مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
65. (حديث (أبي) (عبيدة))
حضرت ابو عبیدہ کے آثار
ترقیم عوامۃ: 36504 ترقیم الشثری: -- 38092
٣٨٠٩٢ - حدثنا علي بن مسهر عن ليث (عن) (١) ابي عبيدة قال: يقول -يعني الله ﵎: ما بال اقوام يتفقهون بغير عبادتي، يلبسون مسوك الضان، وقلوبهم امر من الصبر، ابي يغترون ام إياي يخدعون؟ فبي حلفت ⦗٩⦘ (لاتيحن) (٢) لهم فتنة في الدنيا تدع الحليم (منهم) (٣) حيرانا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (بن).
(٢) في [س]: (لا نحن لهم)، وفي [هـ]: (لأنيخنّ).
(٣) في [أ، ب]: (فيهم).
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو کیا ہواجومیری عبادت کے بغیر سمجھدار بننا چاہتے ہیں؟ وہ بھیڑ کی کھال اوڑھتے ہیں لیکن ان کے دل ایلوے (ایک کڑوا پھل) سے زیادہ کڑوے ہیں۔ کیا وہ میری وجہ سے دھوکے میں ہیں یا مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں اپنی قسم کھا کر کہتاہوں کہ میں انہیں دنیا میں ایسے فتنے میں مبتلا کروں گا جو ان میں سے بردبار کو بھی حیران و سرگرداں کردے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38092]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38092، ترقيم محمد عوامة 36504)
ترقیم عوامۃ: 36505 ترقیم الشثری: -- 38093
٣٨٠٩٣ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن ابي إسحاق عن ابي عبيدة ان جبارا من الجبابرة قال: لا انتهي حتى انظر إلى من في السماء، قال: فسلط (الله) (١) عليه اضعف خلقه، فدخلت (بقة) (٢) في انفه فاخذه الموت، فقال: اضربوا راسي، فضربوه حتى (نثروا) (٣) دماغه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [س]: (بقية)، وهي صغير البعوض.
(٣) في [س]: (نشروا)، وفي [ع]: (ثردوا).
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ ایک متکبر اور سرکش شخص نے کہا کہ میں اس وقت تک ظلم سے باز نہیں آؤں گا جب تک میں آسمان میں موجود ساری مخلوق کو نہیں دیکھ لیتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی ایک کمزور ترین مخلوق کو مسلط کردیا۔ ایک جوں اس کے ناک میں داخل ہوئی اور اس کی موت کا سبب بن گئی۔ وہ کہتا تھا کہ میرے سر پر مارو، لوگوں نے اس کے سر پر اتنامارا کہ اس کا دماغ ظاہر ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38093]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38093، ترقيم محمد عوامة 36505)
ترقیم عوامۃ: 36506 ترقیم الشثری: -- 38094
٣٨٠٩٤ - حدثنا ابو اسامة عن مسعر عن ربيع قال: سمعت ابا عبيدة يقول: إن الحكم العدل ليسكن الاصوات عن الله، وإن (الحكم) (١) (الجائر) (٢) تكثر منه الشكاة إلى الله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (الحاكم).
(٢) في [ع]: (الجاير)، وفي [س]: (الجابر).
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ انصاف کی حکومت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی آوازوں کو خاموش کر ادیتی ہے اور ظلم والی حکومت سے اللہ کی طرف جانے والی شکایتیں بڑھ جاتی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38094]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38094، ترقيم محمد عوامة 36506)
ترقیم عوامۃ: 36507 ترقیم الشثری: -- 38095
٣٨٠٩٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (ابي إسحاق) (١) عن ابي عبيدة: ﴿إن هؤلاء لشرذمة قليلون﴾ [الشعراء: ٥٤] ، قال: كانوا ستمائة الف و (سبعين) (٢) الفا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [جـ]: (سبعون).
حضرت ابو عبیدہ قرآن مجید کی آیت {إنَّ ہَؤُلاَئِ لَشِرْذِمَۃٌ قَلِیلُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ چھ لاکھ ستر ہزار لوگ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38095]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38095، ترقيم محمد عوامة 36507)