🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

124. في الغنيمة كيف (تقسم؟)
غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33973 ترقیم الشثری: -- 35518
٣٥٥١٨ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) ابو جعفر عن (الربيع) (٢) عن ابي العالية قال: كان رسول الله ﷺ يؤتى بالغنيمة فيقسمها على خمسة، فيكون اربعة لمن شهدها وياخذ الخمس، فيضرب بيده فيه، فما اخذ من شيء جعله للكعبة، وهو سهم الله الذي سمى، (ثم) (٣) يقسم ما بقي على خمسة فيكون سهم لرسول الله ﷺ، وسهم لذوي القربى، وسهم لليتامى، وسهم للمساكين، وسهم لابن السبيل (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (نا).
(٢) في [أ، ب، جـ، ح، س، ط، م]: (الزهري)، وانظر: تفسير ابن كثير ٢/ ٣١١، وأحكام القرآن للجصاص ٤/ ٢٤٣، وعمدة القاري ١٥/ ٥٥، وأضواء البيان ٢/ ٥٩، وتهذيب الكمال ٢١/ ٥٣١.
(٣) في [أ، ب]: (لم).
(٤) مرسل؛ أبو العالية تابعي، أخرجه ابن أبي حاتم في التفسير (٩٠٨٦)، وابن جرير ١٠/ ٣، وابن النحاس في معاني القرآن ٣/ ١٥٧، وأبو داود في المراسيل (٣٧٤)، والطحاوي ٣/ ٢٧٦، وأبو عبيد في الأموال (٣٨، ٨٣٥)، وابن زتجويه (٧١، ١٢٢٧).

حضرت ابو العالیہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب مال غنیمت آتا تو اس کے پانچ حصے فرماتے، چار حصے ان میں تقسیم فرماتے جو جہاد میں شریک تھے، اور خمس نکالتے، اور پھر اپنا ہاتھ اس پر رکھتے، اس میں جو بھی آجاتا اس کو کعبہ کے لیے وقف کردیتے جو کہ اللہ تعالیٰ کا حق ہوتا۔ پھر باقی کے پانچ حصے فرماتے، ایک حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا، ایک حصہ قریبی رشتہ داروں کا، ایک حصہ یتیموں کا، ایک حصہ مسکینوں کا اور ایک حصہ مسافروں کا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35518]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35518، ترقيم محمد عوامة 33973)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33974 ترقیم الشثری: -- 35519
٣٥٥١٩ - حدثنا عيسى بن (يونس عن) (١) صالح بن (ابي) (٢) الاخضر عن الوليد ابن هشام عن مالك بن عبد الله الخثعمي قال: كنا جلوسا عند عثمان فقال: من هاهنا من اهل الشام؟ فقمت، فقال: ابلغ معاوية إذا غنم غنيمة ان ياخذ خمسة اسهم فيكتب على سهم منها لله، ثم ليقرع (فحيثما) (٣) خرج منها فلياخذه (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٣) في [أ، ب]: (حيث).
(٤) ضعيف؛ لضعف صالح بن أبي الأخضر.

حضرت مالک بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا: اھل شام میں سے یہاں کون ہے؟ پس میں کھڑا ہوگیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بتادو کہ: جب مال غنیمت حاصل ہو تو اس کے پانچ حصے کرو، ان میں ایک حصہ پر یوں لکھو اللہ کے لیے ہے، پھر قرعہ ڈالو، جو نکلتا رہے وہ وصول کرتے رہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35519]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35519، ترقيم محمد عوامة 33974)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33975 ترقیم الشثری: -- 35520
٣٥٥٢٠ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) سفيان عن موسى بن ابي عائشة قال: سالت يحيى بن الجزار عن سهم الرسول ﷺ فقال: خمس الخمس (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (نا).
(٢) مرسل؛ يحيى بن الجزار تابعي، أخرجه النسائي (٤٤٤٦)، وعبد الرزاق (٩٤٨٦)، وأبو عبيد في الأموال (٣٥)، وابن زنجويه (٧٤).

حضرت یحییٰ بن جزار سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ کے متعلق دریافت کیا گیا، آپ نے فرمایا وہ خمس کا خمس ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35520]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35520، ترقيم محمد عوامة 33975)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33976 ترقیم الشثری: -- 35521
٣٥٥٢١ - حدثنا جرير عن موسى بن ابي عائشة عن يحيى بن الجزار بنحو منه (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ يحيى تابعي.
حضرت یحییٰ بن جزار سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35521]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35521، ترقيم محمد عوامة 33976)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33977 ترقیم الشثری: -- 35522
٣٥٥٢٢ - حدثنا وكيع ثنا (كهمس) (١) عن عبد الله بن شقيق العقيلي قال: قام رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله اخبرني عن الغنيمة؟ فقال:"لله سهم، (ولهولاء) (٢) اربعة"، قال: قلت: فهل احد احق بها من احد؟ قال: فقال:"إن رميت بسهم في جنبك فلست باحق به من اخيك" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (كتهمس).
(٢) في [أ، ب]: (فلهؤلاء).
(٣) مرسل؛ عبد اللَّه بن شقيق تابعي، أخرجه ابن زنجويه (١١٣٧)، وقد ورد عن ابن شقيق عن رجل من بلقين، أخرجه الطحاوي ٣/ ٢٢٩، وأحمد بن منيع كما في المطالب (٢٠٦٥)، وابن الأثير في أسد الغابة ٦/ ٤٢٦، وابن أبي حاتم في العلل ١/ ٣٠٨، وأبو عبيد في الأموال (٧٦٤)، والبيهقي ٦/ ٣٢٤، وورد من حديث ابن شقيق عن رجل من بلقين عن رجل منهم، أخرجه سعيد بن منصور (٢٦٨٠)، وورد عن ابن شقيق عن رجل من بلقين عن ابن عم له، أخرجه البيهقي في شعب الإيمان (٤٣٢٩).

حضرت عبد اللہ بن شقیق العقیلی سے مروی ہے کہ ایک شخص حضور 5 کی خدمت میں کھڑا ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول 5 مجھے غنیمت کے متعلق بتائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک حصہ اللہ کے لیے اور چار حصے ان کیلئے۔ میں نے عرض کیا: کیا کوئی شخص کسی سے زیادہ حقدار بھی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تیرے پہلو میں تیر بھی مارا گیا پھر بھی تو اپنے بھائی سے زیادہ حقدار نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35522]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35522، ترقيم محمد عوامة 33977)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33978 ترقیم الشثری: -- 35523
٣٥٥٢٣ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن إبراهيم في قوله: ﴿فان لله خمسه﴾، قال: لله كل شيء.
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ قرآن کریم کی آیت { فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ہر چیز اللہ کے لیے ہی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35523]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35523، ترقيم محمد عوامة 33978)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33979 ترقیم الشثری: -- 35524
٣٥٥٢٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك عن عطاء قال: خمس الله وخمس الرسول واحد كان النبي ﷺ يضع ذلك الخمس حيث احب ويصنع (١) ما شاء ويحمل فيه من شاء (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: زيادة (فيه).
(٢) مرسل؛ عطاء ليس صحابيًا.

حضرت عطاء سے مروی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول 5 کا حصہ خمس میں ایک ہی ہے، اللہ کے نبی 5 اس خمس کو جہاں پسند فرماتے رکھتے، جو چاہتے اس میں سے رکھ دیتے اور جو چاہتے اٹھا لیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35524]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35524، ترقيم محمد عوامة 33979)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33980 ترقیم الشثری: -- 35525
٣٥٥٢٥ - حدثنا حفص بن غياث عن اشعث عن الشعبي، ﴿واعلموا انما غنمتم من شيء فان لله خمسه﴾، قال: سهم الله وسهم النبي ﷺ واحد.
حضرت شعبی قرآن کریم کی آیت { وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول 5 کا حصہ خمس میں ایک ہی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35525]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35525، ترقيم محمد عوامة 33980)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33981 ترقیم الشثری: -- 35526
٣٥٥٢٦ - حدثنا سفيان عن قيس بن مسلم عن الحسن بن محمد بن علي قال: سالته عن قوله: ﴿واعلموا انما غنمتم من شيء فان لله خمسه﴾، قال: هذا مفتاح كلام، ليس لله نصيب، لله الدنيا والآخرة.
حضرت حسن بن محمد بن علی رضی اللہ عنہ رحمہ اللہ قرآن کریم کی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ کلام کا آغاز ہے، اللہ کے لیے غنیمت میں کوئی حصہ نہیں ہے، دنیا اور آخرت ساری ہی اللہ کی ملکیت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35526]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35526، ترقيم محمد عوامة 33981)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33982 ترقیم الشثری: -- 35527
٣٥٥٢٧ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن اشعث عن محمد قال: في المغنم خمس لله وسهم (للنبي) (١) ﷺ والصفي (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (النبي).
(٢) مرسل ضعيف؛ ابن سيرين تابعي، وأشعث ضعيف.

حضرت محمد غنیمت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ غنیمت میں خمس اللہ کے لیے ہے، اور اللہ کے نبی کا حصہ ہے اور غنیمت میں اللہ کے نبی 5 کے لیے صفی ہے۔ (صفی وہ خاص حصہ جس کو اللہ کے نبی 5 تقسیم غنیمت سے قبل ہی اپنے لیے الگ فرما لیں) حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی کے لیے غنیمت میں بہترین قیدی کو الگ کیا گیا، پھر خمس نکا لا گیا، پھر لوگوں کے حصہ میں سے خواہ وہ حاضر ہو یا غائب حصہ نکالا گیا۔ حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن اللہ کے نبی 5 نے حضرت صفیہ بنت حیی کو بطور صفی الگ فرما لیا تھا۔ اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ خیبر والے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ بنت حیی کو الگ فرما لیا تھا پھر ان سے نکاح فرما لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35527]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35527، ترقيم محمد عوامة 33982)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں