مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
104. (وذكر) أن أبا حنيفة قال: (لا) يصلي حين تغيب أو تطلع (وتمكن) الصلاة
فجر کی نماز کے بعد نماز طواف کرنے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 37602 ترقیم الشثری: -- 39206
٣٩٢٠٦ - حدثنا عبد الله بن المبارك عن سعيد بن يزيد قال: سمعت خالد بن ابي عمران يحدث عن حنش عن فضالة بن عبيد قال: اتى (النبي) (١) ﷺ يوم خيبر بقلادة فيها خرز معلقة بذهب ابتاعها رجل بسبعة دنانير، او بتسعة دنانير، فاتى النبي ﷺ فذكر ذلك له فقال:"لا، حتى (تميز) ما بينهما" (٢) ، قال: إنما اردت الحجارة، قال:"لا، حتى (تميز) (٣) ما بينهما"، قال: فرده حتى ميز (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ب، س]: (يميز).
(٣) في [أ، ب، س]: (يميز).
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٥٩١)، وأحمد (٢٣٩٦٢).
حضرت فضالہ بن عبید فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں خیبر کے دن ایک ہار لایا گیا جس میں سونے کے ساتھ لٹکے ہوئے موتی تھے۔ اس ہار کو ایک آدمی نے سات یا نو دیناروں کے عوض خریدا۔ پس یہ ہار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا اور اس کی خریداری کا تذکرہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! یہاں تک کہ دونوں کو جُدا جُدا کردیا جائے۔ کسی نے عرض کیا۔ آپ کا ارادہ پتھر کے بارے میں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! یہاں تک کہ یہ دونوں جُدا جُدا ہوں۔ راوی کہتے ہیں اس نے یہ ہار واپس کردیا یہاں تک کہ (انہیں) جُدا کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39206]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39206، ترقيم محمد عوامة 37602)
ترقیم عوامۃ: 37603 ترقیم الشثری: -- 39207
٣٩٢٠٧ - حدثنا وكيع عن محمد بن عبد الله عن ابي قلابة عن انس قال: اتانا كتاب عمر ونحن بارض فارس: الا تبيعوا السيوف فيها حلقة فضة بدرهم (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه مالك في المدونة ٨/ ٤١٥، وعبد الرزاق (١٤٣٥٣).
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم فارس کے علاقہ میں تھے تو ہمیں حضرت عمر کا خط پہنچا۔ خبردار چاندی کے حلقہ والی تلواروں کو دراہم کے عوض نہ بیچو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39207]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39207، ترقيم محمد عوامة 37603)
ترقیم عوامۃ: 37604 ترقیم الشثری: -- 39208
٣٩٢٠٨ - حدثنا وكيع عن زكريا عن الشعبي قال: سئل شريح عن طوق من ذهب فيه فصوص، قال: تنزع الفصوص ثم (يباع) (١) الذهب وزنا بوزن.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (تباع).
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ شریح سے سونے کے طوق کے بارے میں پوچھا گیا جس میں نگینے بھی ہوں؟ انہوں نے فرمایا۔ نگینوں کو جُدا کردیا جائے گا پھر سونے کو برابر سرابر بیچ دیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39208]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39208، ترقيم محمد عوامة 37604)
ترقیم عوامۃ: 37605 ترقیم الشثری: -- 39209
٣٩٢٠٩ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن محمد كان يكره شراء السيف المحلى إلا بعرض.
حضرت محمد کے بارے میں منقول ہے کہ وہ محلّٰی (زیور سے مزین) تلوار کو سامان کے عوض کے علاوہ بیچنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39209]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39209، ترقيم محمد عوامة 37605)
ترقیم عوامۃ: 37606 ترقیم الشثری: -- 39210
٣٩٢١٠ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري انه فإن يكره شراء السيف المحلى (بفضة) (١) ، ويقول: اشتره بذهب يدا بيد.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (بالفضة).
حضرت زہری کے بارے میں منقول ہے کہ وہ مزین تلوار کو چاندی کے عوض بیچنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ مزین تلوار (سونے کے زیور والی) کو سونے کے عوض نقد خریدو۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آدمی اس کو دراہم کے عوض خریدے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39210]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39210، ترقيم محمد عوامة 37606)