صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلاً بِمِثْلٍ:
باب: برابر برابر اناج کی بیع۔
ترقیم عبدالباقی: 1596 ترقیم شاملہ: -- 4090
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ح، وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا رِبًا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ".
طاوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(مختلف چیزوں کے تبادلے میں) جو دست بدست ہو اس میں سود نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4090]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تبادلہ نقد بنقد ہو وہ سودی معاملہ نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4090]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1596
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1596 ترقیم شاملہ: -- 4091
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ : أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لَهُ: أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ فِي الصَّرْفِ أَشَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ شَيْئًا وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَلَّا لَا أَقُولُ أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِهِ وَأَمَّا كِتَابُ اللَّهِ فَلَا أَعْلَمُهُ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ ".
عطاء بن ابی رباح نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی اور ان سے کہا: بیع صَرف (نقدی یا سونے چاندی کے تبادلے) کے حوالے سے آپ کے قول کے بارے میں کیا رائے ہے، کیا آپ نے یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا اللہ کی کتاب میں پائی ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں ان میں سے کوئی بات نہیں کہتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم مجھ سے زیادہ جاننے والے ہو اور رہی اللہ کی کتاب تو میں (اس میں) اس بات کو نہیں جانتا، البتہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”متنبہ رہو! سود ادھار میں ہی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4091]
عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کو ملے، تو ان سے پوچھا، آپ بیع صرف کے بارے میں جو کہتے ہیں، بتائیے کیا وہ ایسی بات ہے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا وہ بات آپ نے اللہ عزوجل کی کتاب سے اخذ کی ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے جواب دیا، ہرگز نہیں، میں کچھ نہیں کہتا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو آپ زیادہ جانتے ہیں، رہا اللہ کی کتاب کا معاملہ، تو میں نے اس سے بھی یہ معلوم نہیں کیا، لیکن مجھے تو اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار، سود صرف ادھار میں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4091]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1596
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة