مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
17. وذكر أن أبا حنيفة قال: لا يفعل فإن فعل فعليه دم
جو محرم بوجہ عذر کے پائجامہ پہنے اور اس پر دَمْ کے وجوب کا بیان
ترقیم عوامۃ: 37260 ترقیم الشثری: -- 38859
٣٨٨٥٩ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن جابر بن زيد عن ابن عباس قال: صليت مع النبي ﷺ ثمانيا جميعا وسبعا جميعا (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (١١٧٤)، ومسلم (٧٠٥)، وأحمد (١٩١٨).
حضرت جابر بن زید، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آٹھ (رکعات) اکٹھی اور سات (رکعات) اکٹھی نماز پڑھی ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا! اے ابو الشعشائ! میرے خیال میں انہوں نے ظہر کو مؤخر اور عصر کو مقدم کر کے پڑھا (تو آٹھ رکعات اکٹھی ہوگئیں) اور مغرب کو مؤخر اور عشاء کو جلدی کر کے پڑھا (تو سات رکعات اکٹھی ہوگئیں) تو انہوں نے فرمایا: میرا بھی یہی خیال ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38859]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38859، ترقيم محمد عوامة 37260)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 38860
٣٨٨٦٠ - قال: قلت: يا ابا الشعثاء، اظنه آخر الظهر وعجل العصر، واخر المغرب وعجل العشاء، قال: وانا اظن ذلك.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38860، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 37261 ترقیم الشثری: -- 38861
٣٨٨٦١ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سالم عن ابيه ان النبي ﷺ كان إذا جد به السير جمع بين المغرب والعشاء (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (١١٠٦)، ومسلم (٧٠٣).
حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر کرنا ہوتا تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع فرما لیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38861]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38861، ترقيم محمد عوامة 37261)
ترقیم عوامۃ: 37262 ترقیم الشثری: -- 38862
٣٨٨٦٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي الزبير عن ابي الطفيل عن معاذ بن جبل ان النبي ﷺ جمع بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء (في السفر) (١) في غزوة تبوك (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (٧٠٦)، وأحمد (٢٢٠٦٢).
حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سفر میں ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کو جمع فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38862]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38862، ترقيم محمد عوامة 37262)
ترقیم عوامۃ: 37263 ترقیم الشثری: -- 38863
٣٨٨٦٣ - حدثنا ابن مسهر عن ابن ابي ليلى عن عطاء عن جابر قال: جمع النبي ﷺ في غزوة تبوك بين الظهر والعصر، وبين المغرب والعشاء (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ ابن أبي ليلى سيء الحفظ، وأخرجه ابن حبان (١٥٩٠)، وعبد بن حميد (١١٣٠)، والطحاوي ١/ ١٦١، وابن عبد البر في التمهيد ١٢/ ٢١٧، وأخرجه بنحوه أحمد (١٤٧٤٩).
حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کو جمع فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38863]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38863، ترقيم محمد عوامة 37263)
ترقیم عوامۃ: 37264 ترقیم الشثری: -- 38864
٣٨٨٦٤ - حدثنا يزيد عن محمد بن إسحاق عن حفص بن عبيد الله بن انس قال: كنا نسافر مع انس إلى مكة، فكان إذا زالت الشمس وهو في منزل لم يركب حتى يصلي الظهر، فإذا راح فحضرت (العصو) (١) صلى العصر، فإن سار من منزله قبل ان تزول (الشمس) (٢) فحضرت الصلاة قلنا: الصلاة، فيقول: سيروا، حتى إذا كان بين الصلاتين نزل فجمع بين الظهر والعصر، ثم قال: رايت النبي ﷺ إذا وصل ضحوته بروحته صنع هكذا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الصلاة).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، أخرجه البزار (٦٨٨/ كشف)، وأصله عند البخاري (١١٢)، ومسلم (٧٥٤).
حضرت حفص بن عبیداللہ بن انس سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ہم حضرت انس کے ساتھ مکہ کی طرف سفر کرتے، پس جب سورج زائل ہوجاتا اور حضرت انس کسی منزل میں ٹھہرے ہوتے تو آپ ظہر کی نماز ادا کرنے سے پہلے سوار نہ ہوتے، اور جب آپ شام کو سوار ہوتے اور عصر کا وقت موجود ہوتا تو آپ عصر پڑھ لیتے، لیکن اگر آپ اپنی منزل سے زوال شمس سے پہلے روانہ ہوچکے ہوتے اور نماز کا وقت آجاتا اور ہم کہتے، نماز؟ تو آپ فرماتے: چلتے رہو، یہاں تک کہ جب دو نمازوں کا درمیان ہوجاتا تو آپ سواری سے اترتے اور ظہر، عصر کو جمع فرماتے اور پھر فرماتے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صبح سے شام تک مسلسل سفر کرتے تو یونہی کرتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38864]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38864، ترقيم محمد عوامة 37264)
ترقیم عوامۃ: 37265 ترقیم الشثری: -- 38865
٣٨٨٦٥ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده ان النبي ﷺ جمع بين الصلاتين في غزوة بني المصطلق (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه أحمد (٦٦٨٢)، وسبق ٢/ ٤٥٨ برقم [٨٤٦٤].
حضرت عمرو بن شعیب کے دادا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ بنی المصطلق میں دو نمازوں کو جمع فرمایا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ: ایسا کرنے والے کو یہ عمل کافی نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38865]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38865، ترقيم محمد عوامة 37265)