سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. بَابُ جَوَازِ الصَّلَاةِ مَعَ خُرُوجِ الدَّمِ السَّائِلِ مِنَ الْبَدَنِ
باب: جسم سے خون بہہ رہاہو تو اس کے ہمراہ نماز ادا کرنا جائز ہے
ترقیم العلمیہ : 857 ترقیم الرسالہ : -- 869
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا الْمُحَارِبِيُّ ، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْكُوفِيُّ ، قَالا: ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ، فَأَصَابَ رَجُلٌ امْرَأَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلا أَتَى زَوْجُهَا وَكَانَ غَائِبًا، فَلَمَّا أُخْبِرَ الْخَبَرَ حَلَفَ أَنَّهُ لا يَنْتَهِي حَتَّى يُهْرِيقَ دَمًا فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نزل رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلا، وَقَالَ الْقَاضِي: فَلَمَّا نزل رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلا، قَالَ:" مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ؟"، قَالَ: فَيَبْتَدِرُ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ:" كُونَا بِفَمِ الشِّعْبِ"، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ قَدْ نَزَلُوا الشِّعْبَ مِنَ الْوَادِي، فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلانِ إِلَى فَمِّ الشِّعْبِ قَالَ الأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ: أَيُّ اللَّيْلِ تُحِبُّ أَنْ أَكْفِيَكَ أَوَّلُهُ أَوْ آخِرُهُ؟ قَالَ: بَلِ اكْفِنِي أَوَّلَهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ فَنَامَ، وَقَامَ الأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي، وَأَتَى الرَّجُلُ فَلَمَّا رَأَى شَخَصَ الرَّجُلِ عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةُ الْقَوْمِ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَانْتَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا، ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ آخَرَ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَانْتَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا، ثُمَّ عَادَ لَهُ بِالثَّالِثِ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ أَهَّبَ صَاحِبَهُ، فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ فَقَدْ أَثْبَتَ فَوَثَبَ، فَلَمَّا رَآهُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنْ قَدْ نَذَرُوا بِهِ فَهَرَبَ، فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالأَنْصَارِيِّ مِنَ الدِّمَاءِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ أَفَلا أَهْبَبْتَنِي، وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: أَفَلا أَنْبَهْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ؟ قَالَ: كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَأُهَا فَلَمْ أُحِبُّ أَنْ أَقْطَعَهَا حَتَّى أُنْفِذَهَا، فَلَمَّا تَابَعَ عَلَيَّ الرَّمْيَ رَكَعْتُ فَأَذَنْتُكَ، وَأَيْمُ اللَّهِ لَوْلا أَنِّي أُضِيعُ ثَغْرًا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا أَوْ أُنْفِذَهَا .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ ذات الرقاع میں شریک ہوئے۔ اس دوران ایک شخص نے ایک مشرک عورت کے ساتھ صحبت کر لی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لا رہے تھے تو اس کا شوہر بھی آ گیا جو پہلے وہاں موجود نہیں تھا۔ اس نے یہ قسم اٹھائی کہ وہ اس وقت تک باز نہیں آئے گا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی ایک کا خون نہیں بہائے گا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے روانہ ہو گیا۔ جہاں کہیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑاؤ کرتے (قاضی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں)۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”آج رات کو ہماری پہرے داری کون کرے گا؟“ تو ایک انصاری اور ایک مہاجر شخص آگے بڑھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں گھاٹی کے کنارے پر رہنا۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے وادی کی گھاٹی میں پڑاؤ کیا۔ جب یہ دونوں حضرات گھاٹی کے سرے پر پہنچے تو انصاری شخص نے مہاجر سے کہا: ”تم رات کے کون سے حصے میں سونا پسند کرو گے، پہلے حصے میں یا آخری حصے میں؟“ اس نے کہا: ”پہلے حصے میں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ مہاجر شخص ہٹ کر سو گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا۔ وہی شخص (مشرک) آیا۔ جب اس نے ایک شخص کا چہرہ دیکھا تو اسے پتہ چل گیا کہ یہ لوگوں کی حفاظت کے لیے ہے۔ تو اس نے اس انصاری کو تیر مارا جو اسے لگا۔ اس انصاری نے اس تیر کو نکالا، کھڑا رہا۔ پھر اس شخص نے دوسرا تیر مارا جو اسے لگا۔ تو انصاری نے اسے بھی نکال دیا اور خود نماز پڑھتا رہا۔ اس شخص نے تیسرا تیر مارا جو اس انصاری کو لگا تو اس انصاری نے اسے نکال کر رکھ دیا۔ پھر وہ انصاری رکوع میں گیا، پھر سجدے میں گیا، پھر اس نے اپنے ساتھی کو اٹھا دیا (اور اس سے کہا): ”اٹھ جاؤ کیونکہ میرا بہت خون بہہ گیا ہے۔“ جب اس مشرک نے ان دونوں حضرات کو دیکھا تو اسے اندازہ ہو گیا کہ اب یہ اسے ماریں گے۔ جب مہاجر نے انصاری کا خون بہتا ہوا دیکھا تو بولا: ”سبحان اللہ! تم نے مجھے پہلے بیدار کیوں نہیں کیا؟“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جب اس نے تمہیں پہلے تیر مارا تھا تم نے اس وقت مجھے کیوں نہیں بتایا؟“ تو اس انصاری نے کہا: ”میں ایک ایسی سورت پڑھ رہا تھا، اسے ختم کرنے سے پہلے مجھے درمیان میں چھوڑنا اچھا نہیں لگا۔ لیکن جب اس شخص نے مسلسل میری طرف تیر اندازی کی تو پھر میں رکوع میں چلا گیا (نماز ختم کرنے کے بعد) پھر میں نے تمہیں بیدار کیا۔ اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جس چیز کی حفاظت کی ہدایت کی تھی اگر میں اس کو ضائع کرنے والا نہ ہوتا تو (میری یہ خواہش تھی) اس کو ختم کرنے سے پہلے مر جاتا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَيْضِ/حدیث: 869]
ترقیم العلمیہ: 857
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 36، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1096، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 559، 560، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 198، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 673، 674، 18516، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 869، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14930، 15094»
ترقیم العلمیہ : 858 ترقیم الرسالہ : -- 870
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاضِي، وَآخَرُونَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، نا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" صَلَّى وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا" .
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نماز ادا کرتے رہے جبکہ ان کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَيْضِ/حدیث: 870]
ترقیم العلمیہ: 858
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 3692، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 117، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1703، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 870، 871، 1511، 1750، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 579، 580، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 8474، 30998، 38222، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8181»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 859 ترقیم الرسالہ : -- 871
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَآخَرُونَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ، نا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَيْضِ/حدیث: 871]
ترقیم العلمیہ: 859
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 3692، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 117، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1703، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 870، 871، 1511، 1750، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 579، 580، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 8474، 30998، 38222، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8181»
الحكم على الحديث: صحيح