مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ما ذكر فيما فضل (الله) به يونس بن متى ﵇
ان فضیلتوں کا ذکر جو یونس بن متّی علیہ السلام کو حاصل ہوئیں
ترقیم عوامۃ: 32523 ترقیم الشثری: -- 34027
٣٤٠٢٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن (سعد) (١) بن إبراهيم قال: سمعت حميد ابن عبد الرحمن يحدث عن ابي هريرة عن النبي ﷺ انه قال:"قال -يعني الله ﷿ (٢) - لا ينبغي لعبد لي ان (يقول) (٣) : انا خير من يونس بن متى" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (سعيد).
(٢) سقط من: [م].
(٣) في [ب]: (تقول).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٤١٦)، ومسلم (٢٣٧٦).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی 5 سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا کہ میرے کسی بندے کے لئے جائز نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متّی سے بہتر ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34027]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34027، ترقيم محمد عوامة 32523)
ترقیم عوامۃ: 32524 ترقیم الشثری: -- 34028
٣٤٠٢٨ - [حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو (بن) (١) مرة عن عبد الله بن سلمة عن علي قال: قال -يعني الله ﷿ (٢) : ليس لعبد لي ان يقول: انا خير من يونس بن متى] (٣) (سبح) (٤) الله في الظلمات (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عن).
(٢) سقط من: [م].
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [م]: (سبيح).
(٥) حسن؛ عبد اللَّه بن سلمة صدوق على الصحيح؛ أخرجه الطحاوي ٤/ ٣١٦، وورد مرفوعًا، أخرجه تمام (١٦٢٢)، وورد موقوفًا، أخرجه البغوي في مسند ابن الجعد (٦٧).
عبد اللہ بن سلمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا کہ میرے کسی بندے کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متّی سے بہتر ہوں، انہوں نے اندھیروں میں اللہ کی پاکی بیا ن کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34028]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34028، ترقيم محمد عوامة 32524)
ترقیم عوامۃ: 32525 ترقیم الشثری: -- 34029
٣٤٠٢٩ - حدثنا الفضل عن سفيان عن الاعمش عن ابي وائل عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"ليس لاحد ان يقول انا خير من يونس بن متى" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٤٠٦)، وأحمد (٣٧٠٣).
حضرت عبدا للہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متّی سے بہتر ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34029]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34029، ترقيم محمد عوامة 32525)
ترقیم عوامۃ: 32526 ترقیم الشثری: -- 34030
٣٤٠٣٠ - حدثنا عفان قال: ثنا شعبة عن قتادة عن ابي العالية قال: حدثني ابن عم نبيكم ﷺ (١) ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"ليس لعبد ان يقول: انا خير من يونس بن متي" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م]، وبعدها في [هـ]: زيادة (يعني).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٤١٣)، ومسلم (٢٣٧٧).
حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ مجھے تمہارے نبی 5 کے چچا زاد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متّی سے بہتر ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34030]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34030، ترقيم محمد عوامة 32526)
