مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
191. في الغزو بالغلمان ومن لم يجزهم (لحكم) فيهم؟
بچوں کو جہاد میں ساتھ لے جانے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 34385 ترقیم الشثری: -- 35949
٣٥٩٤٩ - حدثنا ابو اسامة عن هشام عن ابيه قال: رددت انا وابو بكر بن ⦗٥٣٨⦘ عبد الرحمن بن الحارث عن (يوم) (١) الجمل، (استصغرنا) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [هـ]: (استصغرونا).
(٣) صحيح.
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جنگ جمل والے دن مجھے اور حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن کو واپس لوٹا دیا گیا ہمیں چھوٹا قرار دیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35949]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35949، ترقيم محمد عوامة 34385)
ترقیم عوامۃ: 34386 ترقیم الشثری: -- 35950
٣٥٩٥٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: عرضني رسول الله ﷺ في القتال (يوم احد) (١) وانا ابن اربع عشر سنة، فاستصغرني فردني، ثم عرضني يوم الخندق وانا ابن خمس عشرة فاجازني (٢) . - قال نافع: حدثت ذلك عمر بن عبد العزيز - (وهو خليفة) (٣) - فقال: إن هذا (لحد) (٤) بين الصغير والكبير، فكتب إلى عماله ان من بلغ خمس عشرة فافرضوا له في المقاتلة، ومن كان دون ذلك فافرضوا له في (العيال) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٦٦٤)، ومسلم (١٨٦٨).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [أ، ب]: (الحد).
(٥) في [أ، ب، هـ]: (القتال).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جنگ احد کے دن مجھے رسول اکرم 5 کی خدمت میں جہاد میں شریک ہونے کیلئے پیش کیا گیا اس وقت میری چودہ سال عمر تھی مجھے چھوٹا سمجھا گیا اور واپس کردیا گیا پھر غزوہ خندق والے دن مجھے پیش کیا گیا اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی تو مجھے اجازت دے دی گئی۔ حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ تھے تو میں نے یہ روایت ان سے بیان کی، انہوں نے فرمایا: یہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان بیشک ایک حد ہے، پھر انہوں نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ: جس کی عمر پندرہ سال ہو اس کو جہاد کیلئے اور جس کی عمر اس سے کم ہو اس کو اھل و عیال کیلئے مقرر کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35950]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35950، ترقيم محمد عوامة 34386)
ترقیم عوامۃ: 34387 ترقیم الشثری: -- 35951
٣٥٩٥١ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) سفيان عن عبد الملك بن عمير قال: سمعت عطية القرظي يقول: عرضنا على رسول الله ﷺ يوم قريظة فكان من انبت قتل، ومن لم ينبت لم يقتل، فكنت ممن لم ينبت فلم يقتلني (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (نا).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٧٧٦)، وأبو داود (٤٤٠٥)، والترمذي (١٥٨٤)، وابن ماجه (٢٥٤١)، وابن حبان (٤٧٨١)، والحاكم ٢/ ١٢٣، وتقدم في ١٢/ ٣٨٤ برقم [٣٥٣٣٦].
حضرت عطیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ قریظہ کے دن ہمیں رسول اکرم 5 کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بال آچکے تھے اس کو قتل کردیا گیا اور جس کے بال نہ آئے اس کو قتل نہ کیا گیا، میرے بھی چونکہ بال نہ آئے تھے اس لیے مجھے بھی قتل نہ کیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35951]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35951، ترقيم محمد عوامة 34387)
ترقیم عوامۃ: 34388 ترقیم الشثری: -- 35952
٣٥٩٥٢ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن مطرف عن ابي إسحاق عن البراء قال: عرضت انا وابن عمر على رسول الله ﷺ يوم بدر فاستصغرنا وشهدنا احدا (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٩٥٦)، وأحمد (١٨٦٣٣).
حضرت براء رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو غزوہ بدر کے دن رسول اکرم 5 کے سامنے پیش کیا گیا، ہمیں چھوٹا سمجھا گیا، پھر ہم غزوہ احد میں شریک ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35952]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35952، ترقيم محمد عوامة 34388)