مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ما ذكر في أبي يكسوم وأمر الفيل
ابو یکسوم اور ہاتھیوں کے بارے ذکر کی گئی روایات
ترقیم عوامۃ: 37694 ترقیم الشثری: -- 39298
٣٩٢٩٨ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي سفيان عن عبيد بن عمير قال: لما اراد الله ان يهلك اصحاب الفيل بعث عليهم طيرا انشئت من البحر امثال الخطاطيف، كل طير منها يحمل ثلاثة احجار مجزعة: حجرين في رجليه وحجرا في منقاره، قال: فجاءت حتى صفت على رؤوسهم ثم صاحت فالقت ما في ارجلها ومناقيرها، فما يقع على راس رجل إلا خرج من دبره، ولا يقع على شيء من جسده إلا خرج (١) من الجانب الآخر قال: وبعث الله ريحا شديدة (٢) فضربت الحجارة فزادتها شدة قال: فاهلكوا جميعا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة (من دبره لا تقع على شيء من جسده إلا خرج).
(٢) إلى هنا ينتهي سقط نسخة [ي] الذي ابتدأ من أول كتاب الرد على أبي حنيفة برقم [٣٨٨٠١].
(٣) مرسل؛ عبيد بن عمير ليس له رواية عن النبي ﷺ.
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ان پرندوں کو بھیجا جن کو سمندر سے نکالا گیا تھا اور وہ ابابیلوں کے مشابہ تھے۔ ان میں سے ہر ایک پرندہ سفید و سیاہ رنگ کے تین پتھر اٹھائے ہوا تھا۔ دو پتھر اس کے پاؤں میں تھے اور ایک پتھر اس کی چونچ میں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس وہ پرندے آئے یہاں تک کہ انہوں نے اصحاب الفیل کے سروں پر صفیں بنالیں۔ پھر انہوں نے آواز نکالی اور جو پتھر ان کے پنجوں اور چونچوں میں تھے وہ انہوں نے پھینک دیے۔ پس کوئی پتھر کسی آدمی کے سر پر نہیں گرتا تھا مگر یہ کہ اس کی دبر سے خارج ہوتا۔ اور آدمی کے جسم کے کسی حصہ پر نہیں لگتا تھا مگر یہ کہ دوسری جانب سے نکل آتا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تیز آندھی بھیجی اس نے (بھی) پتھر مارے پس پتھروں کی شدت بڑھ گئی۔ راوی کہتے ہیں۔ پس وہ تمام لوگ ہلاک کردیئے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39298]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39298، ترقيم محمد عوامة 37694)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39298 in Urdu