🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. ما ذكر (مما) فضل (الله) به عيسى ﵇
وہ فضیلتیں جو اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمائی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32532 ترقیم الشثری: -- 34036
٣٤٠٣٦ - حدثنا يحيى بن ابي (بكير) (١) قال: ثنا شبل بن عباد عن ابن ابي سليمان عن ابن ابي نجيح عن مجاهد قال: (قالت) (٢) مريم: كنت إذا خلوت انا وعيسى حدثني وحدثته، وإذا شغلني عنه إنسان سبح في بطني وانا اسمع.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، هـ]: (كثير).
(٢) في [م]: (قال).

مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت مریم نے فرمایا کہ جب میں خلوت میں ہوتی تو عیسیٰ مجھ سے باتیں کرتے اور میں ان سے باتیں کرتی، اور جب کوئی آدمی سامنے آتا تو وہ میرے پیٹ میں تسبیح کرتے اور میں سنا کرتی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34036]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34036، ترقيم محمد عوامة 32532)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32533 ترقیم الشثری: -- 34037
٣٤٠٣٧ - حدثنا يحيى بن ابي بكير قال: ثنا شبل عن ابن ابي نجيح عن مجاهد عن ابن عباس قال: ما تكلم (عيسى) (١) ﵇ (٢) إلا بالآيات التي تكلم (بها) (٣) حتى بلغ مبلغ الصبيان (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [م].
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) صحيح؛ أخرجه ابن عساكر ٤٧/ ٣٦١.

مجاہد ایک دوسری سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے بچپن میں ان آیات کے علاوہ کوئی بات نہیں کی جو اللہ نے ارشاد فرمائی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34037]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34037، ترقيم محمد عوامة 32533)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32534 ترقیم الشثری: -- 34038
٣٤٠٣٨ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن هلال بن يساف قال: لم يتكلم في المهد إلا ثلاثة: عيسى ﵇ (١) ، وصاحب يوسف، وصاحب جريج.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
حضرت ہلال بن یساف فرماتے ہیں کہ گود میں تین بچوں کے علاوہ کسی نے بات نہیں کی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام کی گواہی دینے والا بچہ، اور جریج کے لئے گواہی دینے والا بچہ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34038]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34038، ترقيم محمد عوامة 32534)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32535 ترقیم الشثری: -- 34039
٣٤٠٣٩ - حدثنا (١) معاوية قال: ثنا عمار بن (رزيق) (٢) عن منصور عن مجاهد عن ابن عباس ﴿وإنه لعلم للساعة﴾ [الزخرف: ٦١] ، قال: خروج عيسى ابن ⦗٥١٧⦘ مريم ﵇ (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (أبو)، وهذا خطأ فمعاوية هو ابن هشام القصار.
(٢) في [هـ]: (زريق).
(٣) سقط من: [م].
(٤) حسن؛ معاوية القصار صدوق، أخرجه الثوري في التفسير ١/ ٣٧٣، والطبري ٢٥/ ٩٠، وأخرجه الحاكم ٢/ ٤٨٦ (٣٦٧٥)، وأحمد (٢٩٢١)، والطبراني (١٢٧٤٠)، والحارث (٧٢٠/ بغية)، وابن عساكر ٤٧/ ٤٨٧، والطحاوي في شرح المشكل ٣/ ١٧.

مجاہد حضرت ابن عبا س سے { وَإِنَّہُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَۃِ } کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں فرمایا کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34039]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34039، ترقيم محمد عوامة 32535)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32536 ترقیم الشثری: -- 34040
٣٤٠٤٠ - حدثنا وكيع (قال: ثنا) (١) سفيان عن ثابت بن هرمز عن شيخ عن ابي هريرة ﴿ليظهره على الدين كله﴾ [التوبة: ٣٣] ، قال: خروج عيسى ﵇ (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (عن).
(٢) سقط من: [م].
(٣) مجهول؛ لإبهام الشيخ، أخرجه ابن جرير ١٠/ ١١٦، والثوري في التفسير (٣٣٤)، ص ١٢٥.

ثابت بن ہرمز ایک شیخ کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ { لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ } سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34040]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34040، ترقيم محمد عوامة 32536)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32537 ترقیم الشثری: -- 34041
٣٤٠٤١ - حدثنا (ابو) (١) معاوية قال: ثنا الاعمش عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: لما اراد الله ان يرفع عيسى ﵇ (٢) إلى السماء خرج (إلى) (٣) اصحابه وهم اثنا عشر رجلا، من (عين) (٤) (في) (٥) البيت وراسه يقطر ماء، فقال لهم: (اما) (٦) (إن) (٧) منكم من (سيكفر بي) (٨) (اثنتي عشرة) (٩) ⦗٥١٨⦘ مرة بعد (ان آمن بي) (١٠) ، ثم قال: ايكم سيلقى عليه شبهي فيقتل مكاني ويكون معي في درجتي، فقام شاب من (احدثهم) (١١) (١٢) فقال: انا، فقال عيسى: اجلس، ثم اعاد عليهم فقام الشاب فقال: انا، فقال (عيسى: اجلس ثم اعاد عليهم فقام الشاب فقال) (١٣) : انا، فقال: نعم، انت ذاك، قال: فالقي عليه شبه عيسى، قال: ورفع عيسى ﵇ (١٤) من (ووزنة) (١٥) كانت في البيت إلى السماء، قال: وجاء الطلب من اليهود فاخذوا (الشبيه) (١٦) فقتلوه ثم صلبوه، وكفر به بعضهم (اثنتي عشرة) (١٧) مرة بعد ان (آمن) (١٨) به، فتفرقوا ثلاث فرق، (قالت) (١٩) فرقة: كان فينا الله ما شاء، ثم صعد إلى السماء، وهؤلاء اليعقوبية، وقالت فرقة: كان فينا ابن الله (ما شاء) (٢٠) (٢١) ثم رفعه الله إليه، وهؤلاء (النسطورية) (٢٢) ، وقالت فرقة: كان فينا عبد الله ورسوله ما شاء الله، ثم وفعه الله إليه وهؤلاء المسلمون، فتظاهرت ⦗٥١٩⦘ الكافرتان على المسلمة فقاتلوها فقتلوها، فلم يزل الإسلام طامسا حتى بعث الله محمدا ﷺ فانزل الله عليه: ﴿فآمنت طائفة من بني إسرائيل﴾ - (٢٣) يعني الطائفة التي آمنت في (زمن) (٢٤) عيسى، ﴿وكفرت طائفة﴾ -يعني الطائفة التي (ظهرت) (٢٥) في (زمن) (٢٦) عيسى، ﴿فايدنا الذين آمنوا﴾ في (زمان) (٢٧) عيسى ﴿على عدوهم﴾ بإظهار محمد ﷺ دينهم على دين الكفار ﴿ (فاصبحوا) (٢٨) ظاهرين﴾ (٢٩) [الصف: ١٤] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [م].
(٣) في [م]: (على).
(٤) في [هـ]: (غير).
(٥) في [هـ]: سقط.
(٦) في [أ، ب]: (ما).
(٧) في [أ، ب]: (أر).
(٨) في [أ، ب]: (ستلقوني).
(٩) في [أ، ب، جـ]: (اثنا عشر).
(١٠) في [أ، ب]: (أمرني).
(١١) في [ب]: (أهدهم)، وفي [أ]: (أحدهم).
(١٢) في [هـ]: زيادة (سنًا).
(١٣) سقط من: [أ، ب، هـ].
(١٤) سقط من: [م].
(١٥) في [أ، ب]: (رودنة).
(١٦) في [أ، ب]: (الشبه).
(١٧) في [أ، ب، جـ]: (اثنى عشر).
(١٨) في [أ، ب، جـ، م]: (أمر).
(١٩) في [ب]: (قال)، وفي [هـ]: (قال: فقال).
(٢٠) سقط من: [ب، جـ].
(٢١) في [ب، ط]: زيادة (اللَّه).
(٢٢) في [أ، ب]: (السطورية).
(٢٣) في [أ، ب، جـ]: زيادة (فأصبحوا).
(٢٤) في [م]: (زمان).
(٢٥) في [هـ]: (كفرت).
(٢٦) في [م]: (زمان).
(٢٧) في [أ، ب]: (زمن).
(٢٨) في [هـ]: (فأضجوا).
(٢٩) صحيح؛ المنهال ثقة.

سعید بن جبیر روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو وہ اپنے حواریوں کے پاس تشریف لائے، جو اس وقت بارہ تھے، اور آپ کے سر سے اس وقت پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ نے فرمایا کہ تم میں سے بعض لوگ مجھ پر ایمان لانے کے بعد میرے ساتھ بارہ مرتبہ کفر کریں گے، پھر آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کون اس کے لئے تیار ہے کہ اس پر میری شبییہ ڈالی جائے اور وہ میری جگہ قتل ہوجائے، اور وہ میرے ساتھ میرے درجے میں ہوگا، چناچہ ایک نوجوان کھڑا ہوا، اور کہنے لگا میں تیار ہوں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا بیٹھ جاؤ، پھر دوبارہ آپ نے سوال کیا تو وہ جوان پھر کھڑا ہوا، آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ، آپ نے تیسری مرتبہ سوال کیا تو وہ جوان کھڑا ہوا اور کہنے لگا میں تیار ہوں، آپ نے فرمایا ٹھیک ہے تم ہی ہو، چناچہ اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ ڈال دی گئی۔ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام گھر کے ایک روشن دان سے آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے، اور یہودیوں کی فوج آئی اور اس نے آپ کے ہم شکل کو گرفتار کر کے قتل کردیا، پھر اس کو سولی چڑھا دیا، اور ان میں سے ایک نے آپ کے ساتھ بارہ مرتبہ کفر کیا، اس کے بعد ان کی تین جماعتیں ہوگئیں، چناچہ ایک جماعت کہنے لگی کہ اللہ تعالیٰ ایک عرصے تک ہمارے درمیان رہے پھر آسمان کی طرف چلے گئے، یہ یعقوبیہ ہیں، اور ایک جماعت کہنے لگی کہ اللہ کے بیٹے ہمارے درمیان تھے پھر اللہ نے ان کو اٹھا لیا، یہ نسطوریہ ہیں، اور ایک جماعت نے کہا کہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ایک عرصہ ہمارے ساتھ رہے، پھر اللہ نے ان کو اٹھا لیا، یہ مسلمان ہیں، چناچہ کافر جماعتیں مسلمانوں پر غالب آگئیں، اور انہوں نے ان سے قتال کر کے ان کو قتل کردیا، اور اسلام مٹا رہا یہاں تک کہ اللہ نے محمد 5 کو مبعوث فرمایا اورا للہ نے آیت نازل فرمائی { فَآمَنَتْ طَائِفَۃٌ مِنْ بَنِی إسْرَائِیلَ } یعنی وہ جماعت ایمان لائی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تھی، اور ایک جماعت نے کفر کیا، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تھی، ‘ ‘ چناچہ ہم نے ایمان لانے والی جماعت کی مدد کی ”یعنی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایمان لائے تھے۔ ”ان کے دشمنوں پر محمد 5 کے دین کو کفار کے دین پر غالب کر کے“ اور وہ غالب ہوگئے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34041]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34041، ترقيم محمد عوامة 32537)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32538 ترقیم الشثری: -- 34042
٣٤٠٤٢ - حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد عن عبيد بن عمير قال: كان عيسى ابن مريم ﵇ (١) لا يرفع عشاء لغداء ولا غداء لعشاء وكان يقول: إن مع كل (يوم) (٢) رزقه، كان يلبس الشعر وياكل الشجر وينام حيث امسى.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) في [ط، هـ]: (قوم).

حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام شام کے کھانے کو صبح کے لیے اور صبح کے کھانے کو شام کے لیے نہیں بچاتے تھے، اور آپ فرماتے تھے کہ ہر دن کے ساتھ اس کا رزق ہے، اور آپ بالوں کا بنا ہوا لباس پہنتے، اور درختوں کے پتے کھالیتے، اور جہاں شام ہوتی سو جاتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34042]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34042، ترقيم محمد عوامة 32538)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32539 ترقیم الشثری: -- 34043
٣٤٠٤٣ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن خيثمة قال: مرت امراة بعيسى ابن مريم ﵇ (١) فقالت: طوبى لبطن حملك ولثدي ارضعك، (قال) (٢) عيسى ﵇ (٣) : طوبى لمن قرا القرآن واتبع ما فيه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) في [جـ، م]: (فقال).
(٣) سقط من: [م].

حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے پاس سے گزری، اور اس نے کہا کہ خوشخبری ہو اس پیٹ کے لیے جس نے آپ کو اٹھایا، اور اس چھاتی کے لیے جس نے آپ کو دودھ پلایا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ خوشخبری ہو اس شخص کے لئے جس نے قرآن پڑھا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34043]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34043، ترقيم محمد عوامة 32539)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32540 ترقیم الشثری: -- 34044
٣٤٠٤٤ - حدثنا ابو خالد عن محمد بن عجلان عن محمد بن يعقوب قال: قال عيسى ابن مريم: لا تكثروا الكلام بغير ذكر الله فتقسوا قلوبكم، فإن القلب القاسي بعيد من الله، ولكن لا تعلمون، (ولا) (١) تنظروا في ذنوب العباد كانكم ارباب، وانظروا في ذنوبكم، فإنما الناس رجلان: مبتلى ومعافى، فارحموا اهل البلاء واحمدوا الله على العافية.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: سقط (و).
حضرت محمد بن یعقوب فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم نے فرمایا کہ اللہ کے ذکر کے علاوہ کوئی بات نہ کرو کیونکہ اس سے تمہارے دل سخت ہوجائیں گے اور سخت دل اللہ سے دور ہیں لیکن تم نہیں جانتے بندوں کے گناہوں کو اس طرح مت دیکھو گویا کہ تم ان کے رب ہو بلکہ اپنے گناہوں کو اس طرح دیکھو کہ تم بندے ہو کیونکہ لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو آزمائش میں مبتلا ہیں دوسرے وہ جو عافیت میں ہیں لہٰذا تم آزمائش میں مبتلا لوگوں پر رحم کرو اور عافیت پر اللہ کی تعریف کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34044]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34044، ترقيم محمد عوامة 32540)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32541 ترقیم الشثری: -- 34045
٣٤٠٤٥ - حدثنا شريك عن عاصم عن ابي صالح رفعه إلى عيسى قال: قال لاصحابه: اتخذوا المساجد مساكن، واتخذوا البيوت منازل، وانجوا من الدنيا بسلام، وكلوا من بقل البرية، وزاد فيه الاعمش (١) : واشربوا من (ماء) (٢) القراح.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في تاريخ دمشق ٤٧/ ٤٢٣: (قال شريك: فذكرت ذلك للأعمش فقال) وذكره، وأخرجه ابن عبد البر في الاستذكار ٨/ ٣٧٧، وورد من حديث أبي صالح عن أبي هريرة، أخرجه ابن المبارك في الزهد (٥٦٣).
(٢) في [هـ]: (الماء).

حضرت ابو صالح مرفوعاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ مسجدوں کو ٹھکانہ بناؤ اور گھروں کو راستے کی منزل سمجھو اور دنیا سے سلامتی کے ساتھ نجات پا جاؤ اور دیہات کی سبزیاں کھایا کرو، اعمش اس میں یہ اضافہ کرتے ہیں کہ سادہ پانی پیو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34045]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34045، ترقيم محمد عوامة 32541)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں