سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. بَابٌ
باب بلاعنوان
ترقیم العلمیہ : 2140M ترقیم الرسالہ : -- 2166
رَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ مُسْنَدًا. وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَعُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَغَيْرُهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوُا الْهِلالَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ قَبْلَهُ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلالَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ".
ربعی نے اسے ایک صحابی سے نقل کیا ہے: ”مہینہ (شروع ہونے سے پہلے ہی روزے رکھنے شروع نہ کرو) جب تک تم پہلی کا چاند نہیں دیکھ لیتے، اس سے پہلے (تم تیس کی گنتی پوری نہیں کر لیتے) روزے رکھنے شروع کرو اور (تیس کی گنتی نہ پوری کر لو، تو روزے رکھنا بند نہ کرو)۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2166]
ترقیم العلمیہ: 2140M
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1911، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3458، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2128، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2447، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2326، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8047، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2166»
«قال ابن حجر: قيل الصواب فيه عن ربعي عن رجل من الصحابة مبهم ولا يقدح ذلك في صحته، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (4 / 142)»
«قال ابن حجر: قيل الصواب فيه عن ربعي عن رجل من الصحابة مبهم ولا يقدح ذلك في صحته، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (4 / 142)»
ترقیم العلمیہ : 2141 ترقیم الرسالہ : -- 2167
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ مِنْ أَصْلِهِ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ ، ثنا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلالَ، وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلالَ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلاثِينَ" . هُوَ فِي الْمُوَطَّأِ عَنْ نَافِعٍ، وَابْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: فَاقْدُرُوا لَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”روزے رکھنا اس وقت تک شروع نہ کرو، جب تک پہلی کا چاند نہ دیکھ لو اور اس وقت تک ختم نہ کرو، جب تک پہلی کا چاند نہ دیکھ لو، اگر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو تیس دن روزے رکھو۔“ یہ روایت موطا میں نافع کے حوالے سے، ابن دینار کے حوالے سے، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: ”تم اس کی گنتی پوری کرو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2167]
ترقیم العلمیہ: 2141
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1900، 1906، 1907، 1908، 1913، 5302، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1080،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1905، 1906، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1544، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2122،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2319، 2320، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1726، 1732، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1655، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2167، 2168، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4574»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2142 ترقیم الرسالہ : -- 2168
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُرْشِدٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَلا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ" . زَادَ ابْنُ مُرْشِدٍ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا مَضَى شَعْبَانُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ يَبْعَثُ مِنْ يَنْظُرُ، فَإِنْ رَأَى فَذَاكَ، وَإِنْ لَمْ يَرَ وَلَمْ يَحُلْ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ، وَلا قَتَرٌ أَصْبَحَ مُفْطِرًا، وَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرٌ أَصْبَحَ صَائِمًا، قَالَ: وَكَانَ لا يُفْطِرُ إِلا مَعَ النَّاسِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”(مہینہ) بعض اوقات انتیس دن کا بھی ہوتا ہے، تم اس وقت تک روزہ رکھنا نہ شروع کرو، جب تک اسے (رمضان کے چاند کو) دیکھ نہیں لیتے اور اس وقت تک روزے رکھنا بند نہ کرو، جب تک اسے یعنی (شوال کے) چاند کو نہیں دیکھ لیتے، اگر بادل چھائے ہوں، تو اس کی گنتی پوری کر لو۔“ (ابن مرشد نامی راوی نے یہ بات اضافی نقل کی ہے، نافع بیان کرتے ہیں) جب شعبان کے انتیس دن گزر جاتے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کسی سے کہتے جو چاند نظر آنے کا جائزہ لے، اگر نظر آ جاتا، تو ٹھیک، اگر نظر نہ آتا، تو اس دوران چاند کو دیکھنے میں کوئی بادل یا غبار حائل نہ ہوتا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اگلے دن روزہ نہیں رکھتے تھے اور اگر (چاند نظر نہ آتا) اور اسے دیکھنے میں غبار یا بادل حائل ہوتا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اگلے دن روزہ رکھتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کے ساتھ ہی روزے رکھنا ختم کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2168]
ترقیم العلمیہ: 2142
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1900، 1906، 1907، 1908، 1913، 5302، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1080،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1905، 1906، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1544، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2122،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2319، 2320، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1726، 1732، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1655، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2167، 2168، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4574»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2143 ترقیم الرسالہ : -- 2169
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ التَّيْمِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا لا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوُا الْهِلالَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ، وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلالَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ" . كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
ربعی بن حراش، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! (رمضان کے) مہینے سے پہلے (احتیاط کے طور پر روزہ نہ رکھو) اس وقت تک جب تک تم چاند نہیں دیکھ لیتے، تیس دنوں کی تعداد پوری کر لو) اور روزے رکھنا اس وقت تک بند نہ کرو، جب تک تم چاند نہیں دیکھ لیتے (یا تعداد پوری نہیں کرتے)۔“ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2169]
ترقیم العلمیہ: 2143
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2118، 2129، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2437، 2448، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2169، 2170، 2171، 2193، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19127»
«قال الشيخ الألباني: صحيح، والنسائي: 2118»
«قال الشيخ الألباني: صحيح، والنسائي: 2118»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2144 ترقیم الرسالہ : -- 2170
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُبَشِّرٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، ثنا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ، لا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلالَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ، ثُمَّ تَصُومُوا وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلالَ أَوْ تُتِمُّوا أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ" . وَهَذَا مِثْلُهُ.
ربعی بن حراش، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”(رمضان کے) مہینے سے پہلے (احتیاط کے طور پر روزہ) نہ رکھو، روزے رکھنا اس وقت تک شروع نہ کرو، جب تک چاند نہ دیکھ لو یا تیس کی تعداد مکمل نہ کر لو، پھر روزے رکھنا شروع کرو اور اس وقت تک روزے رکھنا ختم نہ کرو، جب تک (شوال کا چاند) نہ دیکھ لو یا تیس کی تعداد مکمل نہ کر لو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2170]
ترقیم العلمیہ: 2144
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2118، 2129، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2437، 2448، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2169، 2170، 2171، 2193، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19127»
«قال الشيخ الألباني: صحيح، والنسائي: 2119»
«قال الشيخ الألباني: صحيح، والنسائي: 2119»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2145 ترقیم الرسالہ : -- 2171
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَغَوِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، وَهَذَا مِثْلُهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، جو اس کی مانند ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2171]
ترقیم العلمیہ: 2145
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2118، 2129، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2437، 2448، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2169، 2170، 2171، 2193، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19127»
«قال الشيخ الألباني: صحيح، والنسائي: 2120»
«قال الشيخ الألباني: صحيح، والنسائي: 2120»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2146 ترقیم الرسالہ : -- 2172
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسَ ، ثنا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ ، يَقُولُ: أَهْلَلْنَا هِلالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ الشُّقُوقِ، فَشَكَكْنَا فِي الْهِلالِ، فَبَعَثْنَا رَجُلا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ، وَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلاثِينَ" . صَحِيحٌ عَنْ شُعْبَةَ. وَرَوَاهُ حُصَيْنٌ، وَأَبُو خَالِدٍ الدَّالانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ: عِدَّةَ شَعْبَانَ غَيْرُ آدَمَ وَهُوَ ثِقَةٌ.
ابوبختری بیان کرتے ہیں: ہمیں ذات شقوق کے مقام پر عید کا چاند نظر آیا، ہمیں اس بارے میں شک ہوا، کیا پہلی کا چاند ہے یا دوسری یا تیسری تاریخ کا ہے، تو ہم نے ایک شخص کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو چاند دیکھنے کے ساتھ متعلق کیا ہے، اگر تم پر بادل چھائے ہوں، تو شعبان مہینے کی تیس کی تعداد پوری کر لو۔“ یہ روایت شعبہ سے منقول ہونے کے حوالے سے مستند ہے، دیگر راویوں نے اسے عمرو بن مرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے، صرف آدم نامی راوی نے اس حدیث میں ”شعبان کی تعداد“ کے الفاظ نقل کیے ہیں اور یہ راوی ثقہ ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2172]
ترقیم العلمیہ: 2146
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1088، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1915، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8033، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2172، 2210، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3079»
«قال الدارقطني: صحيح عن شعبة، سنن الدارقطني: (3 / 109) برقم: (2172)»
«قال الدارقطني: صحيح عن شعبة، سنن الدارقطني: (3 / 109) برقم: (2172)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2147 ترقیم الرسالہ : -- 2173
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ ، ثنا آدَمُ ، ثنا شُعْبَةُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ فَعُدُّوا ثَلاثِينَ"، يَعْنِي عُدُّوا شَعْبَانَ ثَلاثِينَ . صَحِيحٌ عَنْ شُعْبَةَ، كَذَا رَوَاهُ آدَمُ، عَنْ شُعْبَةَ. وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ آدَمَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ فِيهِ: فَعُدُّوا شَعْبَانَ ثَلاثِينَ، وَلَمْ يَقُلْ: يَعْنِي.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اسے (پہلی کے چاند کو) دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور اسے دیکھ کر ہی روزے رکھنا ختم کرو اور اگر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو تیس کی تعداد پوری کرو۔“ امام دارقطنی بیان کرتے ہیں: یعنی شعبان کے تیس دن کی تعداد پوری کر لو۔ یہ روایت شعبہ سے منقول ہونے کے حوالے سے مستند ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو آدم کے حوالے سے شعبہ سے نقل کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں: ”تم شعبان کے مہینے کی تیس دن کی تعداد پوری کر لو۔“ اس روایت میں لفظ ”یعنی“ نقل نہیں کیا گیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2173]
ترقیم العلمیہ: 2147
