مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
82. ما قالوا: في الرجل يعمل الشيء في أرض العدو
جن لوگوں نے یوں کہا: اس آدمی کے بارے میں جو دشمن کے علاقہ میں کوئی کام کرتا ہو
ترقیم عوامۃ: 33693 ترقیم الشثری: -- 35232
٣٥٢٣٢ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد الرحمن بن زياد بن انعم عن خالد بن ابي عمران قال: قلت للقاسم بن محمد وسالم بن عبد الله: إن لنا غلاما يعمل الفخار بارض العدو ثم يبيع فتجتمع النفقة (١) وينفق علينا، قال: لا باس بذلك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: زيادة (له).
حضرت خالد بن أبی عمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ اور حضرت سالم بن عبد اللہ ان دونوں حضرات سے پوچھا: کہ ہمارا ایک غلام ہے جو دشمن کے علاقہ میں کمہار کا کام کرتا ہے۔ پھر ان برتنوں کو فروخت کرتا ہے اور اس کے پاس کافی مال جمع ہوجاتا ہے تو وہ ہم پر بھی اس میں سے خرچ کرتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35232]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35232، ترقيم محمد عوامة 33693)
ترقیم عوامۃ: 33694 ترقیم الشثری: -- 35233
٣٥٢٣٣ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد الرحمن بن (١) زياد عن خالد بن ابي عمران قال: قلت: للقاسم بن محمد وسالم بن عبد الله: الرجل يكون منا في ارض العدو فيصيد (الحيتان) (٢) ويبيع فتجتمع له الدراهم قال: لا باس بذلك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: زيادة (أبي).
(٢) في [أ، ب]: (الحيات).
حضرت خالد بن ابی عمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ اور حضرت سالم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہان دونوں حضرات سے پوچھا: ہم میں سے ایک آدمی جو دشمن کے علاقہ میں ہوتا ہے پس وہ مچھلیاں شکار کرتا ہے اور ان کو فروخت کرتا ہے۔ پھر اس کے پاس بہت درہم جمع ہوجاتے ہیں۔ ان کا کیا حکم ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35233]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35233، ترقيم محمد عوامة 33694)