🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. ما ذكر في موسى ﵇ من الفضل
وہ فضائل جو موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نقل کیے گئے ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32506 ترقیم الشثری: -- 34009
٣٤٠٠٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس ﴿وقربناه نجيا﴾ [مريم: ٥٢] ، حتى سمع صريف القلم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٢/ ٤٣٨، وابن جرير ١٦/ ٩٤، وهناد (١٤٩)، وابن النحاس في معاني القرآن ٤/ ٣٣٧، وعبد اللَّه بن أحمد في السنة (١٢٣١).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے { وَقَرَّبْنَاہُ نَجِیًّا } کے تحت منقول ہے کہ اتنا قریب ہوگئے کہ انہوں نے قلموں کے چلنے کی آواز سنی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34009]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34009، ترقيم محمد عوامة 32506)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32507 ترقیم الشثری: -- 34010
٣٤٠١٠ - حدثنا وكيع عن ابي معشر عن محمد بن كعب قال: سئل رسول الله ﷺ اي الاجلين قضى موسى ﵇؟ قال:"اوفاهما واتمهما" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل ضعيف؛ أبو معشر نجيح ضعيف، ومحمد بن كعب القرظي تابعي.
حضرت محمد بن کعب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے دو، مدتوں میں سے کس مدت کو پورا کیا؟ فرمایا کہ ان میں سے بڑی اور کامل مدت کو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34010]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34010، ترقيم محمد عوامة 32507)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32508 ترقیم الشثری: -- 34011
٣٤٠١١ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: سئل اي الاجلين قضى موسى؟ قال: (اتمهما) (١) ] (٢) وآخرهما (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (أتمها).
(٢) سقط من: [م].
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٦٨٤)، والنسائي والحميدي (٣٥)، والحاكم ٢/ ٤٠٧، وأبو يعلى (٢٤٠٨)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٦٩٠، والبزار (٢٢٤٥/ كشف)، والبيهقي ٦/ ١١٧، والبغوي ٣/ ٤٤٣، وابن جرير ٢٠/ ٦٨، والثعلبي ٧/ ٢٤٧، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ٢١٧، وابن عساكر ٦١/ ٣٨.

حضرت ابن عبا س سے روایت ہے کہ آپ سے سوال کیا گیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے دو، مدتوں میں سے کس مدت کو پورا کیا؟ فرمایا کہ ان میں سے بڑی اور کامل مدت کو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34011]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34011، ترقيم محمد عوامة 32508)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32509 ترقیم الشثری: -- 34012
٣٤٠١٢ - حدثنا ابو معاوية قال: ثنا الاعمش عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس في قوله: ﴿لا تكونوا كالذين آذوا موسى فبراه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها﴾ قال: قال له قومه: إنه آدر، قال: فخرج ذات يوم يغتسل فوضع ثيابه على صخرة فخرجت الصخرة تشتد بثيابه وخرج يتبعها عريانا حتى انتهت به إلى مجالس ⦗٥٠٦⦘ بني إسرائيل، قال: فراوه ليس بآدر (قال) (١) : (فذاك) (٢) قوله: ﴿فبراه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها﴾ (٣) [الاحزاب: ٦٩] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (أخبر).
(٢) في [م]: (فذلك).
(٣) صحيح؛ أخرجه ابن جرير ٢٢/ ٥١، وابن عساكر ٦١/ ١٧٢.

سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ کے فرمان { لاَ تَکُونُوا کَالَّذِینَ آذَوْا مُوسَی فَبَرَّأَہُ اللَّہُ مِمَا قَالُوا وَکَانَ عِنْدَ اللہِ وَجِیہًا } کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ آپ کی قوم نے آپ سے کہا کہ آپ کو ”اُدرہ“ بیماری ہے، چناچہ ایک دن آپ غسل کے لئے نکلے تو آپ نے اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے چناچہ وہ پتھر ان کے کپڑوں کو لے کر بھاگنے لگا، اور آپ برہنہ اس کا پیچھا کرنے لگے، یہاں تک کہ وہ پتھر آپ کو بنی اسرائیل کی مجلس میں لے گیا، چناچہ انہوں نے دیکھا کہ ان کو ”اُدرہ“ بیماری نہیں، کہتے ہیں کہ یہی اللہ کے فرمان { فَبَرَّأَہُ اللَّہُ مِمَا قَالُوا وَکَانَ عِنْدَ اللہِ وَجِیہًا } کا معنی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34012]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34012، ترقيم محمد عوامة 32509)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32510 ترقیم الشثری: -- 34013
٣٤٠١٣ - حدثنا ابو اسامة قال ثنا عوف عن الحسن وخلاس بن عمرو ومحمد عن ابي هريرة في قوله: ﴿ياايها الذين آمنوا لا تكونوا كالذين آذوا موسى فبراه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها﴾ قال: كان من اذاهم إياه ان نفرا من بني إسرائيل قالوا: ما يستتر منا مولسى هذا (الستر) (١) إلا من عيب يجلده: إما برص، وإما آفة، وإما ادرة، وإن الله اراد ان يبرئه مما قالوا، قال: وإن موسى ﵇ (٢) خلا ذات يوم وحده، فوضع ثوبه على حجر ثم دخل يغتسل، فلما فرغ اقبل (على) (٣) ثوبه لياخذه عدا الحجر بثوبه، فاخذ موسى ﵇ (٤) عصاه في اثره، فجعل يقول: ثوبي يا حجر، ثوبي يا حجر، حتى انتهى إلى ملإ من بني إسرائيل فراوه عريانا، (فإذا) (٥) كاحسن الرجال خلقا، فبواه الله مما يقولون، قال: وقام الحجر فاخذ ثوبه فلبسه، (وطفق) (٦) موسى يضرب الحجر بعصاه، فوالله إن بالحجر الآن ⦗٥٠٧⦘ من اثر ضرب موسى (٧) -ذكر ثلاث او اربع او خمس (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (التستر).
(٢) سقط من: [م].
(٣) في [ك]: (إلى).
(٤) سقط من: [م].
(٥) في [أ، ب]: (فرأوه).
(٦) في [أ، ب]: (فطفق).
(٧) زيادة في [م]: (ندب).
(٨) صحيح؛ وورد مرفوعًا أخرجه البخاري (٣٤٠٤)، والترمذي (٣٢٢١)، وبنحوه مسلم (٣٣٩)، وظاهر رواية أحمد (١٠٦٨٨)، أن خبر الحسن مرسل.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اللہ کے فرمان { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَکُونُوا کَاَلَّذِینَ آذَوْا مُوسَی فَبَرَّأَہُ اللَّہُ مِمَا قَالُوا وَکَانَ عِنْدَ اللہِ وَجِیہًا } کی تفسیر میں روایت ہے فرمایا کہ انہوں نے آپ کو اذیت ا س طرح تھی کہ بنو اسرائیل کی ایک جماعت نے ان سے کہا کہ موسیٰ ہم سے اس لیے چھپتے ہیں کہ ان کی جلد میں کوئی عیب ہے یا برص ہے یا کوئی اور بیماری یا أُدرہ بیماری ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی اس بات سے بری کرنے کا ارادہ فرمایا تو ایک دن موسیٰ علیہ السلام خلوت میں گئے اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھے پھر داخل ہو کر غسل کرنے لگے، جب فارغ ہوئے تو اپنے کپڑوں کی طرف آئے تاکہ کپڑے لے لیں، چناچہ پتھر دوڑنے لگا، موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی پکڑی اور اس کے پیچھے پیچھے یہ کہتے ہوئے دوڑنے لگے اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے، یہاں تک کہ جب وہ بنو اسرائیل کی مجلس میں پہنچا اور انہوں نے آپ کو برہنہ دیکھا تو آپ بہترین جسامت والے تھے، اس طرح اللہ نے آپ کو ان کی باتوں سے بری فرما دیا، اور پتھر ٹھہر گیا اور آپ نے اپنے کپڑے لے کر پہنے اور موسیٰ علیہ السلام اپنی لاٹھی سے پتھر کو مارنے لگے، بخدا پتھر پر اب بھی موسیٰ علیہ السلام کی ضرب کے نشانات ہیں، تین ہیں یا چار یا پانچ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34013]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34013، ترقيم محمد عوامة 32510)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں