مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
21. وذكر أن أبا حنيفة كان يقول: (جائز) إذا كان كفوءا
بغیر ولی کے نکاح کرنے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 37273 ترقیم الشثری: -- 38873
٣٨٨٧٣ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد الله عن ابن عباس ان سعد بن عبادة استفتى النبي ﷺ في نذر كان على امه، وتوفيت قبل ان تقضيه فقال:"اقضه عنها" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٦٩٨)، ومسلم (١٦٣٨).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں سوال کیا جو ان کی والدہ پر لازم تھی اور وہ اس کو پورا کرنے سے پہلے ہی وفات پا گئی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نذر کو تم ان کی طرف سے پورا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38873]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38873، ترقيم محمد عوامة 37273)
ترقیم عوامۃ: 37274 ترقیم الشثری: -- 38874
٣٨٨٧٤ - حدثنا ابن نمير عن عبد الله ابن عطاء عن ابن بريدة عن ابيه قال: كنت جالسا عند النبي ﷺ إذ جاءته امراة فقالت: إنه كان على امي صوم شهرين (افاصوم) (١) عنها؟ قال:"صومي عنها، (ارايت لو كان) (٢) على امك دين (قضيته) (٣) ، اكان يجزئ عنها؟" قالت: بلى قال:"فصومي (عنها) (٤) " (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س]: (فأصوم).
(٢) في [هـ]: (قال)، وفي [س]: (لو كان).
(٣) في [س]: (فقضيته).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (١١٤٩)، وأحمد (٢٣٠٣٢).
حضرت ابن بریدہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت حاضر ہوئی اور اس نے کہا۔ میری والدہ پر دو ماہ کے روزے (لازم) تھے۔ کیا میں ان کی طرف سے یہ روزے رکھ سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان کی طرف سے روزے رکھو۔ تو بتاؤ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا اور تم اس کو ادا کرتی تو کیا یہ کافی ہوجاتا؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس پھر تم ان کی طرف سے روزے رکھو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38874]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38874، ترقيم محمد عوامة 37274)
ترقیم عوامۃ: 37275 ترقیم الشثری: -- 38875
٣٨٨٧٥ - حدثنا عبد الرحيم عن محمد بن كريب (عن كريب) (١) عن ابن عباس عن سنان بن عبد الله (الجهني) (٢) انه حدثته عمته انها اتت النبي ﷺ (فقالت: يا رسول الله إن امي توفيت وعليها مشي إلى الكعبة نذرا) (٣) ، فقال النبي ﷺ:"اتستطيعين تمشين عنها؟" قالت: نعم قال:"فامشي عن امك"، قالت: او يجزئ ذلك عنها؟ قال:"نعم" قال:"ارايت لو كان عليها دين قضيته هل كان يقبل (منها؟) (٤) " قالت: نعم، فقال النبي ﷺ:" (فدين) (٥) الله احق" (٦)
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [هـ]: (الجهمي).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، س]، وقد سبق الخبر بإثباتها برقم [١٣٠١٨].
(٤) في [أ، ب، جـ، س]: (عنها)، وفي [هـ]: (منك).
(٥) سقط من: [أ، ب، س].
(٦) ضعيف؛ لضعف محمد بن كريب، أخرجه البخاري في التاريخ ٤/ ١٦١، وأبو يعلى كما في المطالب (١٧٨٦)، وابن عدي ١٣/ ٢٧٧، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٢٩٥)، وبنحوه أخرجه أحمد ١/ ٢٧٩ (٢٥١٨)، وابن خزيمة (٣٠٣٤).
حضرت سنان بن عبد اللہ جہنی بیان کرتے ہیں کہ انہیں ان کی پھوپھی نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میری والدہ اس حال میں وفات پا گئی ہیں کہ ان پر مکہ کی طرف پیدل آنے کی نذر لازم تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کی طرف سے مکہ کی طرف پیدل آسکتی ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تم ان کی طرف سے چل کر مکہ آؤ۔ سائلہ نے پوچھا: کیا یہ ان کی طرف سے کفایت کر جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اور فرمایا: تم بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا اور تم اس کو ادا کرتی تو کیا یہ تمہاری والدہ کی طرف سے قبول کرلیا جاتا؟ انہوں نے عرض کیا۔ جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ زیادہ حق دار ہے۔ (کہ اس کا حق ادا کیا جائے)۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ: یہ چیز میت کو کفایت نہیں کرے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38875]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38875، ترقيم محمد عوامة 37275)