🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

49. ما ذكر في جرير بن عبد الله ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ذکر کی گئیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33006 ترقیم الشثری: -- 34515
٣٤٥١٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسماعيل بن ابي خالد عن قيس بن ابي حازم عن جرير بن عبد الله قال: ما حجبني رسول الله ﷺ منذ اسلمت، ولا رآني قط إلا تبسم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٠٣٥)، ومسلم (٢٤٧٥).
حضرت قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی محروم نہیں رکھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میری طرف نہیں دیکھا مگر یہ کہ تبسم فرماتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34515]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34515، ترقيم محمد عوامة 33006)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33007 ترقیم الشثری: -- 34516
٣٤٥١٦ - حدثنا الفضل بن دكين عن يونس (بن) (١) ابي إسحاق عن المغيرة ابن شبيل بن عوف عن جرير قال: لما دنوت من المدينة (انخت) (٢) راحلتي ثم ⦗١٤٧⦘ حللت عيبتي ولبست حلتي، قال: فدخلت ورسول الله ﷺ يخطب، فسلمت على النبي ﷺ فرماني الناس بالحدق، فقلت لجليسي: يا عبد الله اذكر رسول الله ﷺ من امري شيئا؟ قال: نعم، ذكرك باحسن الذكر، قال: فبينما رسول الله ﷺ يخطب إذ عرض له في خطبته فقال:"انه سيدخل عليكم من هذا الفج او من هذا الباب من خير (ذوي) (٣) يمن على وجهه مسحة ملك"، قال جرير: فحمدت الله على ما ابلاني (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (عن)، وسيأتي ١٤/ ٣٢٥ برقم [٣٩٣٦٧] بلفظ: (بن).
(٢) في [أ، ب]: (انحلت).
(٣) في [أ، ب]: (ذي).
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٩١٨١)، والنسائي في الكبرى (٨٣٠٤)، وابن خزيمة (١٧٩٧)، وابن حبان (٧١٩٩)، والحاكم ١/ ٢٨٥، والبيهقي ٣/ ٢٢٢، والحميدي (٨٠٠)، والبخاري في الأدب المفرد (٢٥٠)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٥٢٣)، والطبراني (٢٢٥٨)، وابن سعد ١/ ٣٤٧.

حضرت مغیرہ بن شبل بن عوف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: جب میں مدینہ منورہ کے قریب ہوا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھایا پھر میں نے اپنا گندا جوڑا اتارا۔ اور صاف جوڑا پہنا۔ پھر میں مدینہ میں داخل ہوا اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا تو لوگوں نے بڑی عزت کی نگاہ سے مجھے دیکھا اس پر میں نے اپنے ساتھ بیٹھے شخص سے پوچھا: اے اللہ کے بندے! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے معاملہ کے بارے میں کچھ ذکر فرمایا تھا؟ اس شخص نے کہا: جی ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے تمہارا بہت اچھا تذکرہ فرمایا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک عنقریب تمہارے پاس اس کشادہ راستہ سے یا اس دروازے سے ایک شخص آئے گا جو بہت خیر و برکت والا ہوگا اور اس کے چہرے پر فرشتہ کی سی چھاپ ہوگی۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ پس میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے اس انعام سے نوازا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34516]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34516، ترقيم محمد عوامة 33007)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33008 ترقیم الشثری: -- 34517
٣٤٥١٧ - حدثنا (وكيع) (١) عن إسماعيل عن قيس عن جرير قال: قال لي رسول الله ﷺ:"الا تريحني من ذي الخلصة"، بيت كان لخثعم في الجاهلية يسمى الكعبة اليمانية، قال: قلت: يا رسول الله إني رجل لا اثبت على الخيل، قال: فمسح في صدري وقال:"اللهم اجعله هاديا مهديا" (حتى وجدت بردها) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) سقط من: [ب].
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٨٢٣)، ومن طريق المؤلف أخرجه مسلم (٢٤٧٦)، وابن حبان (٧٢٠١).

حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: کیا تم مجھے ذی الخلصہ سے راحت دلا سکتے ہو؟ ذی الخلصہ زمانہ جاہلیت میں خثعم کا گھر تھا جسے کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! بیشک میں ایسا شخص ہوں جو گھوڑے پر مضبوط نہیں بیٹھ سکتا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرا اور دعا فرمائی، اے اللہ! اس کو ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا دے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس کی ٹھنڈک محسوس کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34517]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34517، ترقيم محمد عوامة 33008)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں