🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

73. ما جاء في بلال وصهيب وخباب
ان روایات کا بیان جو سیدنا بلال، سیدنا صہیب اور سیدنا خبابرضی اللہ عنہ کے بارے میں منقو ل ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33185 ترقیم الشثری: -- 34699
٣٤٦٩٩ - حدثنا احمد بن (المفضل) (١) قال: ثنا اسباط بن (نصر) (٢) عن السدي عن ابي (سعيد) (٣) الازدي عن ابي الكنود (عن خباب) (٤) بن الارت: ﴿ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه﴾ [الانعام: ٥٢] ، قال: جاء الاقرع بن حابس التميمي وعيينة بن (حصن) (٥) الفزاري فوجدوه قاعدا مع بلال وعمار وصهيب وخباب بن الارت في اناس من الضعفاء من المؤمنين، فلما راوهم (حوله) (٦) حقروهم فاتوه فخلوا به، فقالوا: (إنا) (٧) نحب ان تجعل لنا منك مجلسا تعرف لنا به العرب فضلنا، فإن وفود العرب تاتيك فنستحي ان ترانا مع هذه الاعبد، فإذا نحن ⦗٢٠١⦘ جئناك فاقمهم عنا، وإذا نحن فرغنا فاقعد معهم إن شئت، قال: نعم، قالوا: فاكتب لنا كتابا فدعا بالصحيفة (لتكتب) (٨) ودعا عليا ليكتب، فلما اراد ذلك ونحن قعود في ناحية إذ نزل عليه جبريل فقال: ﴿ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه﴾ إلى قوله: ﴿فتطردهم فتكون من الظالمين﴾ [الانعام: ٥٢] (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (الفضل).
(٢) في [أ، ب]: (نصير).
(٣) في [جـ]: (سعد).
(٤) في [أ، ب]: سقطت.
(٥) في [أ، ب]: (حصين).
(٦) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [أ، ب]: (ليكتب).
(٩) ضعيف؛ لضعف أسباط بن نصر، أخرجه ابن ماجه (٤١٢٧)، والطحاوي في شرح المشكل ١/ ٣٣٩، وابن أبي حاتم في التفسير (٧٣٣١)، وابن جرير ٧/ ٢٠١، وأبو يعلى كما في المطالب (٣٦٠٣)، والطبراني (٣٦٩٣)، والبزار (٢١٣٠)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٤٦، والخطيب في الأسماء المبهمة ٧/ ٤٨٣، والبيهقي في الدلائل (١٠٤٩١)، والمزي ٣٤/ ٢٣٠، وابن عساكر ١٠/ ٤٤٧، والواحدي ص ٢٥٠.

حضرت ابو الکنود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے شان نزول کے بارے میں فرمایا: آیت { وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْہَہُ } کہ اقرع بن حابس تمیمی اور عیینہ بن حصن فزاری آئے اور ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ اور حضرت خباب بن الأرت رضی اللہ عنہ جو مسلمانوں میں سب سے کمزور لوگ تھے ان کے پاس بیٹھا ہوا پایا۔ ان لوگوں نے ہمیں حقیر نظروں سے دیکھا۔ پھر یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خلوت میں لے گئے اور کہنے لگے: کہ ہم یہ بات پسند کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے ایک الگ مجلس مقرر کریں تاکہ اہل عرب اس وجہ سے ہماری فضیلت کو جان لیں۔ بیشک اہل عرب کے وفود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں اور ہم شرم کھاتے ہیں کہ وہ ہمیں ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھیں۔ لہٰذا جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو ہمارے پاس سے اٹھا دیا کریں، اور جب ہم فارغ ہوجائیں تو پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو ان کے ساتھ بیٹھ جایا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! ٹھیک ہے یہ لوگ کہنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایک تحریر لکھ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستہ منگوایا تاکہ یہ بات لکھ دی جائے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا تاکہ وہ یہ لکھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھنے کا ارادہ کیا تو ہم لوگ ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے: { وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْہَہُ } سے لے کر { فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُونَ مِنَ الظَّالِمِینَ } تک۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34699]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34699، ترقيم محمد عوامة 33185)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں