مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
28. ما ذكر في عبد الله بن مسعود ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کی فضیلت میں نقل کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32899 ترقیم الشثری: -- 34409
٣٤٤٠٩ - [حدثنا ابو معاوية عن إبراهيم عن علقمة عن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"من سره ان يقرا القرآن رطبا كما انزل فليقراه على قراءة ابن ام عبد"] (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [أ، ط، هـ].
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٧٥)، والترمذي (١٦٩)، والنسائي (٨٢٥٦)، وابن حبان (٢٠٣٤)، وابن خزيمة (١١٥٦)، وأبو يعلى (١٩٣)، والضياء (٢٦٥)، والحارث (١٠١١/ بغية) والمزي ٢٤/ ٨٠.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص چاہتا ہے کہ قرآن پاک کو تر و تازہ پڑھے جیسا کہ وہ نازل کیا گیا ہے پس اس کو چاہیے کہ و ہ ابن ام عبد کی قراءت پر اس کو پڑھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34409]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34409، ترقيم محمد عوامة 32899)
ترقیم عوامۃ: 32900 ترقیم الشثری: -- 34410
٣٤٤١٠ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن شقيق عن حذيفة قال: لقد علم المحفوظون من اصحاب محمد ﷺ (١) ان ابن مسعود اقربهم عند الله وسيلة يوم القيامة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣٣٤٢)، وابن حبان (٧٠٦٣)، وابن سعد ٣/ ١٥٤، والطبراني (٨٤٨٠)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٥٤٥، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٢٦، والطيالسي (٤٢٦).
حضرت شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: تحقیق محمد 5 کے خوش قسمت اصحاب جانتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قیامت کے دن مرتبہ میں اللہ کے سب سے زیادہ نزدیک ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34410]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34410، ترقيم محمد عوامة 32900)
ترقیم عوامۃ: 32901 ترقیم الشثری: -- 34411
٣٤٤١١ - حدثنا وكيع قال: ثنا الاعمش عن مالك بن الحارث عن ابي خالد قال: وفدت إلى عمر ففضل اهل الشام علينا في الجائزة فقلنا له، فقال: يا اهل الكوفة اجزعتم ان فضلت اهل الشام عليكم في الجائزة، لبعد (شقتهم) (١) ، (لقد) (٢) ⦗١١٣⦘ آثرتكم بابن ام عبد (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (شقتكم)، وفي [أ، ب]: (سعيكم).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (فقد).
(٣) أبو خالد اختلف في صحبته، والأظهر عدمها، والأثر مجهول.
حضرت مالک بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو خالد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کہ میں وفد لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے شام والوں کو انعام دینے میں ہم پر فضیلت دی، اس بارے میں ہم نے ان سے پوچھا: تو انہوں نے فرمایا: اے کوفہ والو! کیا تم گھبراتے ہو اس بات سے کہ میں نے انعام دینے میں شام والوں کو تم پر فضیلت دی تمہاری روزی کی وجہ سے۔ تحقیق میں نے ام عبد کے مقابلہ میں خود پر تم کو ترجیح دی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34411]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34411، ترقيم محمد عوامة 32901)
ترقیم عوامۃ: 32902 ترقیم الشثری: -- 34412
٣٤٤١٢ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن زيد بن وهب قال: اقبل عبد الله ذات يوم وعمر جالس، فقال: (كنيف) (١) ملئ (فقها) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (لسف).
(٢) في [أ، ب]: (فقيهًا).
(٣) صحيح؛ أخرجه الطبراني (٨٤٧٧)، وابن سعد ٢/ ٣٤٤، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٢٩، وابن عساكر ٣٣/ ١٤٥.
حضرت زید بن وھب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو سامنے سے آتا ہوا دیکھ کر فرمایا: ”داڑھی والا فقہ سے بھرا ہوا ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34412]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34412، ترقيم محمد عوامة 32902)
ترقیم عوامۃ: 32903 ترقیم الشثری: -- 34413
٣٤٤١٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي إسحاق عن حارثة بن مضرب قال: قرئ علينا كتاب عمر: اما بعد، (فإنني قد) (١) بعثت إليكم عمار بن ياسر اميرا، وعبد الله بن مسعود (مؤدبا) (٢) ووزيرا، وهما من النجباء من اصحاب محمد ﷺ (٣) وآثرتكم بابن ام عبد على نفسي (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (فقد).
(٢) في [أ، ب]: (مؤذنًا).
(٣) سقط من: [م].
(٤) صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٣/ ٢٥٥.
حضرت ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت حارثہ بن مضرب رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: ہم لوگوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط پڑھ کر سنایا گیا۔ جس میں لکھا تھا: حمد و صلوۃ کے بعد، پس تحقیق میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو تمہاری طرف امیر بنا کر بھیجا اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو استاذ اور وزیر بنا کر۔ یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شریف ساتھیوں میں سے ہیں۔ اور میں نے حضرت ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کے معاملہ میں خود پر دوسروں کو ترجیح دے دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34413]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34413، ترقيم محمد عوامة 32903)
ترقیم عوامۃ: 32904 ترقیم الشثری: -- 34414
٣٤٤١٤ - حدثنا ابو (معاوية) (١) قال: ثنا الاعمش عن عمرو بن مرة عن ابي البختري عن علي قالوا: اخبرنا عن عبد الله قال: علم القرآن والسنة (٢) وكفى بذلك علما (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أسامة).
(٢) في [هـ]: زاد (ثم انتهى).
(٣) منقطع، أبو البختري لا يروي عن علي.
حضرت ابو البختری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: آپ رضی اللہ عنہ ہمیں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتلائیے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: انہوں نے قرآن و حدیث کو سیکھا۔ اور ان کو یہ چیز علم کے اعتبار سے کافی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34414]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34414، ترقيم محمد عوامة 32904)
ترقیم عوامۃ: 32905 ترقیم الشثری: -- 34415
٣٤٤١٥ - حدثنا ابو اسامة عن صالح بن (حيان) (١) عن ابن بريدة ﴿قالوا للذين اوتوا العلم ماذا قال آنفا﴾ [محمد: ١٦] : (قال) (٢) : هو عبد الله بن مسعود.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (حبان).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
حضرت صالح بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں حضرت ابن بریدہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: قرآن کی اس آیت (قَالُوا لِلَّذِینَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا) وہ لوگ پوچھتے ہیں ان لوگوں سے جن کو علم دیا گیا کہ کیا کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی ابھی؟ اس سے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34415]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34415، ترقيم محمد عوامة 32905)
ترقیم عوامۃ: 32906 ترقیم الشثری: -- 34416
٣٤٤١٦ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: كان عبد الله يشبه بالنبي ﷺ (١) في هديه (ودله) (٢) وسمته.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) في [ب]: (ووله).
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ چلنے میں، ہدایت اور طریقہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34416]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34416، ترقيم محمد عوامة 32906)
ترقیم عوامۃ: 32907 ترقیم الشثری: -- 34417
٣٤٤١٧ - حدثنا ابن نمير قال: ثنا الاعمش عن حبة بن جوين قال: كنا جلوسا عند علي فذكرنا بعض قول (عبد) (١) الله، واثنى القوم عليه فقالوا يا امير المؤمنين ما راينا رجلا احسن خلقا ولا ارفق تعليما ولا اشد ورعا ولا احسن مجالسة من ابن مسعود، فقال علي: نشدتكم الله إنه للصدق من قلوبكم؟ قالوا: نعم، قال: اللهم إني اشهدك (اني) (٢) اقول مثل ما قالوا، او افضل (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) في [أ، ب]: (أنني).
(٣) زيادة في [جـ]: (حدثنا يعلى قال: حدثنا الأعمش عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة قال: سمعت أبا موسى يقول: لمجلس وأفضل)، وهو تكرار لما بعده.
(٤) ضعيف؛ لضعف حبة بن جوين.
حضرت اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حبہ بن جُوین رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: ہم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پا س بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی کچھ باتوں کا ذکر کیا اور لوگ ان کی تعریف کرنے لگے اور کہا: اے امیر المؤمنین! ہم نے کسی شخص کو بھی نہیں دیکھا جو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے زیادہ اچھے اخلاق والا، تعلیم میں نرمی کرنے والا، اور سب سے زیادہ تقوے والا، اور اچھی مجلسوں والا ہو، اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں تم لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم یہ بات صدق دل سے کہہ رہے ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ! بیشک میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ بلاشبہ میں بھی وہی بات کہتا ہوں جو ان لوگوں نے کہی۔ کہ وہ افضل ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34417]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34417، ترقيم محمد عوامة 32907)
ترقیم عوامۃ: 32908 ترقیم الشثری: -- 34418
٣٤٤١٨ - حدثنا يعلى قال: ثنا الاعمش عن ابي إسحاق عن ابي عبيدة قال: سمعت ابا موسى يقول لمجلس كنت اجالسه (عبد) (١) الله اوثق من عمل سنة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عند).
(٢) صحيح.
حضرت ابو عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کہ وہ مجلسیں جن میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ میں بیٹھا کرتا تھا۔ وہ سنت پر عمل کرنے کے اعتبار سے بہت مضبوط تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34418]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34418، ترقيم محمد عوامة 32908)