سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
53. باب صفة التشهد ووجوبه واختلاف الروايات فيه
باب: تشہد کا طریقہ، اس کا واجب ہونا، اس بارے میں روایات کا اختلاف
ترقیم العلمیہ : 1320 ترقیم الرسالہ : -- 1336
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي، وَزَعَمَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَزَعَمَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ:" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا قَضَيْتَ هَذَا أَوْ فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلاتَكَ، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَجْلِسَ فَاجْلِسْ" .
قاسم نامی راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ علقمہ نے میرا ہاتھ تھاما اور بتایا: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ تھاما، انہیں یہ بتایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ تھاما اور انہیں تشہد کے کلمات کی تعلیم دی (جو یہ ہیں): ”تمام قولی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اور ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جب تم یہ پورا کر لو گے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) جب تم ایسا کر لو گے، تو تم نے اپنی نماز کو ادا کر لیا، اب اگر تم اٹھنا چاہو، تو اٹھ جاؤ، اگر بیٹھے رہنا چاہو، تو بیٹھے رہو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1336]
ترقیم العلمیہ: 1320
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 402، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 702، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 996، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1161، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 968، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 899، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1327، 1328، 1333، 1334، 1335، 1336، 1337، 1338، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3632،، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 703، 845»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 1336 in Urdu
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود