🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

48. في بلال ﵁ وفضله
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ان کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32999 ترقیم الشثری: -- 34508
٣٤٥٠٨ - حدثنا يحيى بن ابي (بكير) (١) قال: ثنا زائدة عن عاصم عن زر عن عبد الله قال: كان اول من (اظهر) (٢) إسلامه سبعة: رسول الله ﷺ وابو بكر (٣) ⦗١٤٤⦘ وعمار وامه (سمية) (٤) وبلال (وصهيب) (٥) والمقداد، فاما رسول الله ﷺ فمنعه الله بعمه ابي طالب، واما ابو بكر فمنعه الله (بقومه) (٦) ، واما سائرهم فاخذهم المشركون فالبسوهم ادراع الحديد وصهروهم في الشمس، فما منهم (٧) احد إلا واتاهم على ما ارادوا، إلا بلال فإنه هانت عليه نفسه في الله، وهان على قومه، فاخذوه فاعطوه الولدان فجعلوا يطوفون به في شعاب مكة وهو يقول: احد احد (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (بكر).
(٢) في [أ، ب، ح، هـ]: (ظهر).
(٣) في [هـ]: زيادة (وعمر).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) لم يرد في النسخ، وقد سبق الخبر مرتين بذكره.
(٦) في [أ، ب]: (لقومه).
(٧) في [هـ]: زيادة (من).
(٨) ضعيف؛ عاصم هو ابن أبي النجود ضعيف في زر، أخرجه أحمد (٣٨٣٢)، وابن ماجه (١٥٠)، وابن حبان (٧٠٨٣)، والشاشي (٦٤١)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٤٩، وابن عبد البر في الاستيعاب ١/ ١٤١، والبيهقي في الدلائل ٢/ ٢٨١، والحاكم ٣/ ٢٨٤، والبزار (١٨٤٥)، والهيثم بن كليب (٦٤١)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٧٩).

حضرت زر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: سب سے پہلے اسلام کو ظاہر کرنے والے سات اشخاص تھے حضرت رسول اللہ، حضرت ابو بکر، حضرت عمار رضی اللہ عنہ، اور ان کی والدہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا، حضرت صھیب، حضرت بلال اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ، بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ نے ان کے چچا ابو طالب کے ذریعہ حفاظت فرمائی۔ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اللہ نے ان کی قوم کے ذریعہ حفاظت فرمائی۔ اور باقی سب کو قریش نے پکڑ لیا۔ اور لوہے کی زرہیں پہنا کر سورج کی تپش میں ڈال دیا۔ ان سب میں سے کوئی نہیں تھا مگر یہ کہ وہ ان کے ارادوں کے سامنے پست پڑگئے۔ سوائے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے۔ پس انہوں نے اللہ کے بارے میں اپنے نفس کو بےوقعت کرلیا۔ اور قوم کے لیے آسان ہوگئے۔ پس ان لوگوں نے ان کو پکڑ کر بچوں کے حوالہ کردیا۔ اور بچے ان کو مکہ کی گلیوں میں چکر لگواتے تھے اس حال میں کہ یہ اَحَد اَحَد پکار رہے ہوتے کہ اللہ ایک ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34508]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34508، ترقيم محمد عوامة 32999)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33000 ترقیم الشثری: -- 34509
٣٤٥٠٩ - حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد قال: اول من اظهر الإسلام: سبعة رسول الله ﷺ وابو بكر وبلال وخباب وصهيب وعمار وسمية (١) ام عمار، قال: فاما رسول الله ﷺ فمنعه عمه، واما ابو بكر فمنعه قومه، واخذ الآخرون فالبسوهم ادراع (الحديد) (٢) (ثم) (٣) صهروهم في الشمس، حتى بلغ الجهد منهم كل مبلغ، فاعطوهم كل ما سالوا، فجاء إلى كل رجل منهم قومه بانطاع الادم فيها الماء فالقوهم (فيها) (٤) ، ثم حملوا بجوانبه، إلا بلال فجعلوا في عنقه ⦗١٤٥⦘ حبلا ثم امروا صبيانهم (يشتدون) (٥) به بين (اخشبي) (٦) مكة وجعل يقول: احد احد (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (اسم).
(٢) في [ب]: (الحذ).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [هـ]: (فيه).
(٥) في [أ، ب]: (يسيرون).
(٦) في [أ، ب، جـ]: (جنبي).
(٧) مرسل، مجاهد تابعي، أخرجه أحمد في الفضائل (٢٨٢)، وابن سعد ٣/ ٢٣٣، وانظر: ما قبله.

حضرت منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: سب سے پہلے اسلام ظاہر کرنے والے سات لوگ تھے۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ، حضرت خباب رضی اللہ عنہ، حضرت صھیب رضی اللہ عنہ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ، حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا جو حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں۔ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ان کے چچا نے کی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی حفاظت ان کی قوم نے کی، باقی سب لوگوں کو پکڑ لیا گیا اور پھر کافروں نے انہیں لوہے کی زرہیں پہنائیں پھر ان کو سورج کی تپش میں ڈال دیا۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک کو انتہاء کی مشقتیں برداشت کرنا پڑیں پس ان لوگوں نے ان کو ہر چیز دی جو انہوں نے مانگی۔ ان میں سے ہر ایک آدمی کی طرف قوم کے افراد چمڑے کے بڑے مشکیزے میں پانی لاتے اور ان کو اس میں ڈال دیتے۔ پھر ان کو پہلوؤں سے اٹھا لیتے، سوائے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے۔ کفار نے ان کی گردن میں رسی ڈالی پھر بچوں کو حکم دیا کہ وہ ان کو مکہ کے دو پہاڑوں کے درمیان گھسیٹیں۔ اس حال میں بھی آپ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہوتے۔ اَحَد اَحَد، اللہ ایک ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34509]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34509، ترقيم محمد عوامة 33000)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33001 ترقیم الشثری: -- 34510
٣٤٥١٠ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني حسين بن واقد قال: حدثني عبد الله بن بريدة عن ابيه ان رسول الله ﷺ (قال:"سمعت) (١) (خشخشة) (٢) امامي فقلت: من هذا؟" (قالوا) (٣) : بلال، فاخبره قال:"بما سبقتني إلى الجنة؟"، قال: يا رسول الله ما احدثت إلا توضات، ولا توضات إلا رايت (ان) (٤) لله علي ركعتين اصليهما، قال:"بها" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٢) في [أ، ب]: (حشحش).
(٣) في [أ، ب]: (قال).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) حسن؛ حسين بن واقد صدوق، أخرجه أحمد (٢٢٩٩٦)، والترمذي (٣٦٨٩)، وابن خزيمة (١٢٠٩)، وابن حبان (٧٠٨٦)، والحاكم ٣/ ٢٨٥، وابن أبي عاصم (١٢٦٩)، والطبراني (١٠١٢)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٥٠، والبيهقي في الشعب (٢٧١٧)، والخطيب في التاريخ ١١/ ٣٧٠، والبغوي (١٠١٢).

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے اپنے آگے آہٹ کی آواز سنی تو میں نے پوچھا: یہ کو ن ہے؟ فرشتوں نے کہا: بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی خبر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دی اور پوچھا: کس عمل کی وجہ سے تم مجھ پر سبقت لے گئے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول 5! مجھے کبھی حدث لاحق نہیں ہوا مگر میں نے وضو کرلیا۔ اور میں نے کبھی وضو نہیں کیا مگر یہ کہ میں نے سوچا کہ بیشک اللہ کا مجھ پر حق ہے دو رکعتوں کا، میں نے ان کو پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی وجہ سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34510]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34510، ترقيم محمد عوامة 33001)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33002 ترقیم الشثری: -- 34511
٣٤٥١١ - حدثنا ابو معاوية عن إسماعيل عن قيس قال: اشترى ابو بكر بلالا بخمس اواق ثم اعتقه، قال: فقال له بلال: يا ابا بكر، إن كنت إنما اعتقتني لتتخذني (خادما) (١) فاتخذني (خادما) (٢) ، وإن كنت (إنما) (٣) اعتقتني لله فدعني ⦗١٤٦⦘ فاعمل لله، قال: فبكى ابو بكر ثم قال: بل اعتقتك لله (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (حاولا)، وفي [جـ، م]: (خازنًا).
(٢) في [أ، ب]: (حاولا)، وفي [جـ، م]: (خازنًا).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٥٥).

حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال کو پانچ اوقیہ چاندی کے عوض خریدا پھر آزاد کردیا۔ اس پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اگر تم نے مجھے اس لیے آزاد کیا کہ تم مجھے اپنا خزانچی بنا لو، پس تم مجھے چاہو تو خزانچی بنا لو، اور اگر تم نے مجھے آزاد کیا ہے اللہ کے لیے تو مجھے فارغ چھوڑ دو تاکہ میں اللہ کے لیے عمل کروں۔ راوی کہتے ہیں پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ سن کر رو پڑے پھر فرمایا: بلکہ میں نے تمہیں اللہ کے لیے آزاد کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34511]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34511، ترقيم محمد عوامة 33002)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33003 ترقیم الشثری: -- 34512
٣٤٥١٢ - حدثنا وكيع عن عبد العزيز بن عبد الله الماجشون عن محمد بن المنكدر عن جابر قال: قال عمر: ابو بكر سيدنا، واعتق سيدنا يعني بلالا (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٥٤).
حضرت جابر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے آقا ہیں۔ اور انہوں نے ہمارے آقا کو آزاد کیا یعنی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34512]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34512، ترقيم محمد عوامة 33003)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33004 ترقیم الشثری: -- 34513
٣٤٥١٣ - حدثنا ابو اسامة عن هشام عن ابيه قال: (حدثنا) (١) قال: كان بلال خازن ابي بكر ومؤذن النبي ﷺ.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (ثنا)، وبعد هذه الكلمة فراغ في: [جـ، س، م].
حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر کے خزانچی تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34513]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34513، ترقيم محمد عوامة 33004)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33005 ترقیم الشثری: -- 34514
٣٤٥١٤ - حدثنا ابو اسامة قال: سمعت هشاما قال: ثنا الحسن قال: قال رسول الله ﷺ:"بلال سابق الحبش" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (١٧٣٧).
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت بلال رضی اللہ عنہ حبشہ والوں سے سبقت لے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34514]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34514، ترقيم محمد عوامة 33005)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں