🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. في الإمارة
امارت کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33207 ترقیم الشثری: -- 34722
٣٤٧٢٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا يحيى بن سعيد ان الحارث بن (يزيد) (١) الحضرمي اخبره ان ابا ذر سال رسول الله ﷺ الإمارة، وان رسول الله ﷺ قال:"إنك ضعيف وإنها امانة، وإنها يوم القيامة خزي وندامة، إلا من اخذها بحقها وادى الذي عليه فيها" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (زيد).
(٢) منقطع؛ الحارث لا يروي عن أبي ذر، أخرجه الحاكم ٤/ ٩٢، والطيالسي (٤٨٥)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٢٨٠، وابن سعد ٤/ ٢٣١، وورد من حديث الحارث عن ابن حجيرة عن أبي ذر أخرجه مسلم (١٨٢٥).

حضرت حارث بن یزید الخضرمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منصب حکومت کا سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا تو کمزور ہے۔ اور بیشک یہ بہت بڑی امانت ہے۔ اور بیشک یہ قیامت کے دن ذلت اور شرمندگی کا سبب ہوگی۔ سوائے اس شخص کے لیے جس نے اس کو حق کے ساتھ پکڑا اور اس بارے میں جو اس پر لازم تھا وہ حق ادا کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34722]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34722، ترقيم محمد عوامة 33207)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33208 ترقیم الشثری: -- 34723
٣٤٧٢٣ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا بريد بن عبد الله عن ابي بردة عن ابي موسى قال: دخلت على رسول الله ﷺ انا ورجلان من بني عمي، فقال احد الرجلين: يا رسول الله امرنا على بعض ما ولاك الله، وقال الآخر: مثل ذلك، قال: فقال:"إنا والله لا نولي هذا العمل احدا ساله، ولا احدا حرص عليه" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٧١٤٩)، ومسلم (١٧٣٣).
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے دو چچا زاد بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں آدمیوں میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول 5! اللہ نے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلطنت عطا فرمائی ہے اس میں سے کسی حصہ پر ہمیں بھی امیر بنادیں۔ اور دوسرے شخص نے بھی یہی بات کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ کی قسم! ہم یہ عہدہ اس شخص کو سپرد نہیں کرتے جو اس کا سوال کرے اور نہ اس شخص کو جو اس پر لالچی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34723]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34723، ترقيم محمد عوامة 33208)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33209 ترقیم الشثری: -- 34724
٣٤٧٢٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن ابي ذئب عن سعيد المقبري عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إنكم ستحرصون على الإمارة، وستصير حسرة وندامة، فنعمت المرضعة وبئست الفاطمة" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٧١٤٨)، وأحمد (١٠١٦٢).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب تم لوگ امارت پر حرص کرنے لگو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34724]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34724، ترقيم محمد عوامة 33209)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33210 ترقیم الشثری: -- 34725
٣٤٧٢٥ - حدثنا محمد بن بشر العبدي قال: ثنا مسعر قال: ثنا علي بن زيد بن جدعان (قال: ثنا الحسن) (١) قال: ثنا عبد الرحمن بن سمرة قال: قال لي رسول الله ﷺ:"لا تسال الإمارة، فإنك إن اوتيتها عن مسالة وكلت إليها، وإن اوتيتها عن غير مسالة اعنت عليها" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، والخبر ورد من غير طريقه، أخرجه البخاري (٦٧٢٢)، ومسلم (١٦٥٢).

حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: تم کبھی بھی منصب حکومت کا سوال مت کرنا۔ بیشک اگر تمہیں یہ مانگنے سے دی گئی تو تمہیں اس کی طرف سپر د کردیا جائے گا۔ اور اگر تمہیں بغیر مانگے دے دی گئی تو پھر اس پر تمہاری مدد کی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34725]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34725، ترقيم محمد عوامة 33210)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33211 ترقیم الشثری: -- 34726
٣٤٧٢٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن محمد بن المنكدر قال: قال العباس: يا رسول الله، الا تستعملني؟ فقال:"يا عباس يا عم رسول الله، نفس تنجيها خير من إمارة لا تحصيها" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ محمد بن المنكدر تابعي، أخرجه البيهقي ١٠/ ٩٦، وابن سعد ٤/ ٢٧، والخلال في السنة (٦٩).
حضرت محمد بن منکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول 5! آپ مجھے امیر کیوں نہیں بناتے؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عباس! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا! جس نفس کو امارت سے نجات دی جائے وہ امارت سے بہت بہتر ہے آپ رضی اللہ عنہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34726]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34726، ترقيم محمد عوامة 33211)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33212 ترقیم الشثری: -- 34727
٣٤٧٢٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن مجالد (عن عامر) (١) عن مسروق عن عبد الله بن مسعود قال: ما من حكم يحكم بين الناس إلا حشر يوم القيامة وملك آخذ بقفاه حتى يقف به على (٢) جهنم ثم يرفع راسه إلى الرحمن، فإن قال: اطرحه، طرحه في مهوى اربعين خريفا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، م، هـ].
(٢) في [هـ]: زيادة (شفير).
(٣) ضعيف؛ لضعف مجالد.

حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کوئی فیصلہ کرنے والا لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرتا مگر یہ کہ قیامت کے دن اس کا ایسا حشر کیا جائے گا کہ ایک فرشتہ اس کو گردن سے پکڑے گا یہاں تک کہ اس کو جہنم کے کنارے لا کر کھڑا کر دے گا۔ پھر اپنا سر رحمن کی طرف اٹھائے گا۔ اگر رحمن اس کو کہہ دے اس کو جہنم میں ڈال دو۔ تو وہ اس کو چالیس سال کی مسافت کے برابر جہنم کی گہرائی میں ڈال دے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت مسروق رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: میرے نزدیک ایک دن عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں اللہ کے راستہ میں ایک سال جہاد کروں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34727]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34727، ترقيم محمد عوامة 33212)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 34728
٣٤٧٢٨ - قال: وقال مسروق: (لآن) (١) اقضي يوما واحدا بعدل وحق، احب إلي من سنة اغزوها في سبيل الله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (لا).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34728، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33213 ترقیم الشثری: -- 34729
٣٤٧٢٩ - حدثنا ابن نمير قال: ثنا فضيل بن غزوان عن محمد (الراسبي) (١) عن بشر بن عاصم قال: كتب عمر بن الخطاب عهده فقال: لا حاجة لي فيه، إني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إن الولاة يجاء بهم يوم القيامة فيقفون على شفير جهنم، فمن كان (مطواعا) (٢) لله تناوله الله بيمينه حتى ينجيه، ومن عصى الله انخرق به الجسر إلى واد من نار (تلتهب) (٣) التهابا"، قال: قال رسول الله ﷺ، فارسل عمر إلى ابي ذر وإلى سلمان، فقال لابي ذر: انت سمعت هذا الحديث من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم والله، وبعد الوادي واد آخر من نار، قال: وسال سلمان فكره ان يخبر بشيء، فقال عمر: من ياخذها بما فيها، فقال ابو ذر: من (سلت) (٤) ⦗٢١٢⦘ الله انفه وعينيه واصدع خده إلى الارض (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (المراسي).
(٢) في [أ، ب]: (تطوعًا).
(٣) في [أ، ب]: (يلتهب).
(٤) في مسند ابن أبي شيبة: (سلب).
(٥) مجهول؛ لجهالة الراسبي، أخرجه ابن أبي شيبة في المسند (٥٨٧)، وأحمد بن منيع كما في المطالب (٢٠٩٩)، وأبو نعيم في معرفة الصحابة (١١٧٥)، وذكره ابن حجر في الإصابة ترجمة رقم (٦٦٣)، ورواه بنحوه ابن أبي عاصم في الآحاد (١٥٩١)، والطبراني (١٢١٩)، وعبد بن حميد (٤٣٠).

حضرت بشر بن عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف ایک عہدہ سپرد کرنا چاہا۔ تو انہوں نے فرمایا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ عہدیداران سلطنت کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان کو جہنم کے کنارے پر کھڑا کردیا جائے گا۔ پس ان میں سے جو اللہ کا فرمانبردار ہوگا تو اللہ اس کو اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑ لیں گے یہاں تک کہ اس کہ جہنم سے نجات دیں گے، اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی ہوگی تو جہنم کا پُل اس کو وادی میں پھینکے گا جہاں آگ اس کو لپیٹ لے گی۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیجا۔ اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔ اللہ کی قسم! اور فرمایا: اس وادی کے بعد جہنم کی ایک اور وادی ہوگی۔ اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تو انہوں نے اس بارے میں کچھ بھی بتانا ناپسند کیا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب اس بارے میں ایسی بات ہے تو اس کو کون شخص لے گا؟ تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس شخص کے اللہ ناک اور آنکھ کاٹے اور جس کو ذلیل کرنا چاہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34729]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34729، ترقيم محمد عوامة 33213)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33214 ترقیم الشثری: -- 34730
٣٤٧٣٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عطاء بن السائب عن مالك بن الحارث عن (خيثمة) (١) قال: قال رسول الله ﷺ:"الإمارة باب (عنت) (٢) إلا من (رحمه) (٣) الله" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وعند الطبراني (٣٦٠٣): (حميد).
(٢) في [أ، ب]: (عتب).
(٣) في [جـ]: (رحم).
(٤) مرسل؛ خيثمة تابعي.

حضرت خیثمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: امارت مشقت کا دروازہ ہے مگر جس پر اللہ رحم فرما دیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34730]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34730، ترقيم محمد عوامة 33214)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33215 ترقیم الشثری: -- 34731
٣٤٧٣١ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام بن عروة عن ابيه قال: قال عمر: ما حرص رجل كل الحرص على الإمارة فعدل فيها (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ عروة لا يروي عن عمر.
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کسی آدمی نے امارت پر بالکل بھی حرص نہیں کی تو اس نے اس معاملہ میں انصاف کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34731]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34731، ترقيم محمد عوامة 33215)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں