🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. ما حفظت في اليرموك
جنگ یرموک کی کچھ باتیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34525 ترقیم الشثری: -- 36100
٣٦١٠٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن سماك قال: سمعت عياضا الاشعري قال: شهدت اليرموك وعلينا خمسة امراء: ابو عبيدة بن الجراح، ويزيد بن ابي سفيان، وابن (حسنة) (١) ، وخالد بن الوليد، وعياض، (وليس) (٢) عياض هذا بالذي حدث عنه سماك، قال: وقال عمر: إذا كان قتال فعليكم ابو عبيدة، قال: فكتبنا إليه انه قد (جاش) (٣) إلينا الموت، واستمددناه، قال: فكتب إلينا انه قد (جاءني) (٤) كتابكم (تستمدوني) (٥) وإني ادلكم على من هو اعز نصرا (واحضر) (٦) جندا فاستنصروه، وإن محمدا ﷺ (٧) كان نصر يوم بدر في اقل من (عددكم) (٨) ، فإذا اتاكم كتابي هذا فقاتلوهم ولا تراجعوني، قال: فقاتلناهم فهزمناهم وقتلناهم في اربعة فراسخ قال: واصبنا اموالا، قال: ⦗٧١⦘ (فتشاورنا) (٩) فاشار علينا عياض ان نعطي (١٠) كل راس عشرة، قال: وقال ابو عبيدة: من يراهنني؟ قال: فقال شاب: انا إن لم تغضب، قال: فسبقه، قال: فرايت عقيصتي ابي عبيدة تنقزان وهو خلفه على فرس (عربي) (١١) (١٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (حسبه).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (ابن).
(٣) في [ب]: (حاش).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (جاء).
(٥) في [ب]: (يستمدوني).
(٦) في [أ، ب]: (وأحصى).
(٧) في [س، ز]: زيادة (قد).
(٨) في [س، ز، ط]: (عدتكم).
(٩) في [هـ]: (فستشارونا).
(١٠) في [هـ]: زيادة (ثمن)، وفي المسند: (عن).
(١١) في [س]: (عري).
(١٢) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه أحمد (٣٤٤)، وابن حبان (٤٧٦٦)، وسبق ١٢/ ٤٩٨ برقم [٣٥٧٩٥].

حضرت عیاض اشعری کہتے ہیں کہ میں جنگ یرموک میں شریک تھا، اس میں ہمارے پانچ امیر تھے: حضرت ابو عبیدہ بن جراح، حضرت یزید بن ابی سفیان، حضرت ابن حسنہ، حضرت خالد بن ولید اور حضرت عیاض۔ اور حضرت عمر نے فرمایا تھا کہ جب لڑائی ہو تو حضرت ابو عبیدہ کی اطاعت کو لازم پکڑنا۔ پھر اس لڑائی میں ہم شدید خطرات میں گھر گئے توہم نے حضرت عمر سے مدد طلب کی۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ تمہارا خط مجھے ملا ہے جس میں تم نے مجھ سے مددمانگی ہے۔ میں تمہیں اس اللہ سے مدد مانگنے کو کہتا ہوں جس کی مدد زیادہ غالب ہے اور جس کا لشکر زیادہ مضبوط ہے اور حضور 5 نے غزوہ بدر میں تم سے کم تعداد کے ساتھ دشمن کو شکست دی تھی، جب میرا یہ خط تمہارے پاس پہنچ جائے تو میری طرف رجوع نہ کرنا۔ اس خط کے ملنے کے بعد ہم نے خوب لڑائی کی اور دشمن کو شکست دے دی۔ ہم نے چار فرسخ تک ان سے لڑائی کی اور بہت سا مال حاصل کیا۔ پھر ہم نے آپس میں مال کی تقسیم کے بارے میں مشورہ کیا تو حضرت عیاض نے مشورہ دیا کہ ہر ایک کو دس دیئے جائیں۔ پھر حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا کہ مجھ سے کون دوڑ لگائے گا۔ ایک نوجوان نے کہا کہ اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں آپ کے ساتھ دوڑ لگاتا ہوں۔ پھر وہ نوجوان آگے نکل گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابو عبیدہ اپنے عربی گھوڑے پر اس نوجوان کے پیچھے تھے اور ان کے بالوں کی مینڈھیاں اڑ رہی تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36100]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36100، ترقيم محمد عوامة 34525)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34526 ترقیم الشثری: -- 36101
٣٦١٠١ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا إسماعيل عن قيس قال: رايت رجلا يريد ان يشتري نفسه يوم اليرموك وامراة تناشده، فقال: ردوا على هذه، فلو اعلم انه يصيبها الذي (اريد) (١) ما (نفست) (٢) عليها، (إني) (٣) والله لان استطعت لا يزول هذا من مكانه، واشار بيده إلى جبل فإن غلبتم على جسدي فخذوه، قال قيس: فمررنا عليه فرايناه بعد ذلك قتيلا في تلك المعركة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (تريد).
(٢) في [س]: (بقيت).
(٣) في [أ، هـ]: (أي)، وفي [س]: (وإني).

حضرت قیس فرماتے ہیں کہ جنگ یرموک میں میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنی جان فدا کرنے کو تیار تھا اور اس کی بیوی اسے واسطے دے کر روک رہی تھی۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اسے مجھ سے دورکرو، میں اس کے لئے ہرگز نہیں رک سکتا۔ حضرت قیس فرماتے ہیں کہ بعد میں ہم نے اس کو دیکھا کہ وہ اس معرکہ میں شہیدہوگیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36101]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36101، ترقيم محمد عوامة 34526)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34527 ترقیم الشثری: -- 36102
٣٦١٠٢ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا مسعر عن سعد بن إبراهيم عن سعيد بن المسيب عمن حدثه انه لم يسمع صوت اشد من صوته (١) وهو تحت راية ابيه يوم اليرموك وهو يقول: هذا يوم من ايام الله، اللهم نزل نصرك -يعني ابا سفيان (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) يقصد أبا سفيان وابنه هو يزيد، انظر: تهذيب الكمال ١٣/ ١٢١، والإصابة ٣/ ٤١٤، والاستيعاب ٤/ ١٦٧٨.
(٢) مجهول؛ لإبهام شيخ سعيد بن المسيب، أخرجه إسحاق كما في المطالب (٤٠٤٧)، وابن عساكر ٥٨/ ١٨٣، واللالكائي ٨/ ١٤٤٨، وسمى المجهول فقال: (عن أبيه).

حضرت سعید بن مسیب نقل کرتے ہیں کہ جنگ یرموک میں ابو سفیان کی آواز سے بلند آواز کسی کی نہ تھی، وہ اپنے بیٹے کے جھنڈے کے نیچے کھڑے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے۔ اے اللہ! اپنی مدد کو نازل فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36102]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36102، ترقيم محمد عوامة 34527)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34528 ترقیم الشثری: -- 36103
٣٦١٠٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن هلال بن يساف عن ربيع بن عميلة عن حذيفة قال: اختلف رجل من اهل الكوفة ورجل من اهل الشام فتفاخرا، فقال الكوفي: نحن اصحاب يوم القادسية ويوم كذا (ويوم) (١) كذا، قال الشامي: نحن اصحاب اليرموك ويوم كذا ويوم كذا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) صحيح.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک کوفی اور ایک شامی شخص کا باہم تفاخر ہوا، کوفی نے کہا کہ ہم قادسیہ والے اور فلاں فلاں لڑائی والے ہیں، شامی نے کہا کہ ہم یرموک والے اور فلاں فلاں لڑائی والے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36103]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36103، ترقيم محمد عوامة 34528)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34529 ترقیم الشثری: -- 36104
٣٦١٠٤ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن الشعبي عن سويد بن غفلة قال: شهدنا اليرموك فاستقبلنا عمر وعلينا الديباج والحرير، فامر فرمينا بالحجارة قال: فقلنا ما بلغه عنا؟ قال: فنزعناه وقلنا كره زينا، فلما استقبلنا رحب بنا ثم قال: إنكم جئتموني في زي اهل الشرك، إن الله لم يرض لمن قبلكم الديباج والحرير (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ ہم یرموک کی لڑائی سے واپس آئے تو حضرت عمر ہمارے استقبال کے لئے آئے۔ اس وقت ہمارے جسم پر ریشم کا لباس تھا۔ حضرت عمر نے لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں پتھر مارے جائیں۔ ہم نے کہا کہ انہیں ہمارے بارے میں نہ جانے کیا خبر ملی ہے؟ پھر ہم نے ریشم کے کپڑے اتار دیئے اور کہا کہ انہیں ہمارا یہ حلیہ ناپسند آیا ہے۔ پھر جب ہم گئے تو انہوں نے ہمارا استقبال کیا اور فرمایا کہ پہلے تم مشرکین کے حلیے میں آئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں کے لئے بھی ریشم کو پسند نہیں کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36104]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36104، ترقيم محمد عوامة 34529)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34530 ترقیم الشثری: -- 36105
٣٦١٠٥ - حدثنا حسين بن محمد قال: حدثنا جرير بن حازم عن نافع عن ابن عمر قال: شهدت اليرموك فاصاب الناس اعنابا واطعمة فاكلوا ولم يروا بها باسا (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں یرموک کی لڑائی میں شریک تھا، وہاں لوگوں کو کھجوریں اور غلے ملے، وہ انہوں نے کھائے اور اس میں کچھ حرج نہیں سمجھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36105]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36105، ترقيم محمد عوامة 34530)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34531 ترقیم الشثری: -- 36106
٣٦١٠٦ - حدثنا ابو اسامة عن الاعمش عن ابي إسحاق قال: لما اسلم عكرمة ابن ابي جهل اتى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله، والله لا اترك مقاما قمته لاصد به عن سبيل الله إلا قمت (مثله) (١) في سبيل الله، (ولا اترك نفقة انفقتها لاصد بها عن سبيل الله إلا انفقت مثلها في سبيل الله) (٢) ، فلما كان يوم اليرموك نزل فترجل فقاتل قتالا شديدا فقتل، فوجد به بضع وسبعون من بين طعنة وضربة ورمية (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (مثلها).
(٢) سقط ما بين القوسين في: [ب، جـ].
(٣) مرسل؛ أبو إسحاق ليس صحابيًا.

حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ جب عکرمہ بن ابوجہل نے اسلام قبول کیا اور حضور 5 کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے جو طریقہ کار اختیار کیا تھا میں وہ ہر طریقہ اللہ کے راستے میں اختیار کروں گا اور جتنا مال میں نے اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے خرچ کیا تھا اتنا ہی مال میں اللہ کے راستے میں خرچ کروں گا۔ جنگ یرموک میں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سواری سے اتر کر پیدل لڑے اور زبردست لڑائی کی، پھر وہ شہید ہوگئے اور ان کے جسم پر نیزوں، تلواروں اور تیروں کے ستر سے زیادہ نشانات تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36106]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36106، ترقيم محمد عوامة 34531)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں