🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ
مکاتب کے احکام
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4168 ترقیم الرسالہ : -- 4243
نَا أَحْمَدُ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَهْمِيُّ الْبَيْطَارِيُّ ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، كَذَا قَالَ بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ.
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے حوالے سے بھی سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4243]
ترقیم العلمیہ: 4168
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 21817، 21818، 21819، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4241، 4242، 4243، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4147»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4169 ترقیم الرسالہ : -- 4244
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّبَيْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لَهُ إِلا أَنْ يَسْتَثْنِيَهُ السَّيِّدُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص کسی کو آزاد کرتا ہے اور اس غلام کا کوئی مال بھی موجود ہو، تو وہ مال غلام کے پاس رہے گا، البتہ اگر اس کا آقا استثناء کرے، تو حکم مختلف ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4244]
ترقیم العلمیہ: 4169
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4961، 4962، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3962، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2529، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10874، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4244، 4245، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8730»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4170 ترقیم الرسالہ : -- 4245
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، ثنا أَبِي ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ تَبِعَهُ مَالُهُ، إِلا يَكُونَ شَرَطَهُ الْمُعْتِقُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کوئی شخص کسی غلام کو آزاد کرتا ہے، تو اس کا مال بھی اس کے ساتھ رہتا ہے، البتہ اگر آزاد کرنے والے نے اس مال کی شرط عائد کر دی ہو (تو حکم مختلف ہو گا)۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4245]
ترقیم العلمیہ: 4170
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4961، 4962، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3962، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2529، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10874، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4244، 4245، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8730»
«هذا خطأ، علل الحديث: (3 / 676)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4171 ترقیم الرسالہ : -- 4246
نَا نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، نَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ:" قَضَى أَنَّ أُمَّ الْوَلَدِ لا تُبَاعُ، وَلا تُوهَبُ، وَلا تُورَثُ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا صَاحِبُهَا مَا عَاشَ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ ام ولد کو فروخت نہیں کیا جائے گا، اسے ہبہ نہیں کیا جائے گا، وہ وراثت میں منتقل نہیں کی جائے گی، اس کا آقا اس سے فائدہ اٹھاتا رہے گا، جب تک وہ زندہ رہے گا، جب وہ آقا مر جائے گا، تو ام ولد آزاد شمار ہو گی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4246]
ترقیم العلمیہ: 4171
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1410، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 2053، 2054، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4246، 4247، 4248، 4249، 4250،وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22011، 22016»
«قال الدارقطني: والصواب عن ابن عمر عن عمر قوله يستمتع بها سيدها ما كان حيا فإذا مات فهي حرة لا تباع ولا توهب ولا تورث، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (13 / 192)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4172 ترقیم الرسالہ : -- 4247
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا قَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُقْرِئُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْرَمِيُّ الْقَاضِي ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" نَهَى عَنْ بَيْعِ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ، وَقَالَ: لا يُبَعْنَ، وَلا يُوهَبْنَ، وَلا يُورَثْنَ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا سَيِّدُهَا مَا دَامَ حَيًّا، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ" ،.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ولد کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، آپ نے ارشاد فرمایا ہے: ”انہیں فروخت نہیں کیا جائے گا، انہیں ہبہ نہیں کیا جائے گا، وہ وراثت میں تقسیم نہیں ہوں گی، ان کا آقا جب تک زندہ رہے گا، ان سے نفع حاصل کرے گا اور جب وہ آقا فوت ہو جائے گا، تو وہ ام ولد آزاد شمار ہوں گی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4247]
ترقیم العلمیہ: 4172
تخریج الحدیث: «موقوف صحیح، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1410، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 2053، 2054، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4246، 4247، 4248، 4249، 4250،وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22011، 22016»
«قال الدارقطني:وقفه هو الصحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 755) _x000D_»

الحكم على الحديث:
موقوف صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4172/1 ترقیم الرسالہ : -- 4248
یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے اور ”مرفوع“ حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4248]
ترقیم العلمیہ: 4172/1
تخریج الحدیث: «موقوف صحیح، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1410، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 2053، 2054، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4246، 4247، 4248، 4249، 4250،وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22011، 22016»
«قال الدارقطني:وقفه هو الصحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 755) _x000D_»

الحكم على الحديث:
موقوف صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4173 ترقیم الرسالہ : -- 4249
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ ،" أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ لا يُوهَبْنَ، وَلا يُورَثْنَ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا سَيِّدُهَا حَيَاتَهُ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ام ولد کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، اسے ہبہ نہیں کیا جا سکتا، وہ وراثت میں تقسیم نہیں ہو گی، اس کا آقا اپنی زندگی میں اس سے نفع حاصل کرتا رہے گا، جب آقا فوت ہو جائے گا، تو وہ ام ولد آزاد شمار ہو گی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4249]
ترقیم العلمیہ: 4173
تخریج الحدیث: «موقوف صحیح، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1410، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 2053، 2054، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4246، 4247، 4248، 4249، 4250،وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22011، 22016»
«قال الدارقطني:وقفه هو الصحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 755) _x000D_»

الحكم على الحديث:
موقوف صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4174 ترقیم الرسالہ : -- 4250
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَفٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ الْمُخَرِّمِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ، لا يُبَعْنَ، وَلا يُوهَبْنَ، وَلا يُورَثْنَ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا سَيِّدُهَا مَا بَدَا لَهُ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ولد کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، انہیں فروخت نہیں کیا جا سکے گا، انہیں ہبہ نہیں کیا جا سکے گا، وہ وراثت میں تقسیم نہیں ہوں گی، ان کا آقا جب تک مناسب سمجھے گا (یعنی جب تک زندہ رہے گا)، ان سے نفع حاصل کرتا رہے گا، جب وہ آقا فوت ہو جائے گا، تو وہ ام ولد آزاد ہو جائے گی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4250]
ترقیم العلمیہ: 4174
تخریج الحدیث: «موقوف صحیح، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1410، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 2053، 2054، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4246، 4247، 4248، 4249، 4250،وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22011، 22016»
«قال الدارقطني:وقفه هو الصحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 755) _x000D_»

الحكم على الحديث:
موقوف صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4175 ترقیم الرسالہ : -- 4251
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:" كُنَّا نَبِيعُ سَرَارِيَّنَا أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيُّ لا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم پہلے اپنی ام ولد کنیزوں کو فروخت کر دیا کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حیات تھے، ہم اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہم ایسا کیا کرتے تھے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4251]
ترقیم العلمیہ: 4175
تخریج الحدیث: «ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4323، 4324، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2201، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5021، 5022، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3954، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2517، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 21830، 21831، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4251، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14670، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 2229، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 13211»
«قال ابن عبدالبر: وهي آثار ليست بالقوية، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (3 / 130)»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4176 ترقیم الرسالہ : -- 4252
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ" فِي أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ: كُنَّا نَبْتَاعَهُنَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ام ولد کے بارے میں یہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم اس کی خرید و فروخت کر لیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4252]
ترقیم العلمیہ: 4176
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2202، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5023، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 21832، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4252، 4253، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11334، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 2314»
«‏‏‏‏قال ابن الملقن: في إسناده زيد العمي وحاله معلومة بالضعف، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 758)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں