مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
65. وذكر أن أبا حنيفة قال: ليس على المسافر أضحية
کیا مسافر پر قربانی لازم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 37424 ترقیم الشثری: -- 39025
٣٩٠٢٥ - حدثنا عبدة عن هشام بين عروة عن ابيه عن عائشة قال: خرجنا مع النبي ﷺ في حجة الوداع موافين لهلال ذي الحجة، فقال النبي ﷺ:"من اراد منكم ان يهل بعمرة فليهل، فإني لولا اني اهديت لاهللت بعمرة"، قالت: فكان من القوم من اهل بعمرة، ومنهم من اهل بحج، قالت: فكنت انا ممن اهل بعمرة، قالت: فخرجنا حتى قدمنا مكة فادركني يوم عرفة وانا حائض لم احل من عمرتي، فشكوت ذلك إلى النبي ﷺ فقال:"دعي عمرتك، وانقضي راسك، وامتشطي واهلي بالحج"، قالت: ففعلت، فلما كانت ليلة (الحصبة) (١) وقد قضى الله حجنا ارسل معي عبد الرحمن بن ابي بكر فاردفني وخرج (بي) (٢) إلى التنعيم، فاهللت بعمرة، فقضى الله حجنا وعمرتنا، لم يكن في ذلك هدي ولا صدقة ولا صوم (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (المحصبة).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٧٨٦)، ومسلم (١٢١١).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ذی الحجہ کے چاند پر حجۃ الوداع میں نکلے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی عمرہ کے لئے تلبیہ کہنا چاہتا ہو تو وہ تلبیہ کہہ لے۔ کیونکہ اگر میں ہدی کا جانور ساتھ نہ لایا ہوتا تو میں بھی عمرے کے لئے تلبیہ کہتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قوم میں سے کچھ نے عمرے کے لئے تلبیہ کہا اور بعض نے حج کے لئے تلبیہ کہا۔ فرماتی ہیں مں ب عمرہ کا تلبیہ کہنے والوں میں تھی۔ فرماتی ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ مکہ آپہنچے۔ مجھ پر یوم عرفہ اس حالت میں آیا کہ میں حائضہ تھی۔ اور اپنے عمرہ سے بھی حلال نہیں ہوئی تھی۔ میں نے اس بات کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے عمرے کو چھوڑ دو اور اپنا سر کھول لو اور کنگھی کرلو اور حج کے لئے تلبیہ کہہ لو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے یہ کام کیا پس جب ایام تشریق کے بعد والی رات آئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج مکمل فرما دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ عبد الرحمان بن ابی بکر کو بھیجا۔ انہوں نے مجھے اپنے ہمراہ لیا اور مجھے تنعیم کی طرف لے کر نکل گئے۔ پھر میں نے عمرہ کے لئے تلبیہ کہا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج اور عمرہ پورا فرمایا۔ اس میں ہدی، صدقہ اور روزہ (کچھ بھی) نہیں تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39025]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39025، ترقيم محمد عوامة 37424)
ترقیم عوامۃ: 37425 ترقیم الشثری: -- 39026
٣٩٠٢٦ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن ابن ابي نجيح عن مجاهد (و) (١) عطاء قال: سالتهما عن امراة قدمت مكة بعمرة فحاضت (فخشيت) (٢) ان يفوتها الحج؟ فقالا: تهل بالحج وتمضي.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عن).
(٢) سقط من: [جـ].
حضرت ابن ابی نجیح، مجاہد اور عطاء کے بارے میں روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان دونوں سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جو مکہ میں عمرہ کے لئے آئے اور حائضہ ہوجائے۔ اور اس کو حج کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو؟ تو ان دونوں نے فرمایا: یہ عورت حج کا تلبیہ کہہ لے گی اور اس کو پورا کرے گی۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ: عورت حج کو چھوڑ دے گی اور اس پر دَم واجب ہوگا اور عمرہ کی جگہ عمرہ ادا کرنا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39026]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39026، ترقيم محمد عوامة 37425)