مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
131. في العبد يأسره (العدو)، ثم يظهر عليه (المسلمون)
اس غلام کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر دوبارہ مسلمان اس پر غالب آ جائیں
ترقیم عوامۃ: 34032 ترقیم الشثری: -- 35583
٣٥٥٨٣ - حدثنا هشيم عن ابن عون عن رجاء بن حيوة ان ابا عبيدة كتب إلى عمر بن الخطاب في عبد اسره المشركون، ثم ظهر عليه (المسلمون) (١) بعد ذلك، قال: صاحبه احق به ما لم يقسم، فإذا قسم (٢) مضى (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (المسلمين).
(٢) في [جـ]: زيادة (فقد)، وفي [ع]: زيادة (حقه).
(٣) منقطع؛ رجاء بن حيوة لا يروي عن عمر.
حضرت ا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجا کہ، غلام کو مشرکین نے قیدی بنا لیا ہو پھر دوبارہ مسلمان اس پر غلبہ حاصل کرلیں تو کیا حکم ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: تقسیم غنیمت سے پہلے اس کا مالک زیادہ حقدار ہے، اور اگر تقسیم ہوجائے تو پھر اس کا حق ختم ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35583]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35583، ترقيم محمد عوامة 34032)
ترقیم عوامۃ: 34033 ترقیم الشثری: -- 35584
٣٥٥٨٤ - حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن رجاء بن حيوة عن قبيصة بن ذؤيب قال: قال عمر: ما احرز المشركون من اموال المسلمين فغزوهم بعد ⦗٤٤١⦘ وظهروا عليهم فوجد رجل ماله بعينه قبل ان (تقسم) (١) السهام فهو احق به، وإن كان قسم فلا شيء له (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (يقسم).
(٢) منقطع؛ قبيصة لا يروي عن عمر.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا مشرکین مسلمان کے مال پر قبضہ کرلیں پھر مسلمان جہاد کر کے ان پر غلبہ حاصل کرلیں اور وہ شخص اپنا مال جوں کا توں تقسیم سے پہلے پالے تو وہ اس مال کا زیادہ حق دار ہے، اور اگر غنیمت تقسیم ہوگئی تو پھر اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35584]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35584، ترقيم محمد عوامة 34033)
ترقیم عوامۃ: 34034 ترقیم الشثری: -- 35585
٣٥٥٨٥ - حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة قال: قال علي: هو للمسلمين عامة؛ لانه كان لهم مالا (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ قتادة لا يروي عن علي.
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: وہ تمام مسلمانوں کیلئے ہے، کیوں کہ وہ ان ہی کا مال تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35585]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35585، ترقيم محمد عوامة 34034)
ترقیم عوامۃ: 34035 ترقیم الشثری: -- 35586
٣٥٥٨٦ - حدثنا معتمر بن سليمان عن ابيه ان عليا كان يقول فيما احرز العدو من اموال المسلمين إنه بمنزلة اموالهم (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ سليمان التيمي لم يدرك عليًا.
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جو مسلمان کا مال کفار کے قبضہ میں چلا جائے، تو وہ ان کے مال کے مرتبہ میں ہے۔ اور حضرت حسن رحمہ اللہ بھی یہی فیصلہ کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35586]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35586، ترقيم محمد عوامة 34035)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 35587
٣٥٥٨٧ - قال: وكان الحسن يقضي بذلك.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35587، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 34036 ترقیم الشثری: -- 35588
٣٥٥٨٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن ثور عن (ابي) (١) عون عن زهرة بن يزيد المرادي ان امة لرجل من المسلمين ابقت ولحقت بالعدو فغنمها المسلمون فعرفها اهلها، فكتب فيها ابو عبيدة إلى عمر فكتب عمر: إن كانت الامة لم تخمس (و) (٢) لم تقسم فهي رد على اهلها، وإن كانت قد خمست وقسمت (فامضها) (٣) (٤) لسبيلها (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ابن).
(٢) سقط من: [أ، جـ].
(٣) في [أ]: (فأبغها).
(٤) في [جـ]: زيادة (إلى).
(٥) مجهول؛ لجهالة زهرة بن يزيد.
حضرت زھرہ ابن یزید المرادی سے مروی ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص کی لونڈی تھی، وہ بھاگ کر دشمن کے ساتھ مل گئی (پھر کچھ عرصہ بعد) مسلمانوں کے ہاتھ مال غنیمت آیا تو باندی کے مالک نے اس کو پہچان لیا۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر دریافت فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا: اگر باندی کا خمس نہیں نکالا گیا اور اس کو تقسیم نہیں کیا گیا، تو پھر وہ مالک کو واپس کردی جائے گی، اور اگر خمس نکال لیا گیا ہے اور غنیمت تقسیم ہوچکی ہے تو پھر اس کو اسی راستہ پر برقرار رکھو۔ (جس کو مل گئی ہے اس کے پاس رہے گی)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35588]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35588، ترقيم محمد عوامة 34036)
ترقیم عوامۃ: 34037 ترقیم الشثری: -- 35589
٣٥٥٨٩ - حدثنا علي بن مسهر عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر ان عبدا ⦗٤٤٢⦘ له ابق وذهب له بفرس (فدخل) (١) ارض العدو فظهر عليه خالد بن الوليد فرد احدهما عليه في حياة رسول الله ﷺ، ورد الآخر بعد وفاة رسول الله ﷺ (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (فيدخل).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٠٦٨)، وأبو داود (٢٦٩٩)، وابن ماجه (٢٨٤٧)، وابن حبان (٤٨٤٥).
حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک غلام ان سے بھاگ گیا اور گھوڑا لے کر فرار ہوگیا، اور دشمن کی سر زمین میں چلا گیا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان پر فتح حاصل کرلی۔ ان میں سے ایک چیز حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی واپس کردی گئی اور دوسری چیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد واپس کردی گئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35589]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35589، ترقيم محمد عوامة 34037)
ترقیم عوامۃ: 34038 ترقیم الشثری: -- 35590
٣٥٥٩٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن ابي إسحاق عن سلمان بن ربيعة فيما احرز العدو قال: صاحبه احق به ما لم يقسم فإذا قسم فلا شيء (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه سعيد بن منصور (٢٨٠٠).
حضرت سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اس چیز کے متعلق فرماتے ہیں جس کو دشمن اٹھا لے، فرمایا غنیمت کی تقسیم سے قبل اس کا مالک ہی زیادہ حقدار ہے، اور اگر غنیمت میں تقسیم ہوجائے تو پھر اس کے مالک کیلئے کچھ نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35590]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35590، ترقيم محمد عوامة 34038)
ترقیم عوامۃ: 34039 ترقیم الشثری: -- 35591
٣٥٥٩١ - حدثنا شريك عن الركين عن ابيه (او) (١) عن عمه قال: حبس لي فرس فاخذه العدو قال: فظهر عليه المسلمون، قال: فوجدته في مربط سعد، قال: (فقلت) (٢) : فرسي، قال: (٣) بينتك، قلت: انا ادعوه فيحمحم، قال: إن اجابك فلا اريد منك بينة (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (و).
(٢) في [أ]: (قلت).
(٣) في [جـ]: زيادة (قال).
(٤) حسن؛ شريك صدوق.
حضرت رکین اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میرا گھوڑا کہیں چلا گیا۔ پس دشمنوں نے اسے پکڑ لیا۔ پھر مسلمان ان پر غالب آگئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اس گھوڑے کو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے باڑے میں پایا۔ میں نے کہا: یہ تو میرا گھوڑا ہے۔ انہوں نے فرمایا: تمہارے گواہ کہاں ہیں؟ میں نے کہا: میں اس کو پکاروں گا تو یہ ہنہنائے گا حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ تمہاری پکار کا جواب دے دے میں تم سے گواہ کا مطالبہ نہیں کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35591]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35591، ترقيم محمد عوامة 34039)
ترقیم عوامۃ: 34040 ترقیم الشثری: -- 35592
٣٥٥٩٢ - حدثنا إسماعيل بن علية عن ايوب عن ابن سيرين ان امة احرزها العدو فاشتراها رجل فخاصمه سيدها إلى شريح فقال: المسلم احق من رد على اخيه بالثمن، فقال: إنها ولدت من سيدها، قال: اعتقها قضاء (الامير) (١) ، فإن كانت كذا وكذا، وإن كانت كذا وكذا، قال: يقول: (الرجل لهو) (٢) اعلم بالقضاء من زيد بن خلدة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الأمر).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (رجل له).
حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ ایک شخص کی باندی کو دشمن پکڑ کرلے گئے، اس کو ایک شخص نے خرید لیا۔ اس کا آقا جھگڑا لے کر حضرت شریح کے پاس آگیا، حضرت شریح نے فرمایا: مسلمان اس کا زیادہ حقدار ہے جو اس کے بھائی کو ثمن کے ساتھ واپس کیا جائے، کہا گیا کہ اس نے اپنے آقا سے بچہ جنا ہے۔ حضرت شریح نے فرمایا: اس کو آزاد کردو یہ امیر کا فیصلہ ہے، اگر وہ تھی اتنے اتنے کی، اگر وہ تھی اتنے اتنے کی اس شخص نے کیا یہ زید بن خلدہ سے زیادہ قضاء کو جانتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35592]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35592، ترقيم محمد عوامة 34040)