مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ما ذكر في أبي يكسوم وأمر الفيل
ابو یکسوم اور ہاتھیوں کے بارے ذکر کی گئی روایات
ترقیم عوامۃ: 37689 ترقیم الشثری: -- 39293
٣٩٢٩٣ - (حدثنا ابو عبد الرحمن بقي بن مخلد قال: حدثنا ابو بكر عبد الله بن محمد بن ابي شيبة العبسي قال) (١) : حدثنا ابو اسامة (٢) عن محمد بن إسماعيل (٣) قال: حدثني سعيد بن جبير قال: اقبل ابو يكسوم صاحب الحبشة ومعه الفيل، فلما انتهى إلى الحرم برك الفيل (فابى) (٤) ان يدخل الحرم، قال: فإذا وجه راجعا اسرع راجعا، وإذا اريد على الحرم (ابى) (٥) ، فارسل عليهم طير صغار بيض في افواهها حجارة (امثال) (٦) الحمص، لا (تقع) (٧) على احد إلا هلك (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ب]: زيادة (قال: حدثني ابن أسامة).
(٣) كذا في النسخ، وهو: (محمد بن أبي إسماعيل).
(٤) في [ق]: (وأبى).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [ب]: (مثل).
(٧) في [ي]: (يقع).
(٨) مرسل؛ سعيد بن جبير تابعي.
حضرت سعید بن جُبیر بیان فرماتے ہیں کہ حبشہ کا امیر ابو یکسوم آیا اور اس کے ساتھ ہاتھی (بھی) تھے۔ پس جب وہ حرم تک پہنچا تو (اس کا) ہاتھی بیٹھ گیا اور اس نے حرم میں داخل ہونے سے انکار کردیا۔ راوی کہتے ہیں جب ابو یکسوم ہاتھی واپسی کے لئے متوجہ کرتا تو ہاتھی خوب تیز رفتار واپس چلتا اور جب حرم کا ارادہ کیا جاتا تو ہاتھی انکار دیتا۔ پس ان پر سفید رنگ کے چھوٹے چھوٹے پرندے بھیجے گئے جن کے منہ میں چنوں کے برابر پتھر تھے وہ پتھر جس پر بھی گرتے اس کو ہلاک کردیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39293]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39293، ترقيم محمد عوامة 37689)
ترقیم عوامۃ: 37690 ترقیم الشثری: -- 39294
٣٩٢٩٤ - قال ابو اسامة: فحدثني ابو (مكين) (١) عن عكرمة قال: فاظلتهم من السماء فلما جعلهم الله كعصف ماكول ارسل الله غيثا فسال بهم حتى ذهب بهم إلى البحر (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق]: (منين).
(٢) مرسل؛ عكرمة تابعي.
حضرت عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ ان پرندوں نے لوگوں پر آسمان سے سایہ کردیا۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک سیلاب بھیجا۔ وہ سیلاب ان کو بہا کرلے گیا یہاں تک کہ وہ سیلاب انہیں سمندر میں لے گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39294]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39294، ترقيم محمد عوامة 37690)
ترقیم عوامۃ: 37691 ترقیم الشثری: -- 39295
٣٩٢٩٥ - حدثنا وكيع عن بن عون عن ابن سيرين عن ابن عباس ﴿طيرا ابابيل﴾ قال: كان لها خراطيم كخراطيم الطير، واكف كاكف الكلاب (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه ابن جرير في التفسير ٣٠/ ٢٩٧، والبيهقي في دلائل النبوة ١/ ١٢٢، وابن إسحاق في السيرة (٤٢).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے { طَیْرًا أَبَابِیلَ } کی تفسیر میں فرمایا۔ ان کے ناک پرندوں کے ناک کی طرح تھے اور ان کی ہتھیلیاں کتوں کی ہتھیلیوں کی طرح تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39295]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39295، ترقيم محمد عوامة 37691)
ترقیم عوامۃ: 37692 ترقیم الشثری: -- 39296
٣٩٢٩٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الاعمش عن ابي سفيان عن عبيد بن عمير قال: طير سود تحمل الحجارة بمناقيرها واظافيرها.
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ یہ سیاہ رنگ کے پرندے تھے جنہوں نے اپنی چونچوں اور پنجوں میں پتھر اٹھائے ہوئے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39296]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39296، ترقيم محمد عوامة 37692)
ترقیم عوامۃ: 37693 ترقیم الشثری: -- 39297
٣٩٢٩٧ - حدثنا الحسن بن موسى عن شيبان عن يحيى قال: اخبرني ابو سلمة ان ابا هريرة اخبره ان رسول الله ﷺ ركب (راحلته) (١) فخطب فقال:"إن الله حبس عن مكة الفيل، وسلط عليهم رسوله والمؤمنين" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (راحله).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (١١٢)، ومسلم (١٣٥٥).
حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو ہاتھیوں (والوں) سے روکے (محفوظ) رکھا اور اس مکہ پر اپنے رسول کو اور اہل ایمان کو تسلط عطا فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39297]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39297، ترقيم محمد عوامة 37693)
ترقیم عوامۃ: 37694 ترقیم الشثری: -- 39298
٣٩٢٩٨ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي سفيان عن عبيد بن عمير قال: لما اراد الله ان يهلك اصحاب الفيل بعث عليهم طيرا انشئت من البحر امثال الخطاطيف، كل طير منها يحمل ثلاثة احجار مجزعة: حجرين في رجليه وحجرا في منقاره، قال: فجاءت حتى صفت على رؤوسهم ثم صاحت فالقت ما في ارجلها ومناقيرها، فما يقع على راس رجل إلا خرج من دبره، ولا يقع على شيء من جسده إلا خرج (١) من الجانب الآخر قال: وبعث الله ريحا شديدة (٢) فضربت الحجارة فزادتها شدة قال: فاهلكوا جميعا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة (من دبره لا تقع على شيء من جسده إلا خرج).
(٢) إلى هنا ينتهي سقط نسخة [ي] الذي ابتدأ من أول كتاب الرد على أبي حنيفة برقم [٣٨٨٠١].
(٣) مرسل؛ عبيد بن عمير ليس له رواية عن النبي ﷺ.
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ان پرندوں کو بھیجا جن کو سمندر سے نکالا گیا تھا اور وہ ابابیلوں کے مشابہ تھے۔ ان میں سے ہر ایک پرندہ سفید و سیاہ رنگ کے تین پتھر اٹھائے ہوا تھا۔ دو پتھر اس کے پاؤں میں تھے اور ایک پتھر اس کی چونچ میں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس وہ پرندے آئے یہاں تک کہ انہوں نے اصحاب الفیل کے سروں پر صفیں بنالیں۔ پھر انہوں نے آواز نکالی اور جو پتھر ان کے پنجوں اور چونچوں میں تھے وہ انہوں نے پھینک دیے۔ پس کوئی پتھر کسی آدمی کے سر پر نہیں گرتا تھا مگر یہ کہ اس کی دبر سے خارج ہوتا۔ اور آدمی کے جسم کے کسی حصہ پر نہیں لگتا تھا مگر یہ کہ دوسری جانب سے نکل آتا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تیز آندھی بھیجی اس نے (بھی) پتھر مارے پس پتھروں کی شدت بڑھ گئی۔ راوی کہتے ہیں۔ پس وہ تمام لوگ ہلاک کردیئے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39298]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39298، ترقيم محمد عوامة 37694)