
٣٣٦٥٧ - حدثنا ابو داود الطيالسي عن حماد بن الجعد عن قتادة ان امراة اعتقت مملوكا لها ثم مات لمن يكون ولاؤه، لعصبتها او لعصبة (ابنها) (١) ، قال: كان الحسن وسعيد بن المسيب (يقولان) (٢) : هو لعصبة الغلام.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة (معه) من: [جـ، م].
(٢) في [أ، ب، جـ]: (يقولون).

قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے غلام کو آزاد کیا، پھر وہ مرگیا، اس کی ولاء اس کے عصبہ کے لئے ہے یا اس کے بیٹے کے لئے ہے؟ فرمایا کہ حسن اور سعید بن مسیب فرماتے تھے کہ وہ غلام کے عصبہ کے لئے ہوگی، قتادہ کہتے ہیں کہ مجھے خلاس نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو غلام کے عصبہ کے لئے ہی بنایا ہے، اور ہمیں صالح بن الخلیل نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہی بات فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33657]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33657، ترقيم محمد عوامة 32168)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33658
٣٣٦٥٨ - [قال قتادة: وحدثني خلاس ان عليا جعله لعصبة الغلام] (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٢) ضعيف؛ لضعف حماد بن الجعد.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33658، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33659
٣٣٦٥٩ - قال: وحدثنا صالح بن الخليل ان ابن عباس قال ذلك (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف حماد بن الجعد.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33659، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32169 ترقیم الشثری: -- 33660
٣٣٦٦٠ - حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم عن الشعبي قال: سمعته يقول: ولد المراة الذكر احق بميراث مواليها من عصبتها، وإن كان (جناية) (١) فعلى عصبتها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (خباية).
اسماعیل بن سالم فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی کو فرماتے سنا کہ عورت کی مذکر اولاد اس کے موالی کی میراث کی زیادہ حق دار ہے اس کے عصبہ کی بنسبت، اور اگر کوئی جنایت ہو تو وہ ا س کے عصبہ پر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33660]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33660، ترقيم محمد عوامة 32169)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32170 ترقیم الشثری: -- 33661
٣٣٦٦١ - حدثنا حميد عن حسن عن فراس عن الشعبي عن شريح في امراة اعتقت رجلا ثم (ماتت) (١) ، قال: الولاء لولدها والعقل عليهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (مات).
شریح اس عورت کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے کسی آدمی کو آزاد کیا پھر مرگئی، کہ ولاء اس کی اولاد کے لئے ہے اور دیت ان سب پر ہے، کہتے ہیں کہ عامر بھی فرماتے تھے کہ ولاء اس کی اولاد کے لئے ہے اور دیت ان سب پر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33661]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33661، ترقيم محمد عوامة 32170)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33662
٣٣٦٦٢ - قال: وكان عامر يقول: الولاء لولدها والعقل عليهم.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33662، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32171 ترقیم الشثری: -- 33663
٣٣٦٦٣ - حدثنا ابو اسامة (قال: حدثنا) (١) حسين المعلم عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده قال: تزوج رئاب بن حذيفة بن سعيد بن سهم ام وائل ابنة (معمر) (٢) الجمحية، فولدت له ثلاثة، فتوفيت امهم، فورثها بنوها رباعها وولاء مواليها (فخرج) (٣) بهم عمرو بن العاص (معه) (٤) إلى الشام فماتوا في طاعون عمواس، قال: فورثهم عمرو، وكان عصبتهم فلما رجع عمرو (جاء) (٥) بنو ⦗٣٧٥⦘ (معمر) (٦) (فخاصموه) (٧) في ولاء (اختهم) (٨) إلى عمر بن الخطاب فقال عمر: اقضي بينكم بما سمعت من رسول الله ﷺ، سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ما احرز الولد او الوالد فهو لعصبته من كان"، قال: فقضى (لنا به) (٩) وكتب لنا كتابا، فيه (شهادة) (١٠) عبد الرحمن بن عوف وزيد بن ثابت وآخر، حتى إذا استخلف عبد الملك بن مروان (توفي) (١١) مولى (لها) (١٢) وترك الفي دينار، فبلغني ان ذلك القضاء قد غير، (فخاصموا) (١٣) إلى هشام بن إسماعيل، (فرفعنا) (١٤) إلى عبد الملك فاتيناه (بكتاب) (١٥) عمر فقال: إن كنت لارى ان هذا من القضاء الذي لا يشك فيه، وما كنت ارى ان امر (١٦) المدينة بلغ هذا ان يشكوا في هذا القضاء، فقضى لنا (به) (١٧) فلم (نزل) (١٨) فيه بعد (١٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (عن).
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: (يعمر).
(٣) في [م]: (فجرج).
(٤) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٥) في [أ، ب، هـ]: (جاءوا).
(٦) في [أ، ب، جـ، م]: (يعمر).
(٧) في [م]: (فجاصموه).
(٨) في [أ، ب، جـ، م]: (أخيهم).
(٩) في [أ، ب]: (لبابة).
(١٠) في [أ]: (بشهادة).
(١١) في [أ، ب]: (مات).
(١٢) في [أ، ب، جـ]: (لنا).
(١٣) في [هـ]: (فخاصموا).
(١٤) في [أ، ب]: (فدعا)، وفي [جـ]: (فدفعنا)، وفي [م]: (فرجعنا).
(١٥) في [أ، ب، جـ]: (كتاب).
(١٦) زاد في [هـ]: (أهل).
(١٧) في [أ، جـ، ط، هـ]: (فيه).
(١٨) في [ب]: (يزل).
(١٩) حسن؛ شعيب صدوق، أخرجه أحمد (١٨٣)، وأبو داود (٢٩١٧)، وابن ماجه (٢٧٣٢)، والنسائي في الكبرى (٦٣٤٨)، وابن عساكر ٦٢/ ٣٩٦، والفاكهي في أخبار مكة (٢٠٨١)، وابن عبد البر في التمهيد ٣/ ٦١.

عمرو بن شعیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، فرمایا کہ رئاب بن حذیفہ رضی اللہ عنہ بن سعید بن سہم نے امّ وائل بنت معمر جُمحیّہ سے نکاح کیا تو ان کے تین بچے ہوئے، پھر ان کی ماں فوت ہوگئی تو اس کے بیٹے اس کے مال کے وارث ہوئے اور اس کے موالی کی ولاء کے بھی، پھر عمرو بن العاص ان کو شام کی طرف لے گئے تو وہ طاعونِ عَمَواس میں مرگئے، کہتے ہیں کہ اس پر عمرو ان کے وارث ہوئے جو ان کے عصبہ تھے، جب عمرو واپس آئے تو معمر کے بیٹے آئے اور اپنی بہن کی ولاء میں جھگڑا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے، حضرت عمر نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان وہ فیصلہ کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مال لڑکا یا والد جمع کرلے وہ اس کے عصبہ کے لئے ہے جو بھی ہوں، کہتے ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے اس کا ہمارے لئے فیصلہ کردیا اور ہمارے لیے ایک تحریر لکھ دی جس میں عبد الرحمن بن عوف اور زید بن ثابت اور دوسرے حضرات کی گواہی تھی۔ یہاں تک کہ جب عبد الملک بن مروان خلیفہ بنا تو اس لڑکی کا ایک مولیٰ فوت ہوگیا، اور اس نے دو ہزار دینار چھوڑے، پس مجھے خبر پہنچی کہ وہ فیصلہ تبدیل کردیا گیا، چناچہ وہ ہشام بن اسماعیل کی طرف جھگڑا لے کر گئے تو ہم نے یہ معاملہ عبد الملک کی طرف اٹھا یا اور اس کے پاس حضرت عمر کی تحریر لائے، اس نے کہا کہ میں تو اس کو ایسا فیصلہ سمجھتا ہوں جس میں شک نہیں کیا جاسکتا، اور میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ اہل مدینہ کا معاملہ اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ وہ اس فیصلہ میں شک کریں، پس اس نے اس کے بارے میں ہمارے لیے فیصلہ کردیا اور ہم بعد میں اس فیصلے پر قائم رہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33663]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33663، ترقيم محمد عوامة 32171)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32172 ترقیم الشثری: -- 33664
٣٣٦٦٤ - حدثنا يحيى بن (آدم) (١) قال: ثنا مندل عن الاعمش عن إبراهيم قال: قال علي في (المراة) (٢) تعتق الرجل: الولاء لولدها وولد ولدها ما بقي منهم ذكر، (فإن) (٣) انقرضوا رجع إلى عصبتها (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، م، هـ]: (أزهر).
(٢) في [هـ]: (امرأة).
(٣) في [جـ]: (فإذا).
(٤) ضعيف منقطع؛ مندل فيه ضعف، وإبراهيم لم يدرك عليًا.

ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے بارے میں فرمایا جو آدمی کو آزاد کرے کہ ولاء اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد کے لئے ہے جب تک ان میں مذکر باقی رہے، جب وہ ختم ہوجائیں تو ولاء اس عورت کے عصبہ کی طرف لوٹ آئے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33664]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33664، ترقيم محمد عوامة 32172)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں