مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
88. في دعاء المشركين قبل أن يقاتلوا
قتال کرنے سے قبل مشرکین کو دعوت دینے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 33725 ترقیم الشثری: -- 35264
٣٥٢٦٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن ابيه قال: كان رسول الله ﷺ إذا بعث اميرا على سرية او جيش اوصاه في خاصة نفسه بتقوى الله و (بمن) (١) معه من المسلمين خيرا، وقال:"اغزوا باسم الله في سبيل الله، (تقاتلون) (٢) من كفر بالله، اغزوا فلا تغلوا ولا (تغدروا) (٣) ولا تمثلوا ولا تقتلوا وليدا، وإذا لقيت عدوك من المشركين فادعهم إلى إحدى ثلاث خصال او خلال، فايتهن ما اجابوك فاقبل منهم، وكف عنهم، ثم ادعهم إلى الإسلام فإن اجابوك فاقبل منهم وكف عنهم، ثم ادعهم إلى التحول من دارهم إلى دار المهاجرين واعلمهم انهم إذا فعلوا ذلك ان لهم ما للمهاجرين وان عليهم ما على المهاجرين، فإن ابوا واختاروا ديارهم، فاعلمهم انهم يكونون كاعراب المسلمين، يجري عليهم حكم الله الذي يجري على المؤمنين، ولا يكون لهم في الفيء والغنيمة نصيب إلا ان يغزوا مع المسلمين، فإن ابوا فادعهم إلى إعطاء الجزية، فإن اجابوا فاقبل منهم وكف عنهم، وإن ابوا فاستعن بالله، ثم قاتلهم" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (من).
(٢) في [ب]: (يقاتلون).
(٣) في [ط]: (تعتذووا).
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٣١)، وأحمد (٢٣٠٣٠).
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو جماعت یا لشکر پر امیر مقرر فرماتے تو اس شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاص طور پر اللہ کے تقویٰ کی وصیت فرماتے۔ اور اس کے ساتھ جو مسلمان ہوتے ان سے بھلائی کا معاملہ کرنے کی وصیت کرتے۔ اور فرماتے: اللہ کے راستہ میں اللہ کا نام لے کر جہاد کرنا۔ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تم ان کے ساتھ قتال کرنا۔ تم جہاد کرنا پس نہ تو خیانت کرنا اور نہ غداری کا معاملہ کرنا۔ نہ ہی ہاتھ پاؤں کاٹ کر مثلہ بنانا اور نہ ہی بچوں کو قتل کرنا۔ اور جب تم اپنے دشمن مشرکین سے ملو تو ان کو تین باتوں میں سے کسی ایک کی طرف یا یوں فرمایا کہ ان کو تین باتوں کی طرف دعوت دینا۔ ان میں سے جو بھی وہ مان لیں اس کو ان کی جانب سے قبول کرلینا، اور ان سے قتال کرنے سے رک جانا۔ پھر ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا۔ اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو اس کو ان کی طرف سے قبول کرلینا اور ان سے قتال کرنے سے رک جانا۔ پھر ان کو اپنا علاقہ چھوڑ کر مہاجرین کے علاقہ میں منتقل ہونے کی دعوت دینا اور ان کو بتلا دینا کہ بیشک جب وہ ایسا کرلیں گے تو ان کو بھی وہی حقوق ملیں گے جو مہاجرین کو حاصل ہیں، اور ان پر وہی چیزیں لازم ہیں جو مہاجرین پر لازم ہیں۔ پس اگر وہ انکار کریں اور اپنے ہی شہر کا انتخاب کریں تو ان کو بتلا دینا کہ وہ لوگ مسلمان دیہاتیوں کی طرح ہوں گے۔ ان پر اللہ کے وہی احکام جاری ہوں گے جو مومنین پر جاری ہوتے ہیں اور ان کا مال فئی اور مال غنیمت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ مگر یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں اگر وہ اس بات کو قبول کرنے سے انکار کردیں تو ان کو جزیہ ادا کرنے کی طرف بلانا۔ اگر وہ اس بات کو مان لیں تو تم اس کو ان کی طرف سے قبول کرلینا اور ان کے ساتھ قتال کرنے سے رک جانا۔ اور اگر وہ اس کا بھی انکار کردیں تو تم اللہ رب العزت سے مدد طلب کرنا پھر ان سے قتال کرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35264]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35264، ترقيم محمد عوامة 33725)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 35264 in Urdu