مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
40. ما جاء في أسامة وأبيه ﵄
ان روایات کا بیان جو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد کے بارے میں آئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32969 ترقیم الشثری: -- 34478
٣٤٤٧٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن (مغيرة) (١) (عن الشعبي) (٢) ⦗١٣٤⦘ قال: قالت عائشة: ما ينبغي لاحد ان يبغض اسامة بعد ما سمعت من رسول الله ﷺ يقول:"من كان يحب الله ورسوله فليحب اسامة" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (معمر)، وفي [م]: (عمرة).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ]: وانظر: مصادر التخريج.
(٣) منقطع؛ الشعبي لم يسمع من عائشة، أخرجه أحمد (٢٥٢٣٤)، وفي الفضائل (١٥٢٧)، وابن عساكر في تاريخ دمشق ٨/ ٥٥.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کسی ایک کے لیے بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ اسامہ رضی اللہ عنہ سے بغض رکھے۔ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کو سن لینے کے بعد۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور اس کے رسول 5 سے محبت کرتا ہے پس اس کو چاہیئے کہ وہ اسامہ سے بھی محبت کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34478]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34478، ترقيم محمد عوامة 32969)
ترقیم عوامۃ: 32970 ترقیم الشثری: -- 34479
٣٤٤٧٩ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا إسماعيل عن قيس ان اسامة بن زيد لما قتل ابوه قام بين يدي النبي ﷺ، فدمعت عين النبي ﷺ ثم جاء من الغد فقام مقامه (١) فقال له رسول الله ﷺ:"الاقي منك اليوم ما لاقيت منك امس" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (بالأمس).
(٢) مرسل؛ قيس بن أبي حازم تابعي، أخرجه الضياء (١٣٤٢)، وابن سعد ٤/ ٦٣، وأخرجه ابن عساكر ١٩/ ٣٧٠ من حديث قيس عن أسامة.
حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے والد کو جب قتل کردیا گیا تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے تھے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو بہہ رہے تھے۔ پھر اگلا دن آیا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: آج میں تم سے اس جگہ مل رہا ہوں جہاں میں تم سے کل ملا تھا؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34479]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34479، ترقيم محمد عوامة 32970)
ترقیم عوامۃ: 32971 ترقیم الشثری: -- 34480
٣٤٤٨٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن عروة عن ابيه ان رسول الله ﷺ كان قطع بعثا قبل موتة وامر عليهم اسامة بن زيد، وفي ذلك البعث ابو بكر وعمر قال: فكان (اناسا) (١) من الناس طعنوا في ذلك لتامير رسول الله ﷺ اسامة عليهم، فقام رسول الله ﷺ فخطب الناس فقال:"إن اناسا منكم قد طعنوا علي في تامير اسامة، وإنما طعنوا في تامير اسامة كما طعنوا في تامير ابيه، وايم الله إن كان لخليقا للإمارة، وإن كان لمن احب الناس إلي، وإن ابنه لاحب الناس إلي من بعده، وإني لارجو ان يكون من صالحيكم، فاستوصوا به خيرا" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أناس).
(٢) مرسل؛ عروة تابعي، أخرجه ابن عساكر ٨/ ٦٢، وابن سعد ٤/ ٦٧، وورد من حديث عروة عن أسامة، أخرجه ابن عساكر ٢/ ٥٥.
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کی جانب بھیجنے کے لیے لشکر تیار کیا اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر بنادیا حالانکہ اس لشکر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس گویا لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسامہ کو لشکر پر امیر بنانے پر ناگواری کا اظہار کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: بیشک تم میں سے کچھ لوگوں نے مجھ سے ناگواری کا اظہار کیا ہے اسامہ کو امیر بنانے پر۔ اور بیشک انہوں نے اسامہ کو امیر بنانے سے پہلے اس کے باپ کو امیر بنائے جانے پر بھی ناگواری کا اظہار کیا تھا۔ اور اللہ کی قسم! وہ امارت کے زیادہ قابل تھے۔ اور بیشک وہ بھی لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے محبوب تھے۔ اور اس کے بعد اس کا بیٹا بھی مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اور بیشک میں امید کرتا ہوں۔ کہ یہ تمہارے نیکو کاروں میں سے ہوگا۔ پس تم لوگ اس کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34480]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34480، ترقيم محمد عوامة 32971)
ترقیم عوامۃ: 32972 ترقیم الشثری: -- 34481
٣٤٤٨١ - حدثنا شريك عن العباس بن ذريح عن (البهي) (١) عن عائشة ⦗١٣٥⦘ (قالت) (٢) : عثر اسامة بعتبة الباب فشج في وجهه، فقال لي رسول الله ﷺ:"اميطي عنه الاذى"، فقذرته، فجعل يمص الدم ويمجه عن وجهه ويقول:"لو كان اسامة جارية، لكسوته وحليته حتى انفقه" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (النهي).
(٢) في [جـ]: (قال).
(٣) حسن؛ شريك صدوق، وكذلك البهي، أخرجه أحمد (٢٥٠٨٢)، وابن ماجه (١٩٧٦)، وابن حبان (٧٠٥٦)، وابن سعد ٤/ ٦١، وأبو يعلى (٤٥٩٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (١١٠١٧).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ دروازے کی چوکھٹ سے ٹھوکر کھا کر گرپڑے اور ان کے چہرے میں چوٹ لگ گئی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم اس سے اذیت کی چیز کو ہٹا دو تو میں نے اس کو اکھاڑ دیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خون کو چوستے جاتے اور کلیاں کرتے جاتے۔ اور فرماتے: اگر اسامہ لڑکی ہوتی تو میں اس کو کپڑے پہناتا اور زیور پہناتا یہاں تک کہ میں اس کو فروخت کردیتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34481]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34481، ترقيم محمد عوامة 32972)
ترقیم عوامۃ: 32973 ترقیم الشثری: -- 34482
٣٤٤٨٢ - حدثنا محمد بن (عبيد) (١) عن وائل بن داود قال: سمعت (البهي) (٢) يحدث ان عائشة كانت تقول: ما بعث رسول الله ﷺ زيد بن حارثة في جيش قط إلا امره عليهم، ولو كن حيا بعده (استخلفه) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (عمير).
(٢) في [أ، ب]: (النهي).
(٣) في [هـ]: (لاستخلفه).
(٤) حسن؛ البهي صدوق، أخرجه أحمد (٢٥٨٩٨)، والنسائي في الكبرى (٨١٨٢)، والحاكم ٣/ ٢١٥، وابن سعد ٣/ ٤٦.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو کبھی کسی لشکر میں نہیں بھیجا مگر یہ کہ ان کو اس پر امیر بنایا۔ اور اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو خلیفہ بنا دیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34482]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34482، ترقيم محمد عوامة 32973)
ترقیم عوامۃ: 32974 ترقیم الشثری: -- 34483
٣٤٤٨٣ - حدثنا عفان ثنا وهيب قال: ثنا موسى بن عقبة قال: حدثني سالم بن عبد الله بن عمر ان عبد الله بن عمر قال: ما كنا ندعوه إلا زيد بن محمد حتى نزل القرآن: ﴿ادعوهم لآبائهم هو اقسط عند الله﴾ (١) [الحجرات: ٥] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٧٨٢)، ومسلم (٢٤٢٥).
حضرت سالم بن عبد اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: ہم لوگ ان کو نہیں پکارتے تھے مگر زید بن محمد 5 کے نام سے یہاں تک کہ قرآن کی آیت اتری: تم پکارو انہیں ان کو باپوں کے نام سے۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34483]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34483، ترقيم محمد عوامة 32974)
ترقیم عوامۃ: 32975 ترقیم الشثری: -- 34484
٣٤٤٨٤ - حدثنا عبيد الله عن إسرائيل عن ابي إسحاق عن البراء قال: قال رسول الله ﷺ لزيد:"اما انت يا زيد فاخونا ومولانا" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٦٩٩).
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: تم اے زید ہمارے بھائی اور ہمارے دوست ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34484]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34484، ترقيم محمد عوامة 32975)
ترقیم عوامۃ: 32976 ترقیم الشثری: -- 34485
٣٤٤٨٥ - حدثنا عبيد الله عن إسرائيل عن ابي إسحاق عن هانئ بن هانئ عن (علي عن) (١) النبي ﷺ مثله (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من النسخ، وقد تقدم طرفان من الخبر ١٢/ ٦٧ [٣٤٢٦١]، ١٢/ ١٠٥ [٣٤٣٧٥]. فيهما هذه الزيادة (عن علي).
(٢) حسن؛ هانئ بن هانئ صدوق على الصحيح؛ أخرجه أحمد (٨٥٦)، والنسائي (٨٤٥٦)، وابن سعد ٣/ ٤٣، وأبو يعلى (٥٥٤)، والبزار (٧٤٤)، والطحاوي في شرح المشكل ٨/ ٩٠، والضياء (٧٧٨)، والخطيب ٤/ ١٤٠، وابن بشكوال ٢/ ٧٠٩.
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ماقبل حدیث منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34485]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34485، ترقيم محمد عوامة 32976)