مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
88. في دعاء المشركين قبل أن يقاتلوا
قتال کرنے سے قبل مشرکین کو دعوت دینے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 33724 ترقیم الشثری: -- 35263
٣٥٢٦٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن ابي البختري قال: لما غزا سلمان المشركين من اهل فارس قال: كفوا حتى ادعوهم كما كنت اسمع رسول الله ﷺ يدعوهم فاتاهم فقال: إني رجل منكم وقد ترون منزلتي من هؤلاء القوم وإنا ندعوكم إلى الإسلام، فإن اسلمتم فلكم مثل ما لنا وعليكم مثل (ما) (١) علينا، وإن ابيتم فاعطوا الجزية عن يد وانتم صاغرون، وإن ابيتم قاتلناكم، قالوا: اما الإسلام فلا نسلم، واما الجزية فلا نعطيها، واما القتال فإنا نقاتلكم، قال: فدعاهم (كذلك) (٢) ⦗٣٥٣⦘ ثلاثة ايام فابوا عليه فقال (للناس) (٣) : انهدوا إليهم (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ل]: (الذي).
(٢) في [هـ]: (لذلك).
(٣) في [هـ]: (الناس).
(٤) ضعيف منقطع؛ عطاء اختلط، وأبو البختري لا يروي عن سلمان، أخرجه أحمد (٢٣٧٢٦)، والترمذي (١٥٤٨)، وسعيد بن منصور (٢٤٧٠)، والبزار (٢٥٤٥)، وأبو عبيد في الأموال (٦١).
حضرت ابو البختری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فارسی اہل فارس کے مشرکین سے جنگ کرنے کے لیے نکلے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم رک جاؤ یہاں تک کہ میں ان کو دعوت دوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دیتے ہوئے سنا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہان کے پاس آئے اور فرمایا: بلاشبہ میں تم ہی میں سے ایک آدمی ہوں اور تحقیق تم لوگوں نے اس قوم میں میرے رتبہ کو دیکھ لیا ہے۔ یقینا ہم تمہیں اسلام کی طرف بلاتے ہیں اگر تم نے اسلام قبول کرلیا تو تمہارے لیے بھی وہی حقوق ہوں گے جو ہمیں حاصل ہیں اور تم پر وہی کچھ لازم ہوگا جو ہم پر لازم ہے۔ اور اگر تم اسلام قبول کرنے سے انکار کرتے ہو تو پھر تم ذلیل اور سرنگوں ہو کر جزیہ ادا کرو۔ اور اگر تم نے جزیہ ادا کرنے سے بھی انکار کردیا تو ہم تم سے قتال کریں گے۔ ان لوگوں نے جواب دیا۔ بہرحال اسلام تو ہم قبول نہیں کریں گے۔ اور جزیہ بھی ہم ادا نہیں کریں گے۔ رہا قتال تو ہم یقینا تمہارے ساتھ قتال و لڑائی کریں گے۔ راوی کہتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح تین دن تک انہیں دعوت دی۔ اور انہوں نے قبول کرنے سے انکار کیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا: ان پر حملہ کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35263]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35263، ترقيم محمد عوامة 33724)
ترقیم عوامۃ: 33725 ترقیم الشثری: -- 35264
٣٥٢٦٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن ابيه قال: كان رسول الله ﷺ إذا بعث اميرا على سرية او جيش اوصاه في خاصة نفسه بتقوى الله و (بمن) (١) معه من المسلمين خيرا، وقال:"اغزوا باسم الله في سبيل الله، (تقاتلون) (٢) من كفر بالله، اغزوا فلا تغلوا ولا (تغدروا) (٣) ولا تمثلوا ولا تقتلوا وليدا، وإذا لقيت عدوك من المشركين فادعهم إلى إحدى ثلاث خصال او خلال، فايتهن ما اجابوك فاقبل منهم، وكف عنهم، ثم ادعهم إلى الإسلام فإن اجابوك فاقبل منهم وكف عنهم، ثم ادعهم إلى التحول من دارهم إلى دار المهاجرين واعلمهم انهم إذا فعلوا ذلك ان لهم ما للمهاجرين وان عليهم ما على المهاجرين، فإن ابوا واختاروا ديارهم، فاعلمهم انهم يكونون كاعراب المسلمين، يجري عليهم حكم الله الذي يجري على المؤمنين، ولا يكون لهم في الفيء والغنيمة نصيب إلا ان يغزوا مع المسلمين، فإن ابوا فادعهم إلى إعطاء الجزية، فإن اجابوا فاقبل منهم وكف عنهم، وإن ابوا فاستعن بالله، ثم قاتلهم" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (من).
(٢) في [ب]: (يقاتلون).
(٣) في [ط]: (تعتذووا).
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٣١)، وأحمد (٢٣٠٣٠).
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو جماعت یا لشکر پر امیر مقرر فرماتے تو اس شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاص طور پر اللہ کے تقویٰ کی وصیت فرماتے۔ اور اس کے ساتھ جو مسلمان ہوتے ان سے بھلائی کا معاملہ کرنے کی وصیت کرتے۔ اور فرماتے: اللہ کے راستہ میں اللہ کا نام لے کر جہاد کرنا۔ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تم ان کے ساتھ قتال کرنا۔ تم جہاد کرنا پس نہ تو خیانت کرنا اور نہ غداری کا معاملہ کرنا۔ نہ ہی ہاتھ پاؤں کاٹ کر مثلہ بنانا اور نہ ہی بچوں کو قتل کرنا۔ اور جب تم اپنے دشمن مشرکین سے ملو تو ان کو تین باتوں میں سے کسی ایک کی طرف یا یوں فرمایا کہ ان کو تین باتوں کی طرف دعوت دینا۔ ان میں سے جو بھی وہ مان لیں اس کو ان کی جانب سے قبول کرلینا، اور ان سے قتال کرنے سے رک جانا۔ پھر ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا۔ اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو اس کو ان کی طرف سے قبول کرلینا اور ان سے قتال کرنے سے رک جانا۔ پھر ان کو اپنا علاقہ چھوڑ کر مہاجرین کے علاقہ میں منتقل ہونے کی دعوت دینا اور ان کو بتلا دینا کہ بیشک جب وہ ایسا کرلیں گے تو ان کو بھی وہی حقوق ملیں گے جو مہاجرین کو حاصل ہیں، اور ان پر وہی چیزیں لازم ہیں جو مہاجرین پر لازم ہیں۔ پس اگر وہ انکار کریں اور اپنے ہی شہر کا انتخاب کریں تو ان کو بتلا دینا کہ وہ لوگ مسلمان دیہاتیوں کی طرح ہوں گے۔ ان پر اللہ کے وہی احکام جاری ہوں گے جو مومنین پر جاری ہوتے ہیں اور ان کا مال فئی اور مال غنیمت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ مگر یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں اگر وہ اس بات کو قبول کرنے سے انکار کردیں تو ان کو جزیہ ادا کرنے کی طرف بلانا۔ اگر وہ اس بات کو مان لیں تو تم اس کو ان کی طرف سے قبول کرلینا اور ان کے ساتھ قتال کرنے سے رک جانا۔ اور اگر وہ اس کا بھی انکار کردیں تو تم اللہ رب العزت سے مدد طلب کرنا پھر ان سے قتال کرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35264]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35264، ترقيم محمد عوامة 33725)
ترقیم عوامۃ: 33726 ترقیم الشثری: -- 35265
٣٥٢٦٥ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا الحسن بن الحكم النخعي قال: حدثنا ابو سبرة النخعي عن فروة بن مسيك المرادي قال: قال رسول الله ﷺ إذا اتيت ⦗٣٥٤⦘ القوم فادعهم، فمن اجابك فاقبل، ومن ابى فلا (تعجل) (١) حتى (تحدث) (٢) (إلي به) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (تجعل).
(٢) في [ط، هـ]: (تجذب).
(٣) في [أ، ب]: (به إليَّ).
(٤) حسن؛ أبو سبرة ذكره ابن حبان في الثقات وروى عنه ثلاثة منهم الأعمش، والحسن بن الحكم صدوق، والخبر أخرجه أبو داود (٣٩٨٨)، والترمذي (٣٢٢٢)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٦٩٩)، وابن سعد ١/ ٤٥، وأبو يعلى (٦٨٥٢)، وابن جرير في التفسير ٢٢/ ٧٦، والطحاوي في شرح المشكل (٣٣٧٩)، والطبراني ١٨/ (٨٣٦)، والمزي ٢٣/ ١٧٥، وابن قانع ٢/ ٣٣٦، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٢٠٢.
حضرت فروہ بن مُسَیک المرادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم کسی قوم کے پاس آؤ تو ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دو۔ جو تمہاری بات مان لے تو قبول کرلو۔ اور جو قبول کرنے سے انکار کر دے تو تم جلدی مت کرو۔ یہاں تک کہ اس کے بارے میں مجھ اطلاع کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35265]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35265، ترقيم محمد عوامة 33726)
ترقیم عوامۃ: 33727 ترقیم الشثری: -- 35266
٣٥٢٦٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا عمر بن ذر عن (١) إسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة عن علي ان النبي ﷺ بعثه في سرية فقال لرجل عنده:"الحقه ولا تدعه من خلفه فقل: إن رسول الله ﷺ يامرك (ان) (٢) تنتظره"، قال: فانتظره حتى جاء فقال:"لا تقاتل القوم حتى تدعوهم" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (يحيى بن).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) منقطع وفيه اضطراب، إسحاق لا يروي عن علي، أخرجه عبد الرزاق (٩٤٢٤)، عن عمر بن ذر عن يحيى بن إسحاق عن علي هكذا في نصب الراية ٣/ ٣٧٨، وفي مطبوع المصنف بدون ذكر علي، وبهذا الإسناد أخرجه إسحاق كما في المطالب العالية (٢٠١٨)، وله إسناد آخر عن علي، أخرجه البخاري في التاريخ ٣/ ٣٧٧، والربيع (٧٩٢)، وورد الخبر من حديث عمر بن ذر عن يحيى بن إسحاق بن عبد اللَّه بن أبي طلحة عن أنس، أخرجه الطبراني في الأوسط (٨٢٦٥)، وأبو الشيخ في أخلاق النبي (٨٠٣)، وانظر: العلل للدارقطني ٤/ ١٥٥ و ٦/ ١٥.
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک لشکر میں بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود ایک آدمی سے کہا: اس سے مل جاؤ اور تم اس کو پیچھے م سے مت پکارنا۔ اور یوں کہنا۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں انتظار کرنے کا حکم دیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے انتظار کیا یہاں تک کہ وہ شخص آگیا اور کہا: تم اس قوم سے قتال مت کرنا یہاں تک کہ تم ان کو دعوت دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35266]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35266، ترقيم محمد عوامة 33727)
ترقیم عوامۃ: 33728 ترقیم الشثری: -- 35267
٣٥٢٦٧ - حدثنا وكيع ثنا شعبة عن غالب العبدي عن رجل من بني نمير عن ابيه عن جده او جد ابيه ان رسول الله ﷺ قال:"لا (تقاتل) (١) (القوم) (٢) حتى تدعوهم" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (تقاتلوا).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (قوم).
(٣) مجهول؛ لإبهام الرجل النميري وأبيه وجده.
قبیلہ بنو نمیر کے ایک شخص اپنے والد کے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: تم کسی بھی قوم سے قتال مت کرنا یہاں تک کہ ان کو دعوت دینا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35267]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35267، ترقيم محمد عوامة 33728)
ترقیم عوامۃ: 33729 ترقیم الشثری: -- 35268
٣٥٢٦٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابو هلال عن قتادة عن ابن عباس قال: إذا لقيتم العدو فادعوهم (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ قتادة لا يروي عن ابن عباس.
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: جب تم دشمن سے ملو تو ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35268]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35268، ترقيم محمد عوامة 33729)
ترقیم عوامۃ: 33730 ترقیم الشثری: -- 35269
٣٥٢٦٩ - حدثنا ابو اسامة عن بن ابي عروبة عن قتادة عن عمر بن عبد العزيز انه كان يحب ان يدعوهم.
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ مشرکین کو دعوت دینا پسند کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35269]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35269، ترقيم محمد عوامة 33730)
ترقیم عوامۃ: 33731 ترقیم الشثری: -- 35270
٣٥٢٧٠ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن ابي صخر قال: كتب عمر بن عبد العزيز إلى اهل ديلم يدعوهم.
حضرت ابو صخر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے دیلم والوں کو خط لکھ کر انہیں اسلام کی دعوت دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35270]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35270، ترقيم محمد عوامة 33731)
ترقیم عوامۃ: 33732 ترقیم الشثری: -- 35271
٣٥٢٧١ - حدثنا عبد الرحيم عن اشعث عن الحسن قال: إذا قاتلتم المشركين فادعوهم.
حضر ت اشعث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: جب تم مشرکین سے قتال کرنے لگو تو پہلے ان کو اسلام کی دعوت دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35271]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35271، ترقيم محمد عوامة 33732)
ترقیم عوامۃ: 33733 ترقیم الشثری: -- 35272
٣٥٢٧٢ - حدثنا يعلى بن عبيد عن الاجلح عن عمار (الدهني) (١) عن ابي الطفيل قال: بعث علي (معقلا) (٢) (التميمي) (٣) إلى بني ناجية فقال: إذا اتيت القوم ⦗٣٥٦⦘ فادعوهم ثلاثا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الذهبي).
(٢) في [ب]: (معقل).
(٣) في [هـ]: (التيمي)، وهو معقل بن قيس الرياحي التميمي، كان على شرطة علي، انظر: تاريخ دمشق ٥٩/ ٣٦٧، والإصابة ٦/ ٣٠٦.
(٤) حسن؛ الأجلح صدوق، أخرجه الطحاوي ٣/ ٢١٢.
حضرت ابو الطفیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت معقل تیمی رحمہ اللہ کو لشکر دے کر بنو ناجیہ قبیلہ کی طرف بھیجا اور فرمایا: جب تم لوگ اس قوم کے پاس پہنچ جاؤ تو تم ان کو تین بار اسلام کی دعوت دینا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35272]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35272، ترقيم محمد عوامة 33733)