مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
23. ما قالوا: في طعام المجوس وفواكههم
جن لوگوں نے مجوسیوں کے کھانے اور پھلوں کے بارے میں یوں کہا
ترقیم عوامۃ: 33341 ترقیم الشثری: -- 34862
٣٤٨٦٢ - حدثنا جرير عن قابوس عن ابيه ان امراة سالت عائشة فقالت: إن لنا اظارا (١) من المجوس وانهم يكون لهم العيد فيهدون لنا، فقالت: اما ما ذبح لذلك اليوم فلا تاكلوا، ولكن كلوا من اشجارهم (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) جمع ظئر وهي المرضعة.
(٢) ضعيف؛ قابوس فيه لين.
حضرت قابوس کے والد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کہ ہمارے پاس مجوسیوں کی عورتیں ہیں ان کی عید ہوتی ہے تو وہ ہمیں کھانے کی اشیاء ہدیہ کرتی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بہر حال وہ اشیاء جو اس دن ذبح کی جاتی ہیں تم ان کو نہ کھاؤ لیکن تم ان کے درختوں سے کھالیا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34862]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34862، ترقيم محمد عوامة 33341)
ترقیم عوامۃ: 33342 ترقیم الشثری: -- 34863
٣٤٨٦٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا الحسن بن حكيم عن امه عن ابي (برزة) (١) الاسلمي انه كان له سكان مجوس فكانوا يهدون له في النيروز والمهرجان، فيقول لاهله: ما كان من فاكهة فاقبلوه، وما كان سوى ذلك فردوه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (بردة).
(٢) مجهول؛ لجهالة أم الحسن بن حكيم.
حضرت ابو برزہ اسلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے پاس کچھ مجوسی آباد تھے۔ تو یہ لوگ نیروز اور مہرجان والے دن ہمیں ہدیہ بھیجا کرتے تھے۔ تو آپ رحمہ اللہ اپنے گھر والوں سے فرماتے: جو پھل وغیرہ میں سے ہو اس کو تو قبول کرلیا کرو اور جو چیز اس کے علاوہ ہو اس کو لوٹا دیا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34863]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34863، ترقيم محمد عوامة 33342)
ترقیم عوامۃ: 33343 ترقیم الشثری: -- 34864
٣٤٨٦٤ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن عن ابي برزة قال: كنا في غزاة لنا فلقينا اناسا من المشركين فاجهضناهم عن ملة لهم، فوقعنا فيها فجعلنا ناكل منها وكنا نسمع في الجاهلية انه من اكل الخبز سمن، قال: فلما اكلنا تلك الخبزة جعل احدنا ينظر في عطفيه هل سمن (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع حكمًا؛ هشيم مدلس.
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ہم لوگ کسی غزوہ میں شریک تھے۔ ہماری ملاقات مشرکین کے چند لوگوں سے ہوئی۔ تو ہم نے ان کو گرم راکھ پر بنی ہوئی روٹی کھانے سے روک دیا پھر ہم بھی اس میں پڑگئے اور ہم نے بھی اس کو کھانا شروع کردیا۔ اور ہم زمانہ جاہلیت میں سنتے تھے۔ جو شخص روٹی کھاتا ہے وہ فربہ ہوجاتا ہے۔ پس جب ہم نے یہ روٹی کھائی تو ہم میں سے ہر ایک اپنے کو یوں دیکھتا تھا کہ کیا وہ فربہ ہوگیا؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34864]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34864، ترقيم محمد عوامة 33343)
ترقیم عوامۃ: 33344 ترقیم الشثری: -- 34865
٣٤٨٦٥ - حدثنا جرير عن مغيرة (١) عن ابي وائل وإبراهيم قالا: لما قدم المسلمون اصابوا من اطعمة المجوس من جبنهم وخبزهم فاكلوا ولم يسالوا عن شيء من ذلك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (عن إبراهيم).
حضرت مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو وائل رحمہ اللہ اور حضرت ابراہیم رحمہ اللہ دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا: جب مسلمان آئے اور انہوں نے مجوسیوں کا کھانا پایا، ان کا پنیر اور ان کی روٹیاں وغیرہ پس انہوں نے یہ چیزیں کھا لیں اور انہوں نے ان کے بارے میں سوال نہیں کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34865]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34865، ترقيم محمد عوامة 33344)
ترقیم عوامۃ: 33345 ترقیم الشثری: -- 34866
٣٤٨٦٦ - حدثنا ابو اسامة عن هشام عن الحسن قال: كان يكره ان ياكل مما طبخ المجوس في قدورهم، ولم يكن يرى باسا ان يؤكل من طعامهم مما سوى ذلك ⦗٢٤٤⦘ سمن او (خبز) (١) او كامخ (٢) او (شيراز) (٣) او لبن.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ط]: (جبن).
(٢) الكامخ: إدام خصه بعضهم بالمخللات التي تستعمل لتشهي الطعام، انظر: تاج العروس ٧/ ٣٣٠.
(٣) في [أ، ب]: (سراز)، وفي [ط، هـ]: (سرار)، والشيراز: لبن رائب استخرج ماؤه، انظر: تاج العروس.
حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رحمہ اللہ اس کھانے کو ناپسند کرتے تھے جو مجوسیوں کے برتن میں پکایا گیا ہو۔ اور وہ ان کے کھانوں کو تناول فرمانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے سوائے ان چیزوں کے۔ گھی، پنیر، یا شوربہ یا مکھن یا دودھ وغیرہ کو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34866]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34866، ترقيم محمد عوامة 33345)
ترقیم عوامۃ: 33346 ترقیم الشثری: -- 34867
٣٤٨٦٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن هشام عن الحسن قال: لا باس بخلهم وكامخهم والبانهم.
حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کوئی حرج نہیں مجوسیوں کے سرکہ میں اور ان کے شوربے میں اور ان کے دودھ وغیرہ میں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34867]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34867، ترقيم محمد عوامة 33346)
ترقیم عوامۃ: 33347 ترقیم الشثری: -- 34868
٣٤٨٦٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا شريك عن ليث عن مجاهد قال: لا تاكل من طعام المجوسي إلا الفاكهة.
حضرت لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت مجاہد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: تم مجوسی کے کھانوں میں سے پھل کے سوا کچھ بھی مت کھاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34868]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34868، ترقيم محمد عوامة 33347)
ترقیم عوامۃ: 33348 ترقیم الشثری: -- 34869
٣٤٨٦٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) هشام عن الحسن ومحمد قالا: كان المشركون يجيئون بالسمن في ظروفهم (فيشتريه) (٢) اصحاب رسول الله ﷺ والمسلمون فياكلونه ونحن ناكله (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (فيشربه).
(٣) صحيح.
حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رحمہ اللہ اور حضرت محمد رحمہ اللہ ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا: مشرکین اپنے برتنوں میں گھی لایا کرتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور مسلمان ان کو خرید لیتے تھے۔ پھر وہ بھی کھاتے تھے اور ہم بھی اس کو کھالیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34869]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34869، ترقيم محمد عوامة 33348)
ترقیم عوامۃ: 33349 ترقیم الشثری: -- 34870
٣٤٨٧٠ - حدثنا حفص عن عاصم عن ابي عثمان قال: كنا ناكل السمن ولا ناكل الودك ولا نسال عن الظروف.
حضرت عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عثمان رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: ہم لوگ گھی کھاتے تھے اور چربی و چکناہٹ نہیں کھاتے تھے۔ اور نہ ہی ہم برتنوں سے متعلق پوچھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34870]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34870، ترقيم محمد عوامة 33349)
ترقیم عوامۃ: 33350 ترقیم الشثری: -- 34871
٣٤٨٧١ - حدثنا جرير عن منصور قال: سالت إبراهيم عن السمن الجبلي فقال: العربي احب إلي منه، وإني لآكل من الجبلي.
حضرت منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے پہاڑی گھی کے متعلق سوال کیا؟ تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: عربی مجھے زیادہ پسند ہے البتہ میں کھاتا پہاڑی گھی ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34871]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34871، ترقيم محمد عوامة 33350)