مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
4. ما ذكر في موسى ﵇ من الفضل
وہ فضائل جو موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نقل کیے گئے ہیں
ترقیم عوامۃ: 32496 ترقیم الشثری: -- 33999
٣٣٩٩٩ - حدثنا ابو خالد عن اشعث عن عكرمة عن ابن عباس قال: خرج موسى ﵇ ينادي لبيك، (قال) (١) : وجبال الروحاء تجيبه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) ضعيف؛ لضعف أشعث بن سوّار.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پکارتے تھے ”لبیک“ اور روحاء کے پہاڑ ان کا جواب دیتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33999]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33999، ترقيم محمد عوامة 32496)
ترقیم عوامۃ: 32497 ترقیم الشثری: -- 34000
٣٤٠٠٠ - حدثنا احمد بن إسحاق قال: ثنا وهيب عن عمرو بن يحيى عن ابيه عن ابي سعيد ان رجلا من الانصار سمع رجلا من اليهود وهو في السوق وهو يقول: والذي اصطفى موسى ﵇ (١) على البشر، فضرب وجهه، (٢) اي خبيث اعلى ابي القاسم، فانطلق اليهودي إلى رسول الله ﷺ فقال: يا ابا القاسم ⦗٤٩٨⦘ ضرب وجهي فلان، فارسل إليه فدعاه فقال: لم ضربت وجهه؟ فقال: إني مررت به في السوق فسمعته يقول: والذي اصطفى موسى على البشر، فاخذتني غضبة فضربت وجهه، فقال رسول الله ﷺ:"لا تخيروا بين الانبياء، فإن الناس يصعقون يوم القيامة فارفع راسي فإذا انا بموسى آخذ بقائمة من قوائم العرش، فلا ادري اصعق (فيمن) (٣) صعق فافاق قبلي او حوسب بصعقته الاولى -او قال- كلفته صعقته الاولى" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) زيادة في [م]: (وقال).
(٣) في [ب، هـ]: (ممن).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٩١٧) و (٢٤١٢)، ومسلم (٢٣٧٤).
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے ایک یہودی کو بازار میں یہ کہتے سنا کہ ”اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو انسانوں پر فضیلت دی، اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا، اور کہا اے خبیث! کیا ابو القاسم 5 پر بھی؟ چناچہ وہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور کہا کہ اے ابو القاسم! فلاں شخص نے میرے چہرے پر مارا ہے، آپ نے ایک آدمی بھیج کر اس کو بلوایا اور فرمایا کہ تم نے اس کے چہرے پر کیوں مارا؟ اس نے کہا کہ میں اس کے پاس سے بازار میں گزر رہا تھا کہ میں نے اس کو کہتے ہوئے سنا کہ ”اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو انسانوں پر فضیلت دی“ چناچہ مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے چہرے پر مار دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انبیاء کو ایک دوسرے پر ترجیح نہ دو کیونکہ لوگوں کو قیامت کے دن ایک جھٹکا دیا جائے گا، چناچہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو موسیٰ علیہ السلام عرش کے پائے پکڑے ہوں گے، مجھے علم نہیں کہ ان کو لوگوں کے ساتھ جھٹکا دیا جائے گا اور پھر ان کو مجھ سے پہلے افاقہ ہوجائے گا یا پہلا جھٹکا ان کو کافی ہوجائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34000]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34000، ترقيم محمد عوامة 32497)
ترقیم عوامۃ: 32498 ترقیم الشثری: -- 34001
٣٤٠٠١ - حدثنا يعلى بن عبيد قال ثنا إسماعيل بن ابي خالد عن عامر عن عبد الله بن الحارث عن كعب قال: إن الله قسم كلامه ورؤيته بين موسى ومحمد ﷺ (١) فكلمه موسى مرتين ورآه محمد مرتين.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
عبداللہ بن حارث روایت کرتے ہیں کہ حضرت کعب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام اور دیدار کو موسیٰ علیہ السلام اور محمد 5 کے درمیان تقسیم فرما دیا ہے، چناچہ دو مرتبہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے ہم کلامی کی اور دو مرتبہ محمد 5 نے اللہ تعالیٰ کودیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34001]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34001، ترقيم محمد عوامة 32498)
ترقیم عوامۃ: 32499 ترقیم الشثری: -- 34002
٣٤٠٠٢ - حدثنا ابن علية عن الجريري (١) عن ابي (السليل) (٢) عن قيس بن عباد وكان من اكثر الناس او من احدث الناس عن بني إسرائيل قال: فحدثنا ان الشرذمة الذين سماهم فرعون (من بني إسرائيل كانوا ستمائة الف، وكان مقدمة فرعون) (٣) سبعمائة الف كل رجل منهم على حصان، على راسه بيضة وبيده حربة (وهو) (٤) خلفهم في الدهم، فلما انتهى موسى ﵇ (٥) ببني إسرائيل إلى ⦗٤٩٩⦘ البحر، قالت (بنو) (٦) إسرائيل: (اين) (٧) ما وعدتنا؟ هذا البحر بين ايدينا، وهذا فرعون وجنوده قد دهمنا (او) (٨) من خلفنا، فقال موسى ﵇ (٩) للبحر: انفلق (ابا) (١٠) خالد، فقال: لا انفلق لك يا موسى، انا اقدم منك خلقا او اشد، قال: فنودي ان اضرب بعصاك البحر، (فضرب) (١١) فانفلق، قال الجريري: وكانوا (اثني) (١٢) عشر (١٣) سبطا، وكان لكل سبط منهم طريق، فلما انتهى اول جنود فرعون إلى البحر هابت الخيل (١٤) ، ومثل (لحصان) (١٥) منها فرس (وديق) (١٦) ، فوجد ويحها (فانسل) (١٧) فتبعه (الخيل) (١٨) ، فلما (تتام) (١٩) آخر جنود فرعون في البحر خرج آخر بني إسرائيل من البحر (فانصفق) (٢٠) عليهم، فقالت بنو إسرائيل: ما مات فرعون ⦗٥٠٠⦘ وما كان ليموت ابدا، قال: فلم يعد ان سمع الله تكذيبهم (نبيه) (٢١) ، فرمى به على الساحل كانه (ثور) (٢٢) احمر يراه بنو إسرائيل.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن أبي).
(٢) في [أ، ب، م]: (السنابل)، وفي [جـ]: (السبايل).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٤) في [جـ، م]: (وهم).
(٥) سقط من: [م].
(٦) في [جـ]: (بني).
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) سقط من: [م].
(١٠) في [ب]: (أيا).
(١١) في [هـ]: (فضربه).
(١٢) في [جـ]: (اثنا).
(١٣) زيادة في: [جـ، م]: (فحسب).
(١٤) زيادة في: [جـ، م]: (ألهب)، وفي تفسير ابن جرير ١١/ ١٦٥ و ١٩/ ٧٦: (اللهب).
(١٥) في [جـ، م]: (بحصان).
(١٦) أي: تشتهي الفحل، في [أ، ب]: (ودنو).
(١٧) في [هـ]: (فأبسل).
(١٨) سقط من: [أ، ب].
(١٩) في [ب]: (تام).
(٢٠) في [أ، ب]: (فانطبق).
(٢١) في [أ، ب]: (نبئه).
(٢٢) في [جـ، م]: (ثوب).
ابو السّلیل حضرت قیس بن عبا د سے روایت کرتے ہیں جو بنی اسرائیل کے بارے میں سب سے زیادہ روایت کرنے والے تھے، کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں بیان کیا کہ وہ جماعت جن کے نام فرعون نے لکھے ہوئے تھے چھ لاکھ لوگ تھے اور فرعون کا مقدمۃ الجیش سات لاکھ افراد پر مشتمل تھا، اور ہر شخص گھوڑے پر سوار ہوتا اور اس کے سر پر خود ہوتا، اور اس کے ہاتھ میں نیزہ ہوتا، اور وہ ان لوگوں کے پیچھے پیچھے ہوتا، جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمندر تک لے گئے تو بنی اسرائیل کہنے لگے کہاں ہے جس کا تم نے ہم سے وعدہ کیا ہے، سمندر ہمارے سامنے ہے اور فرعون اور اس کا لشکر ہم پر چڑھا آ رہا ہے، یا کہا کہ ہمارے پیچھے، موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے سمندر! پھٹ جا، اس نے کہا اے موسیٰ میں آپ کے لیے نہیں پھٹتا، میں پیدائش میں آپ سے مقدم ہوں، یا کہا مضبوط ہوں، چناچہ آواز دی گئی کہ سمندر پر اپنا عصار مارو، آپ نے عصا مارا تو وہ پھٹ گیا۔ جُریری کہتے ہیں کہ وہ بارہ قبیلے تھے اور ہر قبیلے کا ایک راستہ جدا تھا، جب فرعون کے لشکر کا پہلا حصّہ سمندر تک پہنچا تو گھوڑے مشعلوں سے ڈر گئے، اور ہر گھوڑے کے سامنے ایک مادہ گھوڑی کی شکل آگئی چناچہ گھوڑے تیزی سے ان کے پیچھے دوڑنے لگے، جب لشکر کا آخری حصّہ سمندر میں پہنچ گیا تو بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل گئے، چناچہ سمندر ان پر مل گیا، بنی اسرائیل کہنے لگے کہ فرعون نہیں مرا، اور وہ تو کبھی نہیں مرے گا، چناچہ ابھی اللہ نے ان کی تکذیب ان کے نبی تک بھی نہ پہنچائی تھی کہ سمندر نے اس کو ساحل پر ڈال دیا گویا کہ وہ سرخ رنگ کا بیل تھا، اس کو بنی اسرائیل دیکھنے لگے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34002]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34002، ترقيم محمد عوامة 32499)
ترقیم عوامۃ: 32500 ترقیم الشثری: -- 34003
٣٤٠٠٣ - حدثنا شبابة عن يونس بن ابي إسحاق عن ابي إسحاق عن عمرو ابن ميمون عن عبد الله بن مسعود ان موسى ﵇ (١) حين اسرى ببني إسرائيل بلغ فرعون، فامر بشاة فذبحت، ثم قال: لا والله (لا يفرغ) (٢) من سلخها حتى يجتمع إلي ستمائة الف من القبط، قال: فانطلق موسى ﵇ (٣) حتى انتهى إلى البحر فقال له: (افرق) (٤) ، فقال البحر: لقد (استكثرت) (٥) يا موسى، وهل (فرقت) (٦) لاحد من ولد آدم (فافرق) (٧) لك؟ قال: ومع موسى ﵇ (٨) رجل على حصان (له) (٩) ، قال له ذاك الرجل (١٠) : اين امرت يا نبي الله؟ قال: ما امرت إلا بهذا الوجه، قال: فاقحم فرسه فسبح به، فخرج فقال: اين امرت (١١) يا نبي الله؟ قال ما امرت إلا بهذا الوجه، قال: والله ما كذبت ولا كذبت، ⦗٥٠١⦘ (قال) (١٢) : ثم اقتحم الثانية فسبح به ثم خرج، فقال: اين ما امرت (به) (١٣) يا نبي الله؟ قال: ما امرت إلا بهذا الوجه، قال: والله ما كذبت ولا كذبت، قال: فاوحى الله إلى (موسى ﵇ (١٤) ان اضرب بعصاك، فضرب موسى بعصاه فانفلق، فكان كل فرق كالطود العظيم كالجبل العظيم، فكان فيه (اثنا عشر) (١٥) طريقا لاثني عشر سبطا، لكل سبط طريق يتراؤن، فلما خرج اصحاب موسى ﵇ (١٦) وتتام اصحاب فرعون التقى البحر عليهم فاغرقهم (١٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) في [أ، ب]: (لا نفرغ).
(٣) سقط من: [م].
(٤) في [هـ]: (انفرق).
(٥) في [أ، ب]: (استكبرت).
(٦) في [هـ]: (انفرقت).
(٧) في [هـ]: (فأنفرق).
(٨) سقط من: [جـ، م].
(٩) سقط من: [هـ].
(١٠) زيادة في [جـ]: (له).
(١١) زيادة في [أ، ب، جـ]: (ما).
(١٢) سقط من: [جـ، م].
(١٣) سقط من: [جـ، م].
(١٤) سقط من: [أ، ب، م].
(١٥) في [أ، ب]: (اثنى عشر).
(١٦) سقط من: [جـ، م].
(١٧) صحيح؛ أخرجه ابن أبي حاتم كما في تفسير ابن كثير ٣/ ٣٣٨.
عمرو بن میمون حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو رات کے وقت لے کر چلے تو فرعون کا لشکر پہنچ گیا، آپ نے ایک بکری کو ذبح کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ قبطی میرے پاس جمع ہوجائیں، چناچہ موسیٰ علیہ السلام ان کو لے کر چلے یہاں تک کہ سمندر تک پہنچ گئے تو اس سے فرمایا پھٹ جا، سمندر نے کہا اے موسیٰ! تم تکبر کرتے پھرتے ہو، کیا میں اولادِ آدم میں کسی کے لیے پھٹا ہوں کہ تمہارے لیے پھٹ جاؤں؟ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک آدمی گھوڑے پر سوار تھا، اس نے کہا اے اللہ کے نبی! آپ کو کس طرف آنے کا حکم ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے تو اس طرف ہی آنے کا حکم ہوا ہے، چناچہ اس نے اپنے گھوڑے کو سمندر میں ڈالا اور اس پر تیرنے لگا پھر نکلا اور کہا اے اللہ کے نبی! آپ کو کہاں جانے کا حکم ہوا ہے؟ ّ آپ نے فرمایا کہ مجھے تو اس طرف ہی آنے کا حکم ہوا ہے، اس نے کہا بخدا نہ آپ نے جھوٹ بولا اور نہ آپ کی تکذیب کی گئی، اس کے بعد اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو، آپ نے اس پر لاٹھی ماری تو وہ پھٹ گیا اور ہر راستہ بڑے ٹیلے کی طرح ہوگیا، چناچہ اس میں بارہ قبیلوں کے لئے بارہ راستے بن گئے، اور ہر قبیلے کا راستہ جدا تھا اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، جب موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی نکل گئے اور فرعون کے ساتھی سب کے سب سمندر میں پہنچ گئے تو سمندر ان پر مل گیا اور وہ سب ڈوب گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34003]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34003، ترقيم محمد عوامة 32500)
ترقیم عوامۃ: 32501 ترقیم الشثری: -- 34004
٣٤٠٠٤ - حدثنا ابن فضيل عن سليمان التيمي [عن ابي نضرة عن جابر: ﴿فصعق من في السماوات ومن في الارض إلا من شاء الله﴾ [الزمر: ٦٨] ، قال: موسى ممن استثنى الله (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه الثعلبي في التفسير ٨/ ٢٥٥.
حضرت جابر نے اللہ کے فرمان { فَصَعِقَ مَن فِی السَّمَاوَاتِ وَمَن فِی الأَرْضِ إِلاَّ مَن شَاء اللَّہُ } کے تحت فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام ان لوگوں میں سے ہیں جن کو اللہ نے مستثنیٰ فرمایا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34004]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34004، ترقيم محمد عوامة 32501)
ترقیم عوامۃ: 32502 ترقیم الشثری: -- 34005
٣٤٠٠٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن، (١) ابي إسحاق عن عمارة بن عبد عن علي قال: (انطلق) (٢) موسى وهارون ﵉ (٣) وانطلق (شبر وشبير) (٤) فانتهوا إلى جبل فيه سرير فنام عليه هارون فقبض روحه، فرجع موسى ⦗٥٠٢⦘ إلى قومه فقالوا: انت قتلته حسدتنا على خلقه او على لينه، او كلمة نحوها -الشك من سفيان- قال: كيف اقتله ومعي (ابناه) (٥) قال: (فاختاروا (من شئتم) (٦) قال: فاختاروا) (٧) من كل سبط عشرة، قال: وذلك قوله: ﴿واختار موسى قومه سبعين رجلا﴾ فانتهوا إليه، فقالوا: من قتلك يا هارون؟ قال: ما قتلني احد، ولكن توفاني الله، قالوا: يا موسى! ما (نعصي) (٨) ؟ قال: فاخذتهم الرجفة، فجعل يتردد يمينا وشمالا ويقول: ﴿لو شئت (اهلكتهم) (٩) من قبل وإياي اتهلكنا بما فعل السفهاء منا إن هي إلا فتنتك﴾ [الاعراف: ١٥٥] ، قال: فدعا الله فاحياهم وجعلهم انبياء كلهم (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، م، هـ]، وانظر: مصادر التخريج وتفسير القرطبي ٧/ ٢٩٤.
(٢) في [ب]: (فانطلق).
(٣) سقط من: [م].
(٤) بياض في: [أ، ب].
(٥) في [ط، هـ]: (أبناؤه).
(٦) في [هـ]: (سبعين رجلًا).
(٧) سقط من: [م].
(٨) في [أ، ب]: (ما تقضي)، وفي [م]: (تعصي).
(٩) في [جـ]: (لأهلكتهم).
(١٠) حسن؛ عمارة قال أحمد عنه: "مستقيم الحديث"، وأخرجه الضياء (٦٨٦)، وابن أبي حاتم (٩٠١٨)، وابن جرير ٩/ ٧٣.
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ موسیٰ اور ہارون i اور شبر اور شبیر چلے اور ایک پہاڑ تک پہنچے جس میں ایک بستر تھا چناچہ ہارون علیہ السلام اس پر سو گئے، اور ان کی روح قبض ہوگئی، چناچہ موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے پاس واپس آئے، تو ان کی قوم کہنے لگی کہ ان کو آپ نے قتل کیا ہے، اور ان کے اخلاق کی وجہ سے آپ کو ہم پر حسد ہوا ہے، یا کہا کہ ان کی نرمی پر، یا اس جیسا کوئی کلمہ کہا، شک سفیان راوی کی طرف سے ہے، آپ نے فرمایا کہ میں ان کو کیسے قتل کرسکتا ہوں جب کہ میرے ساتھ ان کے بیٹے ہیں پھر آپ نے فرمایا کہ جن کو چاہو چن لو، چناچہ انہوں نے ہر قبیلے سے دس افراد چنے، یہی معنی ہے اللہ کے فرمان { وَاخْتَارَ مُوسَی قَوْمَہُ سَبْعِینَ رَجُلاً } کا، جب وہ ان کے پاس پہنچے تو ان سے پوچھا اے ہارون! آپ کو کس نے قتل کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ مجھے اللہ نے وفات دی، وہ کہنے لگے اے موسیٰ! آج کے بعد ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے، چناچہ ایک زلزلہ آیا اور وہ ہلاک ہوگئے، اور دائیں بائیں پریشان پھرنے لگے اور عرض کی { لَوْ شِئْت أہْلَکْتَہُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِیَّایَ أَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَائُ مِنَّا إنْ ہِیَ إلاَّ فِتْنَتُک } اس کے بعد انہوں نے دعا کی تو اللہ نے ان کو زندہ کردیا اور ان سب کو انبیاء بنادیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34005]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34005، ترقيم محمد عوامة 32502)
ترقیم عوامۃ: 32503 ترقیم الشثری: -- 34006
٣٤٠٠٦ - حدثنا عبيد الله قال: ثنا إسرائيل عن ابي إسحاق عن عمرو بن ميمون الاودي عن عمر بن الخطاب ان موسى ﵇ (١) لما ورد ماء مدين وجد عليه امة من الناس يسقون، فلما فرغوا اعادوا الصخرة على البئر ولا يطيق رفعها إلا عشرة رجال، فإذا هو بامراتين تذودان، قال: ما خطبكما؟ (فحدثتاه) (٢) ، فاتى الحجر فرفعه، ثم لم يستق إلا ذنوبا واحدا حتى رويت الغنم، ⦗٥٠٣⦘ ورجعت المراتان إلى ابيهما فحدثتاه، وتولى موسى ﵇ (٣) إلى الظل فقال: ﴿رب إني لما انزلت إلي من خير فقير﴾، قال: ﴿فجاءته إحداهما تمشي على استحياء﴾ واضعة ثوبها على وجهها، ﴿قالت إن ابي يدعوك ليجزيك اجر ما سقيت لنا﴾ قال لها: امشي خلفي وصفي لي الطريق، فإني اكره ان تصيب الريح ثوبك (٤) فيصف لي جسدك، فلما انتهى إلى ابيها قص عليه، قالت إحداهما: ﴿ياابت استاجره إن خير من استاجرت القوي الامين﴾ [القصص: ٢٤، ٢٥، ٢٦] ، قال: يا بنية ما علمك بامانته وقوته؟ قالت: اما قوته فرفعه الحجر ولا يطيقه إلا عشرة، واما امانته فقال لي: امشي خلفي وصفي لي الطريق فإني اخاف ان تصيب الريح ثوبك (فيصف) (٥) جسدك، فقال عمر: فاقبلت إليه ليست بسلفع من النساء لا خراجة ولا ولاجة، (واضعة) (٦) ثوبها على وجهها (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) في [أ، ب، جـ]: (فأتاه)، وفي [هـ]: (فأخبرتاه).
(٣) سقط من: [م].
(٤) في [ب]: (ثوبك) تكرار.
(٥) في [هـ]: (فتصف).
(٦) في [أ، ب]: (وضعت)، وفي [هـ]: (ومعه).
(٧) صحيح؛ أخرجه ابن أبي حاتم (١٦٨٢٧)، وابن الجوزي في المنتظم ١/ ٣٣٥، ومجاهد في التفسير ٢/ ٦٨٢.
عمرو بن میمون أودی روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام مدین کے پانی پر پہنچے، تو اس پر بعض لوگوں کو پانی بھرتے ہوئے دیکھا، جب وہ فارغ ہوئے تو انہوں نے دوبارہ کنویں پر چٹان رکھ دی، اور اس کو دس سے کم آدمی نہیں اٹھا سکتے تھے، آپ نے وہاں دو عورتوں کو دیکھا جو اپنی بکریاں ہٹا رہی تھیں، آپ نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کیا حالت ہے؟ انہوں نے آپ کو بتائی، تو آپ پتھر کے پاس آئے اور اس کو اٹھایا پھر ایک ہی ڈول کھینچا تھا کہ بکریاں سیراب ہوگئیں، اور وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس چلی گئیں، اور ان سے قصّہ بیان کیا، اور موسیٰ علیہ السلام سائے میں تشریف لے گئے اور فرمایا { رَبِّ إنِّی لِمَا أَنْزَلْتَ إلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیرٌ} کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک عورت حیاء کے ساتھ اپنے چہرے پر کپڑا رکھے ہوئے آپ کے پاس آئی، اور کہنے لگی کہ میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ تمہیں ہماری بکریوں کو پانی پلانے کی اجرت دیں، آپ نے فرمایا کہ میرے پیچھے چلو اور مجھے راستہ بتاتی رہو، کیونکہ مجھے یہ بات بری لگتی ہے کہ ہوا آپ کے کپڑوں پر لگے تو آپ کا جسم مجھے نظر آئے، جب وہ اپنے والد کے پاس پہنچی تو اس نے قصہ بیان کیا اور کہا ابا جان اس کو اجرت پر رکھ لیں، بیشک بہترین مزدور وہ ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو، انہوں نے فرمایا اے بیٹی! تمہیں اس کی امانت اور طاقت کا کیسے علم ہوا؟ اس نے کہا قوت کا علم اس طرح ہوا کہ انہوں نے پتھر کو اکیلے اٹھایا جبکہ اس کو دس آدمی اٹھاتے ہیں، اور اس کی امانت کا علم اس طرح ہوا کہ اس نے مجھے کہا کہ میرے پیچھے چلو اور مجھے راستہ بتاؤ۔ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ تمہارے کپڑوں پر ہوا لگے اور مجھے تمہارا جسم نظر آئے۔ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ وہ ان کے پاس آئی اس طرح کہ جری عورتوں کی طرح نہیں تھی اور نہ بہت گھر سے نکلنے اور داخل ہونے والی تھی اور اپنے چہرے پر کپڑا رکھے ہوئے تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34006]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34006، ترقيم محمد عوامة 32503)
ترقیم عوامۃ: 32504 ترقیم الشثری: -- 34007
٣٤٠٠٧ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن المنهال عن سعيد بن جبير و (عن) (١) عبد الله بن الحارث عن ابن عباس قال لما اتى موسى قومه فامرهم بالزكاة فجمعهم قارون، فقال: هذا قد جاءكم بالصوم والصلاة وباشياء تطيقونها، تحتملون ان تعطوه اموالكم؟ قالوا: ما نحتمل ان نعطيه اموالنا، فما ترى؟ قال: ⦗٥٠٤⦘ ارى ان نرسل إلى بغي بني إسرائيل فنامرها ان ترميه على رؤوس (الاحبار) (٢) والناس بانه ارادها على نفسها، ففعلوا، فرمت موسى ﵇ (٣) على رؤوس الناس فدعا الله عليهم، فاوحى الله (تعالى) (٤) إلى الارض ان اطيعيه، فقال لها: موسى ﵇ (٥) خذيهم، فاخذتهم إلى (اعقابهم فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى، فقال: خذيهم فاخذتهم إلى ركبهم) (٦) قال: فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى قال: خذيهم فاخذتهم إلى حجزهم، فجعلوا يقولون: (يا موسى يا موسى) (٧) (فقال) (٨) : خذيهم، فاخذتهم إلى اعناقهم فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى، قال: فاخذتهم فغيبتهم، فاوحى الله (تعالى) (٩) إلى موسى ﵇ (١٠) : يا موسى! سالك عبادي وتضرعوا إليك فابيت ان تجيبهم، اما وعزتي لو (إياي دعوا) (١١) لاجبتهم (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [أ، ب، هـ]: (الأجناد).
(٣) سقط من: [م].
(٤) سقط من: [أ، ب، م].
(٥) سقط من: [م].
(٦) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٧) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٨) في [جـ]: (قال).
(٩) سقط من: [م].
(١٠) سقط من: [م].
(١١) في [أ، ط، هـ]: (أنهم دعوني)، وفي [س]: (إياي دعوني).
(١٢) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٢/ ٤٠٨، وابن جرير ٢٠/ ١١٧، وابن عساكر ٦١/ ٩٨، وابن إسحاق في السيرة ٤/ ١٩٠ (٢٧٣).
عبد اللہ بن حارث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو زکوٰۃ کا حکم فرمایا تو قارون نے ان کو جمع کیا اور کہا کہ یہ تمہارے پاس ایسے حکم لائے یعنی نماز، روزہ وغیرہ کا جس کی تم طاقت رکھتے ہو، تو کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو کہ ان کو اپنے اموال دو؟ وہ کہنے لگے ہمیں اس کی طاقت نہیں، تمہارا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم بنو اسرائیل کی زانیہ کو پیغام بھیجیں اور اس کو حکم دیں کہ لوگوں کے سامنے ان پر تہمت لگائے کہ انہوں نے اس کی عزت پر حملہ کیا ہے، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اور اس عورت نے موسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کے سامنے تہمت لگائی آپ نے ان کے خلاف بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف وحی فرمائی کہ ان کی اطاعت کرو، چناچہ موسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا کہ ان کو پکڑ لے، اس نے ان کو گھٹنوں تک پکڑ لیا، چناچہ وہ کہنے لگے اے موسیٰ! اے موسیٰ! آپ نے پھر فرمایا کہ ان کو پکڑ لے، چناچہ اس نے ان کو گھٹنوں تک پکڑلیا، وہ کہنے لگے اے موسیٰ! اے موسیٰ! آپ نے پھر فرمایا کہ ان کو پکڑ لے، چناچہ اس نے ان کو کمر تک پکڑ لیا، پھر وہ کہنے لگے اے موسیٰ! اے موسیٰ! آپ نے فرمایا ان کو پکڑ لے، چناچہ اس نے ان کو گردن تک پکڑ لیا، وہ کہنے لگے اے موسیٰ! اے موسیٰ! پھر زمین نے ان کو غائب کردیا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ اے موسیٰ! تم سے میرے بندوں نے سوال کیا اور تمہارے سامنے گریہ زاری کی، لیکن تم نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا، میری عزت کی قسم! اگر وہ مجھے پکارتے تو میں ان کی دعا قبول کرلیتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34007]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34007، ترقيم محمد عوامة 32504)
ترقیم عوامۃ: 32505 ترقیم الشثری: -- 34008
٣٤٠٠٨ - حدثنا حسين بن علي عن موسى بن قيس عن سلمة بن كهيل ﴿والقيت عليك محبة مني﴾ [طه: ٣٩] ، قال: حببتك إلى عبادي.
حضرت سلمہ بن کہیل اللہ کے فرمان { وَأَلْقَیْت عَلَیْک مَحَبَّۃً مِنِّی } کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں، یعنی ”میں نے آپ کو اپنے بندوں کا محبوب بنادیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34008]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34008، ترقيم محمد عوامة 32505)