ترقیم عوامۃ: 32527 ترقیم الشثری: -- 34031
٣٤٠٣١ - حدثنا عبيد الله قال: اخبرنا إسرائيل عن ابي إسحاق عن عمرو بن ميمون قال: ثنا عبد الله بن مسعود في بيت المال عن يونس قال: إن يونس كان (قد) (١) وعد قومه العذاب، واخبرهم انه ياتيهم إلى ثلاثة ايام، ففرقوا بين كل والدة ⦗٥١٣⦘ وولدها، ثم خرجوا فجاروا إلى الله (واستغفروا) (٢) ، فكف الله عنهم العذاب، (وغدا) (٣) يونس ينتظر العذاب، فلم ير شيئا، وكان من (كذب) (٤) ولم تكن له بينة (قتل) (٥) فانطلق (مغاضبا) (٦) حتى اتى قوما في سفينة فحملوه وعرفوه، فلما دخل السفينة (ركدت) (٧) ، والسفن تسير يمينا وشمالا، (فقال) (٨) : ما لسفينتكم؟ قالوا: ما ندري، قال يونس: إن فيها عبدا ابق من ربه، وإنها لا تسير حتى تلقوه، فقالوا: اما انت -يا نبي الله- (فوالله) (٩) لا نلقيك، فقال لهم يونس: (فاقرعوا) (١٠) فمن قرع فليقع، فقرعهم يونس فابوا ان يدعوه، فقالوا: من قرع ثلاث مرات فليقع، فقرعهم يونس ثلاث مرات فوقع، وقد كان وكل به الحوت، فلما وقع ابتلعه فاهوى به إلى قرار الارض، فسمع يونس ﵇ (١١) تسبيح الحصى ﴿فنادى في الظلمات ان لا إله إلا انت سبحانك إني كنت من الظالمين﴾ [الانبياء: ٨٧] ، ظلمات ثلاث: ظلمة بطن الحوت، وظلمة البحر، وظلمة الليل، قال: فنبذ ﴿فنبذناه بالعراء وهو سقيم﴾ [الصافات: ١٤٥] ، قال: كهيئة الفرخ الممعوط، ليس عليه ⦗٥١٤⦘ ريش، وانبت الله عليه شجرة يقطين، كان يستظل بها ويصيب منها، (فيبست) (١٢) فبكى عليها حين يبست، فاوحى الله إليه: تبكي على شجرة يبست ولا تبكي على مائة الف او يزيدون (١٣) ان (تهلكهم) (١٤) ، فخرج فإذا هو بغلام يرعى غنما فقال: ممن انت يا غلام؟ فقال: من قوم يونس، قال: فإذا رجعت إليهم فاخبرهم انك قد لقيت يونس، قال: فقال له الغلام: إن تكن يونس فقد تعلم (ان) (١٥) من كذب ولم تكن له بينة ان يقتل، فمن يشهد لي؟ فقال له يونس: (تشهد) (١٦) لك هذه الشجرة، وهذه البقعة، فقال الغلام: مرهما، فقال لهما يونس: (إن) (١٧) جاءكما هذا الغلام فاشهدا له، (قالتا) (١٨) : نعم، فرجع الغلام إلى قومه، وكان له إخوة وكان في (منعة) (١٩) ، فاتى الملك فقال: إني لقيت يونس وهو يقرا عليكم السلام، فامر به الملك ان يقتل، فقالوا له: إن له بينة، فارسل معه فانتهوا إلى الشجرة والبقعة، فقال لهما الغلام: انشدكما بالله هل اشهدكما يونس، (قالتا) (٢٠) : نعم، فرجع القوم مذعورين يقولون: يشهد له (الشجرة) (٢١) والارض، فاتوا الملك ⦗٥١٥⦘ فحدثوه بما (راوه) (٢٢) ، (فقال) (٢٣) عبد الله: فتناوله الملك فاخذ بيد الغلام فاجلسه في مجلسه وقال: انت احق بهذا المكان مني، قال عبد الله: فاقام لهم ذلك الغلام امرهم اربعين سنة (٢٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، هـ].
(٢) في [هـ]: (واستغفروه).
(٣) في [أ، هـ]: (وعدا).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [أ، م]: (قيل).
(٦) في [هـ]: (مغاضيًا).
(٧) في [أ]: (وكدت).
(٨) في [أ، ب، جـ، م]: (فقالوا).
(٩) في [م]: (فلا واللَّه).
(١٠) في [أ، ب، جـ، م]: (فاقترعوا).
(١١) زيادة ﵇ من: [أ، ب، جـ].
(١٢) في [ب]: (قيبست).
(١٣) في [هـ]: زيادة (أردت).
(١٤) في [أ، ب]: (يهلكهم).
(١٥) في [س]: (أنه).
(١٦) في [هـ]: (يشهد).
(١٧) في [جـ، م]: (إذا).
(١٨) في [أ، ب، جـ]: (قالا).
(١٩) في [هـ]: (منعته).
(٢٠) في [أ، ب، جـ]: (قالت).
(٢١) في [هـ]: (الشجر).
(٢٢) في [أ، جـ]: (رأوا).
(٢٣) في [هـ]: (قال).
(٢٤) صحيح؛ أخرجه ابن جرير في التفسير ١١/ ١٧٢، وابن أبي الدنيا كما تفسير القرطبي ١١/ ٣٣٣، وابن أبي حاتم في التفسير (١٠٥٩٧)، وابن النحاس في إعراب القرآن ٣/ ٤٤٠.
عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں بیت المال میں بیان فرمایا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کے آنے کا وعدہ کیا اور ان کو بتایا کہ ان پر تین دن کے اندر عذاب آئے گا، چناچہ انہوں نے ہر ماں کو اس کے بچے سے جدا کیا پھر نکلے اور اللہ سے گریہ زاری اور استغفار کرنے لگے، چناچہ اللہ نے ان سے عذاب کو روک لیا، اور حضرت یونس علیہ السلام اگلے دن عذاب کا انتظار کرنے لگے لیکن ان کو کچھ نظر نہ آیا، اور اس زمانے میں جو شخص جھوٹ بولتا اس کو قتل کردیا جاتا، چناچہ وہ غصّے میں نکلے، یہاں تک کہ ایک کشتی میں آئے اور انہوں نے ان کو پہچان کر سوار کرلیا، جب آپ کشتی پر سوار ہوئے تو کشتی رک گئی، کشتیاں دائیں اور بائیں چلا کرتی تھیں، وہ کہنے لگے کہ کشتی کو کیا ہوگیا، دوسرے جواب میں کہنے لگے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں، حضرت یونس علیہ السلام نے فرمایا کہ اس میں ایک بندہ ہے جوا پنے مالک سے بھاگ کر آیا ہے، اور کشتی اس وقت تک نہیں چلے گی جب تک تم اس کو پانی میں نہیں ڈال دو گے، انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی! بخدا آپ کو تو ہم نہیں ڈال سکتے۔ (٢) چناچہ یونس علیہ السلام نے فرمایا کہ قرعہ ڈال لو، جس کے نام قرعہ آئے اس کو گرا دیا جائے، چناچہ یونس علیہ السلام کے نام قرعہ نکلا، لیکن انہوں نے آپ کو گرانے سے انکار کردیا، پھر وہ کہنے لگے کہ جس کے نام تین مرتبہ قرعہ نکل آئے اس کو گرا دو، چناچہ تین مرتبہ یونس علیہ السلام کے نام قرعہ نکلا، آپ پر ایک مچھلی مقرر کی گئی تھی، جب آپ گرے تو اس نے آپ کو نگل لیا اور ان کو لے کر زمین کی تہہ تک چلی گئی چناچہ یونس علیہ السلام نے کنکریوں کی تسبیح سنی { فَنَادَی فِی الظُّلُمَاتِ أَنْ لاَ إلَہَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَک إنِّی کُنْت مِنْ ألظَّالِمِینَ } انہوں نے تین تاریکیوں میں تسبیح کی، مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا، سمندر کی تاریکی اور رات کا اندھیرا، اللہ فرماتے ہیں کہ پھر ہم نے ان کو میدان میں ڈال دیا جبکہ وہ بیمار تھے، اور اس پرندے کی طرح ہوگئے تھے جس کے پر نہیں ہوتے، اور اللہ نے ان پر ایک کدو کا پودا اگایا، جس سے آپ سایہ لیتے اور کھاتے، چناچہ وہ خشک ہوگیا تو آپ رونے لگے، چناچہ اللہ نے وحی فرمائی کہ آپ پودے کے خشک ہونے پر تو روتے ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں پر نہیں روتے جن کو ہلاک کرنے کا آپ نے ارادہ کیا تھا۔ (٣) چناچہ آپ نکلے اور ایک لڑکے پاس پہنچے جو بکریاں چرا رہا تھا اور اس سے فرمایا اے لڑکے! تمہارا کس قوم سے تعلق ہے! اس نے کہا قوم یونس سے، آپ نے فرمایا: جب تم ان کے پاس جاؤ تو بتانا کہ تمہاری حضرت یونس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ہے لڑکے نے کہا کہ اگر آپ یونس ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ جو شخص جھوٹ بولتا ہے اور اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو اس کو قتل کردیا جاتا ہے، تو میرے لئے کون گواہی دے گا؟ حضرت یونس نے اس سے فرمایا کہ تمہارے لیے یہ درخت گواہی دے گا اور یہ جگہ، لڑکے نے کہا کہ ان کو حکم دے دیجئے، چناچہ حضرت یونس علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ جب یہ لڑکا تمہارے پاس آئے تو اس کے لئے گواہی دے دینا، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، چناچہ وہ لڑکا اپنی قوم کے پاس واپس چلا گیا اور اس کے بھائی بھی تھے، اور وہ اثرو رسوخ کا مالک تھا چناچہ وہ بادشاہ کے پاس گیا اور کہا کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے ملا ہوں اور وہ آپ کو سلام کہتے ہیں، بادشاہ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا تو لوگوں نے کہا کہ اس کے پاس گواہی ہے، چناچہ بادشاہ نے اس کے ساتھ کچھ لوگوں کو بھیج دیا وہ درخت اور جگہ کے پاس پہنچے اور لڑکے نے ان سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا حضرت یونس علیہ السلام نے تمہیں گواہ بنایا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! چناچہ لوگ خوفزدہ ہو کر واپس لوٹے اور کہنے لگے یہ درخت اور زمین بھی اس لڑکے کے لئے گواہی دیتے ہیں، اور بادشاہ کے پاس پہنچے اور جو کچھ دیکھا تھا اس کے سامنے بیان کردیا۔ (٤) حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ بادشاہ نے اس لڑکے کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اپنی جگہ بٹھایا اور کہا کہ تم اس جگہ کے مجھ سے زیادہ حق دار ہو، حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد وہ لڑکا چالیس سال تک ان کا حاکم رہا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34031]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34031، ترقيم محمد عوامة 32527)
ترقیم عوامۃ: 32528 ترقیم الشثری: -- 34032
٣٤٠٣٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن السدي عن ابي مالك قال: مكث يونس في بطن الحوت اربعين يوما.
حضرت ابو مالک فرماتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام چالیس سال تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34032]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34032، ترقيم محمد عوامة 32528)
ترقیم عوامۃ: 32529 ترقیم الشثری: -- 34033
٣٤٠٣٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن سالم ﴿فنادى في الظلمات﴾ قال: حوت في حوت وظلمة البحر.
منصور حضرت سالم سے { فَنَادَی فِی الظُّلُمَاتِ } کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں فرمایا کہ اس سے مراد مچھلی کے پیٹ کی تاریکی اور سمندر کی تاریکی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34033]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34033، ترقيم محمد عوامة 32529)
ترقیم عوامۃ: 32530 ترقیم الشثری: -- 34034
٣٤٠٣٤ - حدثنا وكيع عن إسماعيل (عن) (١) عبد الملك عن سعيد بن جبير قال: سمعته يقول: ﴿فنادى في الظلمات﴾ قال: ظلمة الليل وظلمة البحر وظلمة الحوت.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ { فَنَادَی فِی الظُّلُمَاتِ } سے مراد رات کا اندھیرا، سمندر کا اندھیرا، اور مچھلی کا اندھیرا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34034]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34034، ترقيم محمد عوامة 32530)
ترقیم عوامۃ: 32531 ترقیم الشثری: -- 34035
٣٤٠٣٥ - حدثنا عبيد الله بن موسى عن الاعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الله ابن الحارث قال: لما التقمه الحوت (فنبذ به) (١) إلى الارض فسمعها تسبح، (فهيجته) (٢) على التسبيح.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فنبذته).
(٢) في [هـ]: (فهيجه).
عمرو بن مرّہ حضرت عبد اللہ بن حارث سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ جب مچھلی نے آپ کا لقمہ بنایا اور آپ کو زمین پر ڈال دیا اور آپ نے اس کو تسبیح پڑھتے ہوئے سنا تو اس سے آپ کو تسبیح پڑھنے کی ترغیب ہوئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34035]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34035، ترقيم محمد عوامة 32531)