سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
15. بَابُ إِذَا جَامَعَ فِي رَمَضَانَ
باب: رمضان میں جماع کرنے کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2271 ترقیم الرسالہ : -- 2303
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو عُمَرَ عِيسَى بْنُ أَبِي عِمْرَانَ الْبَزَّازُ بِالرَّمْلَةِ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْتُ، قَالَ:" وَيْحَكَ وَمَا ذَا؟"، قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، قَالَ: فَقَالَ:" فَأَعْتِقْ رَقَبَةً"، قَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ:" فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، قَالَ: مَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ:" فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، قَالَ:" خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ"، قَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي؟ فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَ لابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنْ أَهْلِي، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ:" خُذْهُ وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ" . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں، آپ نے دریافت کیا: ”تمہارا ستیاناس ہو! کیا ہوا ہے؟“ اس نے عرض کی: میں نے رمضان میں دن کے وقت اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایک غلام آزاد کرو۔“ اس نے عرض کی: میرے پاس یہ نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لگاتار دو ماہ کے روزے رکھو۔“ اس نے عرض کی: میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ اس نے عرض کی: میرے پاس اس کی بھی گنجائش نہیں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوروں کی بوری آئی، جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لو اور اس سے صدقہ کر دو۔“ اس نے عرض کی: کیا میں اپنے گھر سے زیادہ غریب لوگوں کو صدقہ کروں؟ اللہ کی قسم! مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان میرے گھر والوں سے زیادہ ضرورت مند اور کوئی نہیں ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت بھی ظاہر ہو گئے، آپ نے فرمایا: ”اسے لو! اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگو اور یہ اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔“ اس کی سند صحیح ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2303]
ترقیم العلمیہ: 2271
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1936، 1937، 2600، 5368، 6087، 6164، 6709، 6710، 6711، 6821، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1111، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043،، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2390، 2392، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 724، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1757، 1758، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1671، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1038، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2303، 2304، 2305، 2308، 2397، 2398، 2399، 2400، 2401، 2402، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7063»
«قال الدارقطني: هذا إسناد صحيح، سنن الدارقطني: (3 / 165) برقم: (2303)»
«قال الدارقطني: هذا إسناد صحيح، سنن الدارقطني: (3 / 165) برقم: (2303)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2272 ترقیم الرسالہ : -- 2304
حَدَّثَنَا الْمَحَامِلِيُّ ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نا حَجَّاجٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَعَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، ثُمَّ قَالَ:" خُذْ هَذَا فَأَطْعِمْهُ عَنْكَ سِتِّينَ مِسْكِينًا".
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں منقول ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بوری لائی گئی، جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لو! اور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2304]
ترقیم العلمیہ: 2272
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1936، 1937، 2600، 5368، 6087، 6164، 6709، 6710، 6711، 6821، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1111، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043،، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2390، 2392، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 724، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1757، 1758، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1671، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1038، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2303، 2304، 2305، 2308، 2397، 2398، 2399، 2400، 2401، 2402، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7063»
«قال الدارقطني: هذا إسناد صحيح، سنن الدارقطني: (3 / 165) برقم: (2303)»
«قال الدارقطني: هذا إسناد صحيح، سنن الدارقطني: (3 / 165) برقم: (2303)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2273 ترقیم الرسالہ : -- 2305
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَقَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ قَدْرَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، وَقَالَ فِيهِ:" كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُ بَيْتِكَ، وَصُمْ يَوْمًا وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ".
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بوری لائی گئی، جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔ اس روایت میں یہ ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے تم کھاؤ اور تمہارے گھر والے کھائیں، تم ایک دن روزہ رکھ لو اور اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2305]
ترقیم العلمیہ: 2273
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1936، 1937، 2600، 5368، 6087، 6164، 6709، 6710، 6711، 6821، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1111، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043،، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2390، 2392، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 724، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1757، 1758، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1671، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1038، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2303، 2304، 2305، 2308، 2397، 2398، 2399، 2400، 2401، 2402، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7063»
«قال ابن عبدالبر: في إسناده هشام بن سعد لا يحتج به في حديث ابن شهاب، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (7 / 159)»
«قال ابن عبدالبر: في إسناده هشام بن سعد لا يحتج به في حديث ابن شهاب، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (7 / 159)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف