سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
57. بَابُ صَلَاةِ الْإِمَامِ وَهُوَ جُنُبٌ أَوْ مُحْدِثٌ
باب: امام جب جنابت یا بےوضو حالت میں ہو، اس وقت اس کا نماز ادا کرنا
ترقیم العلمیہ : 1355 ترقیم الرسالہ : -- 1371
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنِ الشَّرِيدِ الثَّقَفِيِّ أَنَّ عُمَرَ صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ جُنُبٌ، فَأَعَادَ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يُعِيدُوا" .
شرید ثقفی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھا دی، وہ جنابت کی حالت میں تھے، انہوں نے اس نماز کو دہرایا، لیکن انہوں نے لوگوں کو وہ نماز دہرانے کا حکم نہیں دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1371]
ترقیم العلمیہ: 1355
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4143، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1371، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 3648، 3649، 3662، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 4604»
ترقیم العلمیہ : 1356 ترقیم الرسالہ : -- 1372
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ " صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ جُنُبٌ فَلَمَّا أَصْبَحَ نَظَرَ فِي ثَوْبِهِ احْتِلامًا، فَقَالَ:" كَبِرْتُ وَاللَّهِ أَلا أَرَانِي أَجْنُبُ ثُمَّ لا أَعْلَمُ"، ثُمَّ أَعَادَ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يُعِيدُوا . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَأَلْتُ سُفْيَانَ، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، وَلا أَجِيءُ بِهِ كَمَا أُرِيدُ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَهُوَ هَذَا الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ الْجُنُبُ يُعِيدُ وَلا يُعِيدُونَ، مَا أَعْلَمُ فِيهِ اخْتِلافًا، وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، وَلا أَحْفَظُهُ. وَلَمْ يَزِدْ عَلَى هَذَا.
محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھا دی، وہ اس وقت جنابت کی حالت میں تھے، بعد میں جب انہوں نے اپنے کپڑے پر احتلام کا نشان دیکھا، تو بولے: میں بوڑھا ہو گیا ہوں، اللہ کی قسم! میرا خیال ہے مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، لیکن مجھے اس کا پتا نہیں چل سکا، پھر حضرت عثمان نے نماز کو دہرایا اور البتہ انہوں نے لوگوں کو وہ نماز دوبارہ ادا کرنے کا حکم نہیں دیا۔ عبدالرحمن نامی راوی بیان کرتے ہیں: اس بات پر اتفاق ہے کہ جنابت والا شخص اس نماز کو دہرائے گا، البتہ لوگ اس نماز کو دوبارہ ادا نہیں کریں گے، میرے علم کے مطابق اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1372]
ترقیم العلمیہ: 1356
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4144، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1372،»
ترقیم العلمیہ : 1357 ترقیم الرسالہ : -- 1373
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ. ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ" فِي رَجُلٍ صَلَّى بِقَوْمٍ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، قَالَ: يُعِيدُ وَلا يُعِيدُونَ" .
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا ایسے شخص کے بارے میں فرمان نقل کرتے ہیں جو لوگوں کو بے وضو حالت میں نماز پڑھا دیتا ہے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: وہ شخص اس نماز کو دوبارہ ادا کرے، البتہ لوگ اس نماز کو دوبارہ ادا نہیں کریں گے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1373]
ترقیم العلمیہ: 1357
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4145، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1373، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 3650، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 4603»
ترقیم العلمیہ : 1358 ترقیم الرسالہ : -- 1374
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ، ثنا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، صَلَّى بِأَصْحَابِهِ، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّهُ مَسَّ ذَكَرَهُ، فَتَوَضَّأَ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يُعِيدُوا" . قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ:" عَلِمْتُ أَنَّ أَحَدًا قَالَ: يُعِيدُونَ، قَالَ: لا، إِلا حَمَّادٌ".
نافع بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، بعد میں انہیں یاد آیا کہ انہوں نے اپنی شرمگاہ کو چھو لیا تھا (جس کی وجہ سے ان کا وضو ٹوٹ چکا تھا)، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دوبارہ وضو کیا (اور دوبارہ نماز ادا کی)، البتہ انہوں نے ان لوگوں کو وہ نماز دوبارہ ادا کرنے کی ہدایت نہیں کی۔ ابن مہدی بیان کرتے ہیں: میں نے سفیان سے دریافت کیا: کیا آپ اس بات سے واقف ہیں کہ کسی راوی نے یہ بات بھی نقل کی ہو؟ ان لوگوں نے بھی دوبارہ نماز ادا کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، صرف حماد نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1374]
ترقیم العلمیہ: 1358
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 129، 132، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 644، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 638، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 531، 1374، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 5962»