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1909، 1914، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1081، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1908، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3442، 3443، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1553، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2119، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2324، 2335، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 684، 685، 687، 697، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1727، 1731، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1646، 1650، 1654، 1660، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2160، 2161، 2162، 2163، 2164، 2173، 2174، 2177، 2178، 2179، 2180، 2181، 2445، 2446، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7320»
«قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح، صحيح، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 33)»
«قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح، صحيح، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 33)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2148 ترقیم الرسالہ : -- 2174
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَبُو الْحَسَنِ ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحْصُوا هِلالَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ، وَلا تَخْلِطُوا بِرَمَضَانَ إِلا أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ صِيَامًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ، وَصُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَإِنَّهَا لَيْسَتْ تُغْمَى عَلَيْكُمُ الْعِدَّةُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”رمضان کے لیے شعبان کی پہلی کے چاند کا حساب رکھو اور شعبان کو رمضان کے ساتھ نہ ملاؤ، البتہ اگر کسی شخص کے دوسرے دن کے معمول کے مطابق اس دن روزہ ہو (تو اس کا حکم مختلف ہو گا) پہلی کے (چاند کو) دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور اسے دیکھ کر ہی روزے رکھنا بند کر دو اور اگر بادل چھائے ہوں، تو تعداد پوری کرنا تمہارے لیے مشکل نہیں ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2174]
ترقیم العلمیہ: 2148
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1909، 1914، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1081، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1908، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3442، 3443، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1553، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2119، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2324، 2335، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 684، 685، 687، 697، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1727، 1731، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1646، 1650، 1654، 1660، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2160، 2161، 2162، 2163، 2164، 2173، 2174، 2177، 2178، 2179، 2180، 2181، 2445، 2446، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7320»
«قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح، صحيح، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 33)»
«قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح، صحيح، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 33)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2149 ترقیم الرسالہ : -- 2175
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا لُوَيْنٌ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَعَلَ اللَّهُ الأَهِلَّةَ مَوَاقِيتَ لِلنَّاسِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ" . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ: سَمِعْتُ هَذَا مِنْهُ وَحَدِيثَيْنِ آخَرَيْنِ، مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ضَعِيفٌ.
سیدنا قیس بن طلق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ نے پہلی کے چاند کو لوگوں کے لیے دنوں کا حساب رکھنے کے لیے رکھا ہے، جب تم اسے دیکھو، تو روزے رکھنا شروع کرو اور جب تم اسے دیکھو، تو روزے رکھنا بند کر دو اور اگر تم پر بادل چھائے ہوں، تو تیس کی تعداد پوری کر لو۔“ محمد بن جابر راوی بیان کرتے ہیں: میں نے یہ روایت ان سے سنی ہے، اس کے علاوہ مزید دو روایات سنی ہیں، محمد بن جابر نامی راوی مستند نہیں ہیں، یہ ضعیف ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2175]
ترقیم العلمیہ: 2149
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8048، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2175، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16548، 16552، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 2545، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 3777، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 8237، 8238»
«قال الدارقطني: محمد بن جابر ليس بالقوي»
«وله شواهد من حديث عبد الله بن عمر بن الخطاب، فأما حديث عبد الله بن عمر بن الخطاب، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1900، 1906، 1907، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1080»
«قال الدارقطني: محمد بن جابر ليس بالقوي»
«وله شواهد من حديث عبد الله بن عمر بن الخطاب، فأما حديث عبد الله بن عمر بن الخطاب، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1900، 1906، 1907، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1080»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح