🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. كلام ربيع بن (خثيم)
سیدنا ربیع بن خثیم کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35996 ترقیم الشثری: -- 37580
٣٧٥٨٠ - حدثنا (ابو) (١) معاوية (٢) عن الاعمش عن ابي رزين عن ربيع بن خثيم: ﴿بلى من كسب سيئة واحاطت به خطيئته﴾ [البقرة: ٨١] ، قال: ماتوا على كفرهم وربما قال: ماتوا على المعصية.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: زيادة (وكيع).

حضرت ربیع بن خثیم سے { بَلَی مَنْ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَأَحَاطَتْ بِہِ خَطِیئَتُہُ } کے بارے میں روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں جو اپنے کفر پر مرے اور کبھی فرماتے جو لوگ معصیت کی حالت میں مرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37580]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37580، ترقيم محمد عوامة 35996)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35997 ترقیم الشثری: -- 37581
٣٧٥٨١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن منذر عن ربيع بن خثيم انه كان يكنس (الحش) (١) بنفسه قال: فقيل له: إنك تكفى هذا، قال: إني احب ان آخذ بنصيبي من المهنة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الحشر)، وفي [س]: (الجش).
حضرت ربیع بن خثیم کے بارے میں روایت ہے کہ وہ بذات خود بیت الخلاء کو صاف کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں انہیں کہا گیا: آپ کو اس کی کفایت ہے؟ انہوں نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں بھی مشقت میں سے اپنا حصہ لوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37581]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37581، ترقيم محمد عوامة 35997)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35998 ترقیم الشثری: -- 37582
٣٧٥٨٢ - حدثنا حفص عن اشعث عن ابن سيرين عن الربيع بن خثيم قال: اقلوا الكلام إلا بتسع: تسبيح، (وتهليل، وتكبير) (١) وتحميد، وسؤالك الخير، وتعوذك (من) (٢) الشر، وامرك بالمعروف، ونهيك عن المنكر، و (قراءة) (٣) القرآن.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: تقديم وتأخير.
(٢) في [س]: (عن).
(٣) في [أ]: (وقراة).

حضرت ربیع بن خثیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نو باتوں کے علاوہ (باقی) باتیں کم کرو: تسبیح، تہلیل، تکبیر، تحمید اور تمہارا خیر کا سوال کرنا اور تمہارا شر سے پناہ مانگنا، اور تمہارا امر بالمعروف کرنا اور نہی عن المنکر کرنا اور قرآن کی قراءت کرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37582]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37582، ترقيم محمد عوامة 35998)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35999 ترقیم الشثری: -- 37583
٣٧٥٨٣ - حدثنا وكيع عن الاعمش عن منذر عن الربيع انه قال لاهله: اصنعوا لي خبيصا، فصنع فدعا رجلا به (خبل) (١) فجعل ربيع يلقمه (ولعابه) (٢) ⦗٤٤٣⦘ يسيل، فلما اكل وخرج قال له اهله: تكلفنا، وصنعنا، ثم اطعمته؟ (٣) ما يدري هذا ما اكل؟ قال الربيع: لكن الله يدري.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (خيل).
(٢) في [س]: (ويعابه).
(٣) في [ع]: زيادة (رجلًا).

حضرت ربیع کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: تم میرے لیے حلوہ بناؤ۔ چناچہ حلوہ پکایا گیا پھر انہوں نے ایک پاگل آدمی کو بلایا اور حضرت ربیع نے اس کو لقمہ بنا کردینا شروع کیا اور اس کا تھوک بہہ رہا تھا۔ پس جب اس نے کھالیا اور چلا گیا تو گھر والوں نے حضرت ربیع سے کہا ہم نے تکلف کیا اور تیار کیا پھر آپ نے وہ ایسے آدمی کو کھلا دیا جس کو معلوم ہی نہیں کہ اس نے کیا کھایا ہے۔ حضرت ربیع نے فرمایا: لیکن اللہ کو تو معلوم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37583]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37583، ترقيم محمد عوامة 35999)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36000 ترقیم الشثری: -- 37584
٣٧٥٨٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا مالك بن مغول عن الشعبي قال: ما جلس الربيع بن خثيم في مجلس منذ تازر بإزار، قال: اخاف ان يظلم رجل فلا (انصره) (١) ، او يفتري رجل على رجل فاكلف عليه الشهادة، ولا اغض البصر، ولا اهدي السبيل، او تقع الحامل فلا احمل عليها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ينصره).
حضرت شعبی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے کسی مجلس میں نہیں بیٹھے۔ کہتے ہیں مجھے خوف ہے کہ کسی آدمی پر ظلم کیا جائے اور میں اس کی مدد نہ کروں، یا کوئی آدمی کسی آدمی پر جھوٹ باندھے اور مجھے اس پر گواہی کا مکلف بنایا جائے اور میں نگاہ نیچی نہ کرسکوں اور نہ راہ دکھا سکوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37584]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37584، ترقيم محمد عوامة 36000)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36001 ترقیم الشثری: -- 37585
٣٧٥٨٥ - حدثنا (١) خلف بن خليفة عن سيار عن ابي وائل قال: انطلقت انا واخي إلى الربيع بن خثيم، فإذا هو جالس في المسجد فقال: ما جاء بكم؟ قالوا: جئنا لتذكر الله فنذكره معك، وتحمد الله فنحمده معك، فرفع يديه فقال: الحمد لله الذي لم (تقولا) (٢) : جئنا لتشرب (فنشرب) (٣) معك، ولا جئنا (لتزني) (٤) فنزني معك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ز، ط، هـ]: زيادة (ابن).
(٢) في [أ، ع]: (يقولا).
(٣) في [س]: (فتشرب).
(٤) في [س]: (لتشربي).

حضرت ابو وائل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی حضرت ربیع بن خثیم کے پاس گئے تو وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے فرمایا: تمہیں کیا مقصد لایا ہے؟ ہم نے جواب دیا۔ ہم آئے ہیں تاکہ آپ اللہ کا ذکر کریں تو ہم بھی آپ کے ہمراہ اللہ کا ذکر کریں اور آپ اللہ کی تعریف کریں اور ہم بھی آپ کے ساتھ اللہ کی تعریف کریں۔ اس پر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور کہا۔ تمام تعریف اس اللہ کی ہے تم سے یہ نہیں کہلوایا۔ ہم تیرے پاس آئے ہیں کہ تو شراب پئے تاکہ ہم بھی تیرے ساتھ پئیں اور نہ ہم تیرے پاس آئے ہیں کہ تم زنا کرو تاکہ ہم تیرے ساتھ زنا کریں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37585]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37585، ترقيم محمد عوامة 36001)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36002 ترقیم الشثری: -- 37586
٣٧٥٨٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين قال: حدثني من سمع الربيع يقول: عجبا لملك الموت وإتيانه ثلاثة: ملك ممتنع في حصونه، فياتيه فينزع نفسه، ويدع ملكه خلفه، (وطبيب) (١) (نحرير) (٢) يداوي الناس فياتيه فينزع نفسه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط في [جـ].
(٢) في [أ، ب]: (نحر يرى).
(٣) لم يذكر الثالث، وجاء في حلية الأولياء ٢/ ١١٥ ذكر الثالث: (ومسكين منبوذ في الطريق يقذره الناس أن يدنو منه ولا يقذره ملك الموت أن يأتيه فينزع نفسه).

حضرت ربیع فرماتے ہیں ملک الموت اور اس کا تین آدمیوں کے پاس آنا قابل تعجب ہے۔ (ایک) اپنے قلعوں میں بند بادشاہ کہ فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اس کی روح نکالتا ہے اور اس کے ملک کو اس کے پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ اور ماہر طبیب جو لوگوں کا علاج کرتا ہے۔ اس کے پاس فرشتہ آتا ہے اور اس کی روح نکال لیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37586]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37586، ترقيم محمد عوامة 36002)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36003 ترقیم الشثری: -- 37587
٣٧٥٨٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن رجل عن ربيع بن خثيم انه سرقت له فرس من الليل -وهو يصلي- قيمته ثلاثون الفا، فلم ينصرف، فاصبح فحمل على مهرها ثم اصبح فقال: اللهم سرقني ولم اكن (لاسرقه) (١) ، قال: وكان ربيع يجهر بالقراءة، فإذا سمع وقعا خافت.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أسرقه).
حضرت ربیع بن خثیم کے بارے میں روایت ہے کہ ان کا ایک تیس ہزار کی قیمت کا گھوڑا رات نماز پڑھتے ہوئے چوری ہوا لیکن انہوں نے نماز نہ چھوڑی۔ جب صبح ہوئی تو ربیع نے اس کے بچے پر سواری شروع کردی پھر جب صبح ہوئی تو انہوں نے کہا: اے اللہ! اس نے میری چوری کرلی حالانکہ میں نے اس کی چوری نہیں کی تھی۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ربیع قراءت بلند آواز سے کیا کرتے تھے۔ جب آپ نے قدموں کی چاپ سنی تو آہستہ قراءت کرلی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37587]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37587، ترقيم محمد عوامة 36003)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36004 ترقیم الشثری: -- 37588
٣٧٥٨٨ - حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن عبد الملك بن عمير قال: (قيل) (١) للربيع: (الا) (٢) ندعو لك طبيبا؟ فقال: انظروني، ثم تفكر فقال: ﴿وعادا وثمود واصحاب الرس وقرونا بين ذلك كثيرا (٣٨) وكلا ضربنا له الامثال وكلا تبرنا تتبيرا﴾ [الفرقان: ٣٨ - ٣٩] ، فذكر من حرصهم على الدنيا ورغبتهم فيها، (قال) (٣) : (فقد) (٤) كانت فيهم اطباء، فلا المداوي بقي، ولا المداوى، هلك (الناعت والمنعوت) (٥) له، والله لا تدعون لي طبيبا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [هـ]: (لا).
(٣) في [أ، ب، ع]: (فقال).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (فقد).
(٥) في [أ، ب، س، ع]: (الباعث والمبعوث).

حضرت عبدالملک بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع سے کہا گیا ہم آپ کے لیے حکیم کو نہ بلائیں؟ آپ نے فرمایا: تم مجھے مہلت دے دو۔ پھر آپ نے فکر فرمایا تو کہا: { وَعَادًا وَثُمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَیْنَ ذَلِکَ کَثِیرًا وَکُلاًّ ضَرَبْنَا لَہُ الأَمْثَالَ وَکُلاًّ تَبَّرْنَا تَتْبِیرًا } پھر آپ نے ان لوگوں کی دنیوی زندگی پر حرص اور اس زندگی کی رغبت ذکر فرمائی۔ فرمایا: یہ لوگ بیمار ہوئے اور کچھ ان میں حکیم تھے لیکن دوائی کھانے والا بھی باقی نہ رہا اور دوائی کھلانے والا بھی باقی نہ رہا۔ صفت کرنے والا اور صفت کیا ہوا دونوں ہلاکت کا شکار ہوئے۔ بخدا! تم لوگ میرے لیے حکیم کو نہ بلاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37588]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37588، ترقيم محمد عوامة 36004)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36005 ترقیم الشثری: -- 37589
٣٧٥٨٩ - حدثنا عبيدة بن حميد عن داود عن الشعبي قال: دخلنا على ربيع بن خيثم فدعا بهذه الدعوات: اللهم لك الحمد كله، وإليك يرجع الامر كله، وانت إله (الحمد) (١) كله، (٢) بيدك الخير كله، نسالك (من) (٣) الخير كله، ونعوذ بك من الشر كله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (الخلق).
(٢) في [جـ، س، ع]: زيادة (واو).
(٣) سقط من: [س].

حضرت شعبی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ربیع بن خثیم کے پاس گئے تو انہوں نے یہ دعا مانگی۔ اے اللہ! ساری حمد تیرے لیے ہے اور سارے امور تیری طرف لوٹتے ہیں اور ہر قسم کی حمد کے معبود آپ ہی ہیں۔ ساری بھلائیاں آپ کے قبضہ میں ہیں۔ ہم ہر خیر کا آپ ہی سے سوال کرتے ہیں اور ہم ہر شر سے آپ ہی کی پناہ مانگتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37589]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37589، ترقيم محمد عوامة 36005)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں