🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

41. (كلام) أبي رزين
حضرت ابورزین کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36076 ترقیم الشثری: -- 37660
٣٧٦٦٠ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن (خيثمة) (١) عن الحارث بن قيس قال: إذا كنت في شيء من امر (الدنيا) (٢) (فتوح) (٣) ، وإذا كنت في شيء من امر الآخرة فامكث ما استطعت، وإذا جاءك الشيطان وانت تصلي فقال: إنك (ترائي) (٤) ، فزد واطل.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (خثيمة).
(٢) في [أ]: (المدني).
(٣) أي: أسرع كما في لسان العرب ١٥/ ٣٨٢، وتهذيب اللغة ٥/ ١٩٣، وهذا الموافق لما في الزهد لابن المبارك (٣٥)، وفي: [أ، ب، جـ، س، ع]: (فترح)، وفي [ط، هـ]: (فتوخ)، وهو الموافق لما في الزهد لأحمد ص ٣٦٠، وشعب الإيمان ٥/ ٣٤٧، وتهذيب الكمال ٥/ ٢٧٥، ومسند عمر من تهذيب الآثار (١١٤٢)، وحلية الأولياء ٤/ ١٣٢، وصفة الصفوة ٣/ ٧٣.
(٤) في [أ، ب، جـ، ع]: (ترآي)، وفي [س]: (ترى).

حضرت حارث بن قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب تو کسی دنیوی کام میں ہو تو جلدی کرو اور جب تم کسی اخروی معاملہ میں ہو تو جتنا ہوسکے ٹھہرو۔ اور جب تم نماز پڑھ رہے ہو اور شیطان تمہارے پاس آئے اور کہے: تم دکھلاوا کررہے ہو۔ تو تم (پھر بھی) نماز کو مزید لمبا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37660]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37660، ترقيم محمد عوامة 36076)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36077 ترقیم الشثری: -- 37661
٣٧٦٦١ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا شعبة عن الاعمش قال: قال خيثمة: تجلس انت وإبراهيم في المسجد ويجتمع عليكم، قد رايت الحارث بن قيس إذا اجتمع عنده رجلان قام وتركهما.
حضرت اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت خیثمہ نے فرمایا: تم اور ابراہیم مسجد میں بیٹھتے ہو اور تم پر ایک مجمع لگ جاتا ہے۔ جب کہ میں نے حارث بن قیس کو دیکھا کہ جب ان کے پاس دو آدمی جمع ہوجاتے تو وہ ان کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37661]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37661، ترقيم محمد عوامة 36077)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36078 ترقیم الشثری: -- 37662
٣٧٦٦٢ - حدثنا وكيع (١) عن مسعر عن علي بن الاقمر عن ابي الاحوص قال: إن كان الرجل ليطرق الفسطاط، قال: فيجد لهم دويا كدوي النحل، فما بال هؤلاء (يامنون) (٢) ما كان اولئك يخافون.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن الأعمش).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].

حضرت ابوالاحوص سے روایت ہے وہ کہتے ہیں آدمی خیمہ کو کھٹکھٹاتا تھا۔ راوی کہتے ہیں پس وہ ان کے لیے شہد کی مکھیوں کی سی بھنبھناہٹ پاتا تھا۔ ان لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ یہ لوگ اس پر مامون ہیں جس پر وہ لوگ خوفزدہ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37662]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37662، ترقيم محمد عوامة 36078)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36079 ترقیم الشثری: -- 37663
٣٧٦٦٣ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن (١) مالك بن الحارث عن عبد الله ابن ربيعة قال: قال عتبة (بن) (٢) فرقد لعبد الله بن ربيعة: يا عبد الله الا تعينني على ابن اخيك، قال: وما ذاك؟ قال: يعينني على ما انا فيه من عمل، فقال له عبد الله: يا عمرو اطع اباك، قال: فنظر إلى معضد وهو جالس فقال: ﴿كلا لا تطعه واسجد واقترب﴾ [العلق: ١٩] ، قال: فقال عمرو: يا ابت إنما انا عبد اعمل في فكاك رقبتي، قال: فبكى عتبة، وقال: (يا بني) (٣) (إني) (٤) لاحبك حبين: حبا لله، وحب الوالد ولده، قال: فقال عمرو: يا ابت إنك كنت اتيتني بمال بلغ سبعين الفا، (فإن) (٥) كنت سائلي عنه فهو ذا فخذه، وإلا فدعني فامضيه، قال له عتبة: فامضه، قال: فامضاه حتى ما بقي منه درهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة (أبي).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ، ب، س، ع]: (يآبي).
(٤) سقط من: [ب].
(٥) في [ع]: (وإن).

حضرت عبداللہ بن ربیعہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عتبہ بن فرقد نے عبد اللہ بن ربیعہ سے کہا: اے عبداللہ! کیا آپ اپنے بھتیجے کے بارے میں میری مدد نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا: وہ کیا مدد ہے؟ انہوں نے کہا: میں جس کام میں ہوں وہ میری اس میں مدد کرے۔ تو عبداللہ نے اس سے کہا: اے عمرو! اپنے والد کی اطاعت کر۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے حضرت معضد کی طرف دیکھا۔ وہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے فرمایا: تو ان کی اطاعت نہ کر { وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ } راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمرو نے فرمایا: اے میرے ابا جان! میں تو محض ایک غلام ہوں جو اپنی گردن چھڑانے میں عمل کررہا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر عتبہ رو پڑے اور کہا: اے میرے بیٹے! میں تجھ سے دو محبتیں کرتا ہوں ایک اللہ کے لیے محبت اور (دوسری) والد کی اپنے بیٹے سے محبت۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت عمرو نے کہا: اے ابا جان! آپ میرے پاس ستر ہزار کے مبلغ مال لائے تھے۔ پس اگر آپ اس مال کے متعلق مجھ سے سوال کر رہے ہیں تو وہ یہ ہے اس کو لے لو۔ وگرنہ مجھے چھوڑ دو کہ میں اس کو خرچ کروں۔ عتبہ نے اس کو کہا: تم اس کو خرچ لو۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے اس کو اس طرح خرچ کیا کہ اس میں سے ایک درہم بھی باقی نہ رہا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37663]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37663، ترقيم محمد عوامة 36079)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36080 ترقیم الشثری: -- 37664
٣٧٦٦٤ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا الاعمش قال: حدثنا عمارة قال: (خرجنا -معنا) (١) اهل لشريح بن هانئ- إلى مكة، فخرج معنا (يشيعنا) (٢) ، قال: فكان فيما قال لنا: اجدوا السير فإن ركبانكم لا تغني عنكم من الله شيئا، وما فقد الرجل من (الدنيا) (٣) شيئا اهون عليه من نفسه تركها، قال عمارة: فما ذكرتها من قوله إلا انتفعت بها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (خرج معنا)، وفي [س]: (خرجنا مع).
(٢) في [أ، ب]: (شيعنا).
(٣) في [أ]: (الدني).

حضرت عمارہ کہتے ہیں کہ ہم مکہ کی طرف نکلے اور ہمارے ساتھ حضرت شریح کے گھر والے بھی تھے۔ چناچہ شریح ہمارے ساتھ مشایعت میں باہر آئے تو فرمایا: ان کی باتوں میں یہ بات بھی تھی۔ چلنے میں خوب کوشش کرو کیونکہ تمہارے سوار تمہیں خدا کی طرف سے کسی چیز کا فائدہ نہیں دیں گے۔ اور آدمی دنیا میں سے کوئی چیز اپنی جان سے ہلکی نہیں چھوڑتا۔ عمارہ کہتے ہیں میں نے ان کی بات یاد رکھی اور اس سے فائدہ اٹھایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37664]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37664، ترقيم محمد عوامة 36080)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36081 ترقیم الشثری: -- 37665
٣٧٦٦٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن ابيه قال: سمعت ماهان يقول: اما يستحي احدكم ان (تكون) (١) دابته (التي) (٢) يركب وثوبه الذي يلبس اكثر لله منه ذكرا، فكان لا يفتر من التكبير والتهليل.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ع]: (يكون).
(٢) في [أ، ب، ط]: (الذي).

حضرت محمد بن فضیل، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ماہان حنفی کو کہتے سنا: کیا تم میں سے کسی کو اس بات پر حیا نہیں آتی کہ اس کی سواری کا جانور یا اس کے پہننے کا کپڑا اس سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا ہو۔ ماہان تکبیر اور تہلیل میں سستی نہیں کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37665]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37665، ترقيم محمد عوامة 36081)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36082 ترقیم الشثری: -- 37666
٣٧٦٦٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن إبراهيم مؤذن بني حنيفة قال: رايت ماهان الحنفي وامر به الحجاج ان يصلب على بابه، قال: فنظرت إليه وإنه لعلى الخشبة وهو يسبح ويكبر ويهلل ويحمد الله حتى بلغ تسعا وعشرين، فعقد بيده فطعنه وهو على ذلك الحال، فلقد (رايت) (١) بعد شهر (٢) تسعا وعشرين بيده قال: وكان يرى عنده (الضوء) (٣) بالليل.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (رأيته).
(٢) في [هـ]: زيادة (معقودًا).
(٣) في [أ، ب، س]: (الوضوء).

حضرت ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ماہان حنفی کو دیکھا اور حجاج نے ان کے بارے میں حکم دیا تھا کہ ان کو ان کے دروازے پر سولی چڑھا دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان کو اس وقت دیکھا جبکہ وہ تختہ پر تھے اور تسبیح، تکبیر، تہلیل اور خدا کی حمد وثنا میں مصروف تھے۔ یہاں تک کہ جب انتیس کو پہنچے تو اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اسی حالت میں ان کو نیزہ لگا۔ پھر میں نے ان کو ایک مہینہ کے بعد بھی، اپنے ہاتھ سے انتیس کا عدد شمار کیے ہوئے دیکھا۔ راوی کہتے ہیں رات کے وقت ان کے پاس روشنی دیکھی جاتی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37666]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37666، ترقيم محمد عوامة 36082)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں