مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
40. كلام (معضد)
حضرت معضد کا کلام
ترقیم عوامۃ: 36061 ترقیم الشثری: -- 37645
٣٧٦٤٥ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم عن همام قال: انتهيت إلى معضد وهو ساجد (نائم) (١) قال: (فاتيته) (٢) وهو يقول: اللهم اشفني من النوم بيسير -ثم مضى في صلاته.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ع]: (نايم).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (فانتبه).
حضرت ہمام سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت معضد کے پاس گیا اور وہ سجدہ کی حالت میں تھے۔ کہتے ہیں کہ میں ان کے پاس آیا تو وہ کہہ رہے تھے۔ اے اللہ! تو مجھے تھوڑی نیند سے شفا دے دے پھر آپ اپنی نماز پڑھنے لگے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37645]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37645، ترقيم محمد عوامة 36061)
ترقیم عوامۃ: 36062 ترقیم الشثری: -- 37646
٣٧٦٤٦ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا الاعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: رمي معضد بسهم في راسه، فنزع السهم من راسه، ثم وضع يده على موضعه ثم قال: إنها لصغيرة، وإن الله ليبارك في الصغيرة.
حضرت علقمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت معضد کو ان کے سر میں تیر لگ گیا تو انہوں نے اپنے سر سے تیر نکالا پھر اپنے ہاتھ کو اس کی جگہ رکھا پھر فرمایا: یہ تو چھوٹا ہے اور اللہ تعالیٰ چھوٹے میں بھی برکت دے دیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37646]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37646، ترقيم محمد عوامة 36062)
ترقیم عوامۃ: 36063 ترقیم الشثری: -- 37647
٣٧٦٤٧ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: اصاب ثوبه من دم معضد، قال: فغسله فلم يذهب اثره قال: (فكان) (١) يصلي فيه ويقول: إنه ليزيده إلي حبا (من) (٢) دم معضد.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (وكان).
(٢) سقط من: [س، ط].
حضرت علقمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ان کے کپڑوں پر حضرت معضد کا خون لگ گیا۔ کہتے ہیں: انہوں نے اس کو دھویا لیکن اس کا اثر ختم نہ ہوا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ اسی کپڑے میں نماز پڑھتے تھے اور کہتے تھے: بیشک معضد کے خون کی وجہ سے یہ کپڑا مجھے زیادہ محبوب ہوگیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37647]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37647، ترقيم محمد عوامة 36063)
ترقیم عوامۃ: 36064 ترقیم الشثری: -- 37648
٣٧٦٤٨ - حدثنا علي بن مسهر عن الاعمش عن عمارة قال: نزل معضد إلى جانب شجرة فقال: والله ما ابا لي صليت لهذه من دون الله او اطعت مخلوقا في معصية الله.
حضرت عمارہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت معضد ایک درخت کے پاس اترے تو فرمایا: بخدا! مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے کہ میں اللہ کے سوا اس کی نماز پڑھوں یا خدا کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت کروں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37648]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37648، ترقيم محمد عوامة 36064)
ترقیم عوامۃ: 36065 ترقیم الشثری: -- 37649
٣٧٦٤٩ - حدثنا جرير عن الشيباني قال: كان لمعضد اخ، قال: فكان ياتي السوق فيشتري ويبيع، وينفق على عياله (وعلى) (١) عيال معضد، قال: فكان يقول: هو خير مني، نحن في عياله ينفق علينا (والله تعالى اعلم) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [جـ، ع].
حضرت شیبانی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت معضد کا ایک بھائی تھا۔ راوی کہتے ہیں: وہ بازار میں آتا۔ خریدو فروخت کرتا اور اپنے اور معضد کے عیال پر خرچ کرتا۔ راوی کہتے ہیں وہ کہا کرتے تھے: یہ مجھ سے بہتر ہے۔ ہم اس کے عیال میں سے ہیں۔ یہ ہم پر خرچ کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37649]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37649، ترقيم محمد عوامة 36065)