سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
53. بَابُ صِفَةِ التَّشَهُّدِ وَوُجُوبِهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهِ
باب: تشہد کا طریقہ، اس کا واجب ہونا، اس بارے میں روایات کا اختلاف
ترقیم العلمیہ : 1318 ترقیم الرسالہ : -- 1334
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ رِشْدِينَ، عَنْ حَيْوَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. وَرَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ، فَزَادَ فِي آخِرِهِ كَلامًا وَهُوَ قَوْلُهُ: إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلاتَكَ، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ. فَأَدْرَجَهُ بَعْضُهُمْ عَنْ زُهَيْرٍ فِي الْحَدِيثِ وَوَصَلَهُ بِكَلامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَصَلَهُ شَبَابَةُ، عَنْ زُهَيْرٍ، وَجَعَلَهُ مِنْ كَلامِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودِ، وَقَوْلُهُ: أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ مِنْ قَوْلِ مَنْ أَدْرَجَهُ فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لأَنَّ ابْنَ ثَوْبَانَ، رَوَاهُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، كَذَلِكَ وَجَعَلَ آخِرَهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَلاتِّفَاقِ حُسَيْنٍ الْجُعْفِيِّ، وَابْنِ عَجْلانَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ فِي رِوَايَتِهِمْ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ عَلَى تَرْكِ ذِكْرَهُ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ مَعَ اتِّفَاقِ كُلِّ مَنْ رَوَى التَّشَهُّدَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَعَنْ غَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَلَى ذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، بعض راویوں نے اس کے آخر میں اضافی کلمات نقل کیے ہیں، وہ یہ ہیں: ”جب تم یہ پڑھ لو گے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) تم ایسا کر لو گے، تو تم نے اپنی نماز کو مکمل کر لیا، اب اگر تم اٹھنا چاہو، تو اٹھ جاؤ، اگر بیٹھے رہنا چاہو، تو بیٹھے رہو۔“ بعض راویوں نے اس روایت کو زہیر کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے ان کلمات کو حدیث میں درج کر دیا ہے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے ساتھ ملا دیا ہے، جبکہ شبابہ نامی راوی نے اسے زہیر کے حوالے سے الگ سے نقل کیا ہے اور ان کلمات کو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کلام کے طور پر نقل کیا ہے اور ان کلمات کا سیدنا عبداللہ کے کلام ہونے کی زیادہ مناسبت لگتی ہے بہ نسبت اس کے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں درج کیا جائے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1334]
ترقیم العلمیہ: 1318
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 402، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 702، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 996، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1161، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 968، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 899، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1327، 1328، 1333، 1334، 1335، 1336، 1337، 1338، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3632،، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 703، 845»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 1319 ترقیم الرسالہ : -- 1335
وَأَمَّا حَدِيثُ شَبَابَةَ عَنْ زُهَيْرٍ، فَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحَرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي، قَالَ: وَأَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِيَدِي، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَعَلَّمَنِي التَّشَهُّدَ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَإِذَا قُلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ مِنَ الصَّلاةِ فَإِذَا شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ. شَبَابَةُ ثِقَةٌ، وَقَدْ فَصَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ جَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ مَنْ أَدْرَجَ آخِرَهُ فِي كَلامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ قَالَ: تَابَعَهُ غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَغَيْرُهُ، فَرَوَوْهُ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ كَذَلِكَ، وَجَعَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ مِنْ كَلامِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
قاسم نامی راوی بیان کرتے ہیں: علقمہ نے میرا ہاتھ تھاما اور بتایا: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ تھام کر یہ بتایا تھا: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے تشہد کے کلمات کی تعلیم دی (وہ کلمات یہ ہیں): ”تمام قولی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اور ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب تم یہ پڑھ لو گے، تو تم نے اپنے اوپر لازم نماز کو ادا کر دیا، اب اگر تم اٹھنا چاہو، تو اٹھ جاؤ، اگر بیٹھے رہنا چاہو، تو بیٹھے رہو۔ یہاں پر اس روایت کے راوی شبابہ ثقہ ہیں، انہوں نے روایت کے آخر میں الگ سے یہ بات ذکر کی ہے، یہ کلمات سیدنا عبداللہ بن مسعود کا کلام ہیں اور یہ روایت اس روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے، جس میں ان کلمات کو نبی کے الفاظ کے ساتھ ملا دیا گیا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ بعض دیگر راویوں نے بھی اسے اسی طرح سیدنا عبداللہ کے کلام کے طور پر نقل کیا ہے، انہوں نے (اضافی کلمات کو) مرفوع حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1335]
ترقیم العلمیہ: 1319
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 402، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 702، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 996، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1161، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 968، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 899، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1327، 1328، 1333، 1334، 1335، 1336، 1337، 1338، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3632،، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 703، 845»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 1320 ترقیم الرسالہ : -- 1336
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي، وَزَعَمَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَزَعَمَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ:" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا قَضَيْتَ هَذَا أَوْ فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلاتَكَ، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَجْلِسَ فَاجْلِسْ" .
قاسم نامی راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ علقمہ نے میرا ہاتھ تھاما اور بتایا: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ تھاما، انہیں یہ بتایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ تھاما اور انہیں تشہد کے کلمات کی تعلیم دی (جو یہ ہیں): ”تمام قولی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اور ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جب تم یہ پورا کر لو گے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) جب تم ایسا کر لو گے، تو تم نے اپنی نماز کو ادا کر لیا، اب اگر تم اٹھنا چاہو، تو اٹھ جاؤ، اگر بیٹھے رہنا چاہو، تو بیٹھے رہو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1336]
ترقیم العلمیہ: 1320
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 402، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 702، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 996، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1161، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 968، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 899، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1327، 1328، 1333، 1334، 1335، 1336، 1337، 1338، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3632،، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 703، 845»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 1321 ترقیم الرسالہ : -- 1337
وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، الَّذِي رَوَاهُ عَنْهُ غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، بِمُتَابَعَةِ شَبَابَةَ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ، فَحَدَّثَنَا بِهِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْكُمَيْتِ ، ثنا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ . ح وَحَدَّثَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَرَّانِيُّ ، وَعُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُعَدَّلُ ، وَآخَرُونَ قَالُوا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، ثنا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي، وَأَخَذَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِيَدِ عَلْقَمَةَ، وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ:" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" . ثُمَّ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِذَا فَرَغْتَ مِنْ هَذَا فَقَدْ فَرَغْتَ مِنْ صَلاتِكَ فَإِنْ شِئْتَ فَاثْبُتْ وَإِنْ شِئْتَ فَانْصَرِفْ.
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: قاسم نامی راوی بیان کرتے ہیں: علقمہ نے میرا ہاتھ تھاما اور (روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کا ہاتھ تھاما اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھاما اور تشہد کے کلمات کی تعلیم دی تھی (جو یہ ہیں): ”تمام قولی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اور ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ ارشاد فرمایا: جب تم اس سے فارغ ہو جاؤ گے، تو تم نماز سے فارغ ہو جاؤ گے، اب تم چاہو، تو بیٹھے رہو اور اگر چاہو، تو اٹھ جاؤ۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1337]
ترقیم العلمیہ: 1321
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 402، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 702، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 996، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1161، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 968، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 899، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1327، 1328، 1333، 1334، 1335، 1336، 1337، 1338، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3632،، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 703، 845»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح