🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. تَوْرِيثُ الْجَدَّاتِ
تَوْرِيثُ الْجَدَّاتِ
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4069 ترقیم الرسالہ : -- 4141
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، وَقَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ قَضَى أَنَّ الْجَدَّ يُقَاسِمُ الإِخْوَةَ لِلأَبِ وَالأُمِّ مَا كَانَتْ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ (میت کے) سگے بہن بھائیوں کی موجودگی میں دادا بھی حصہ دار ہو گا، خواہ سگے بہن بھائیوں کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْفَرَائِضِِ/حدیث: 4141]
ترقیم العلمیہ: 4069
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2958، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 58، 59، 60، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12559، 12560، 12562، 12563، 12565، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4141، 4142، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31868»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4070 ترقیم الرسالہ : -- 4142
نَا نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ ، عَنِ الْجَدِّ وَالإِخْوَةِ مِنَ الأَبِ، وَالأُمِّ، فَقَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَى أَنَّ الْجَدَّ يُقَاسِمُ الإِخْوَةَ لِلأَبِ، وَالأُمِّ، وَالإِخْوَةَ لِلأَبِ مَا كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ ثُلُثِ الْمَالِ، فَإِنْ كَثُرَ الإِخْوَةُ فَأَعْطَى الْجَدَّ الثُّلُثَ، وَكَانَ لِلأُخُوَّةِ مَا بَقِيَ، لِلذَّكَرِ مثل حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ، وَقَضَى أَنَّ بَنَى الأَبِ وَالأُمِّ هُمْ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنْ بَنِي الأَبِ ذُكُورِهِمْ وَنِسَائِهِمْ، أَنَّ بَنِي الأَبِ يُقَاسِمُونَ الْجَدِّ بِبَنِي الأَبِ وَالأُمِّ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِمْ، وَلا يَكُونُ لِبَنِي الأَبِ شَيْءٌ مَعَ بَنِي الأَبِ وَالأُمِّ إِلا أَنْ يَكُونَ بَنُو الأَبِ يَرُدُّونَ عَلَى بَنَاتِ الأَبِ وَالأُمِّ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ بَعْدَ فَرَائِضِ بَنَاتِ الأَبِ وَالأُمِّ فَهُوَ لِلأُخُوَّةِ مِنَ الأَبِ، لِلذَّكَرِ مثل حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ" .
یونس بن یزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے زہری سے ایسے شخص کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا، جس کے پس ماندگان میں ایک دادا اور سگے بہن بھائی ہوتے ہیں۔ زہری نے بتایا: سعید بن مسیب، عبیداللہ بن عبداللہ اور قبیصہ بن ذؤیب نے یہ بات بیان کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ دیا تھا، دادا سگے بہن بھائیوں اور باپ کی طرف سے شریک بہن بھائیوں کے ساتھ حصہ دار ہو گا، جبکہ ایک تہائی مال میں سے مقاسمہ اس کے حق میں بہتر ہو، اگر بہن بھائیوں کی تعداد زیادہ ہو، تو دادا کو ایک تہائی حصہ دے دیا جائے گا اور باقی سب بہن بھائیوں کو ایک مذکر کا حصہ دو مؤنث کے برابر کے حساب سے دیا جائے گا، انہوں نے یہ فیصلہ بھی دیا تھا، سگے بہن بھائی صرف باپ کی طرف سے شریک بہن بھائیوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں، خواہ وہ مذکر ہوں یا مؤنث ہوں، البتہ اگر باپ کی طرف سے شریک بہن بھائی، سگے بہن بھائیوں کے ساتھ موجود ہوں، تو انہیں بھی ان کا حصہ ملے گا، البتہ باپ کی طرف سے شریک بہن بھائی سگے بہن بھائیوں کے ہمراہ کچھ حاصل نہیں کریں، ماسوائے اس صورت کے جب باپ کی طرف سے شریک بھائی سگی بہنوں کی طرف (وراثت کو) لوٹا دیں اور سگی بہنوں کے فرض حصے کے بعد اگر کچھ باقی رہ جائے گا، تو وہ باپ کی طرف سے شریک بھائیوں کو ایک مذکر کے لیے دو مؤنث کے برابر حصے کے اصول کے تحت مل جائے گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْفَرَائِضِِ/حدیث: 4142]
ترقیم العلمیہ: 4070
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2958، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 58، 59، 60، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12559، 12560، 12562، 12563، 12565، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4141، 4142، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31868»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں