🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ
مکاتب کے احکام
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4187 ترقیم الرسالہ : -- 4263
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، قَالا: نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُدَبَّرُ مِنَ الثُّلُثِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مدبر (کی آزادی کا فیصلہ میت کے) ایک تہائی مال میں سے ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4263]
ترقیم العلمیہ: 4187
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3316، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2514، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 21607، 21608، 21609، 21610، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4263، 4264، 4265، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21056، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 13365»
«قال ابن عبدالبر: علي بن ظبيان كان قاضيا ببغداد تركوه لهذا الحديث وشبهه فهو عندهم متروك الحديث، الاستذكار الجامع لمذاهب فقهاء الأمصار وعلماء الأقطار فيما تضمنه الموطأ من معاني الرأي والآثار: (23 / 357)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4188 ترقیم الرسالہ : -- 4264
نَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلاءِ الْكَاتِبُ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، وَجَمَاعَةٌ، قَالُوا: نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ أَبُو مُعَاوِيَةَ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدَةَ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُدَبَّرُ لا يُبَاعُ، وَلا يُوهَبُ، وَهُوَ حُرٌّ مِنَ الثُّلُثِ" ، لَمْ يُسْنِدْهُ غَيْرُ عُبَيْدَةَ بْنِ حَسَّانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَإِنَّمَا هُوَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، مَوْقُوفٌ مِنْ قَوْلِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مدبر غلام کو فروخت نہیں کیا جا سکتا، اسے ہبہ نہیں کیا جا سکتا، (میت کے) ایک تہائی مال میں سے وہ آزاد شمار ہو گا۔“ اس روایت کو صرف عبیدہ بن حسان نامی راوی نے سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور یہ راوی ضعیف ہے۔ یہ روایت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ”موقوف“ روایت کے طور پر، یعنی ان کے اپنے قول کے طور پر منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4264]
ترقیم العلمیہ: 4188
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3316، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2514، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 21607، 21608، 21609، 21610، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4263، 4264، 4265، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21056، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 13365»
«‏‏‏‏قال ابن الملقن: ضعيف، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 725)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4189 ترقیم الرسالہ : -- 4265
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا أَبُو النُّعْمَانِ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنَّهُ كَرِهَ بَيْعَ الْمُدَبَّرِ" ، هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ، وَمَا قَبْلَهُ لا يُثْبَتُ مَرْفُوعًا، وَرُوَاتُهُ ضُعَفَاءُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ مدبر کو فروخت کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔ یہی روایت مستند ہے اور یہ روایت ”موقوف“ ہے۔ اس سے پہلے کی روایت، جو ”مرفوع“ حدیث کے طور پر منقول ہے، وہ ثابت نہیں ہے اور اس کے راوی ضعیف ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4265]
ترقیم العلمیہ: 4189
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3316، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2514، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 21607، 21608، 21609، 21610، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4263، 4264، 4265، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21056، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 13365»
«‏‏‏‏قال الدارقطني: هذا هو الصحيح موقوف وما قبله لا يثبت مرفوعا ورواته ضعفاء، سنن الدارقطني: (5 / 245) برقم: (4265)»

الحكم على الحديث:
موقوف صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4190 ترقیم الرسالہ : -- 4266
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالُوا: نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا مَاتَ وَتَرَكَ مُدَبَّرًا وَدَيْنًا،" فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي دَيْنِهِ" ، فَبَاعُوهُ بِثَمَانِمِائَةٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُ شَرِيكٍ: إِنَّ رَجُلا مَاتَ خَطَأٌ مِنْهُ، لأَنَّ فِي حَدِيثِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ: وَدَفَعَ ثَمَنَهُ إِلَيْهِ، وَقَالَ: اقْضِ دَيْنَكَ كَذَلِكَ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ سَيِّدًا لِمُدَبَّرٍ كَانَ حَيًّا يَوْمَ بَيْعِ الْمُدَبَّرِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص فوت ہو گیا، اس نے ایک مدبر غلام کو بھی چھوڑا اور کچھ قرض بھی چھوڑا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ورثاء کو یہ حکم دیا کہ وہ اس قرض کی ادائیگی کے لیے اس مدبر غلام کو فروخت کر دیں، تو ان لوگوں نے اس غلام کو آٹھ سو (درہم) کے عوض میں فروخت کیا۔ ابوبکر نامی محدث نے یہ بات بیان کی ہے کہ روایت کے یہ الفاظ: ایک شخص فوت ہو گیا، اس میں راوی کو غلطی ہوئی ہے، کیونکہ دیگر راویوں نے یہ بات نقل کی ہے: (اس کے آقا نے خود اس غلام کو آزاد کیا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کی قیمت اس کے آقا کو ادا کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اس کے ذریعے تم اپنا قرض ادا کر لو۔ اسی طرح دیگر راویوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ جس دن اس غلام کو فروخت کیا گیا تھا، اس وقت اس کا آقا زندہ تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4266]
ترقیم العلمیہ: 4190
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2141، 2230، 2231، 2403، 2415، 2534، 6716، 6947، 7186، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 997، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2445، 2452، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3339، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2548، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3955،برقم: 3957، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1219،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2512، 2513،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4258، 4262، 4266، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14349،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21054»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4191 ترقیم الرسالہ : -- 4267
نَا نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَمْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ وَهُوَ أَبُو الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَصَابَهَا مَرَضٌ وَأَنَّ بَعْضَ بَنِي أَخِيهَا ذَكَرُوا شَكْوَاهَا لِرَجُلٍ مِنَ الزُّطِّ يَتَطَبَّبُ، وَأَنَّهُ قَالَ لَهُمْ: إِنَّكُمْ لَتَذْكُرُونَ امْرَأَةً مَسْحُورَةً سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا فِي حِجْرِ الْجَارِيَةِ الآنَ صَبِيُّ قَدْ بَالَ فِي حِجْرِهَا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَقَالَتِ:" ادْعُوا لِي فُلانَةَ، لَجَارِيَةٍ لَهَا، فَقَالُوا فِي حِجْرِهَا فُلانٌ صَبِيُّ لَهُمْ قَدْ بَالَ فِي حِجْرِهَا، فَقَالَتِ: ائْتُونِي بِهَا، فَأُتِيَتْ بِهَا، فَقَالَتْ: سَحَرْتِينِي؟، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: لِمَهْ؟، قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أُعْتَقَ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ أَعْتَقَتْهَا عَنْ دُبُرٍ مِنْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ أَنْ لا تُعْتَقِي أَبَدًا، انْظُرُوا أَسْوَأَ الْعَرَبِ مَلَكَةً فَبِيعُوهَا مِنْهُمْ، وَاشْتَرَتْ بِثَمَنِهَا جَارِيَةً فَأَعْتَقَتْهَا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ بیمار ہو گئیں، تو ان کے کسی بھتیجے نے ان کی بیماری کا تذکرہ ”زط“ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کسی شخص سے کیا، جو طبیب تھا، تو وہ شخص بولا: تم جن کے بارے میں بتا رہے ہو، اس خاتون پر جادو کیا گیا ہے اور یہ جادو اس کی کسی کنیز نے کیا ہے، جس کی گود میں اس وقت بچہ بھی موجود ہے اور اس بچے نے اس عورت کی گود میں پیشاب کیا تھا۔ ان بھتیجوں نے اس بات کا تذکرہ سیدہ عائشہ سے کیا، تو سیدہ عائشہ نے فرمایا کہ فلاں کنیز کو میرے پاس لے کر آؤ، انہوں نے اپنی ایک کنیز کے بارے میں کہا: تو ان لوگوں نے بتایا کہ اس کی گود میں اس کا ایک بچہ ہے، جس نے سیدہ عائشہ کی گود میں پیشاب کیا تھا، تو سیدہ عائشہ نے کہا: کہ اسے میرے پاس لے کر آؤ۔ اس کنیز کو لایا گیا، تو سیدہ عائشہ نے دریافت کیا: ”تم نے مجھ پر جادو کیا تھا؟“ تو اس نے جواب دیا: جی ہاں! سیدہ عائشہ نے دریافت کیا: ”وہ کیوں؟“ اس نے جواب دیا: ”میں یہ چاہتی تھی کہ آپ مجھے آزاد کر دیں۔“ تو سیدہ عائشہ نے مدبر کے طور پر اس کنیز کو آزاد کر دیا، پھر سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”اب اللہ کے نام پر یہ بات مجھ پر لازم ہے کہ تم کبھی آزاد نہیں ہو سکتی۔“ (پھر انہوں نے لوگوں سے فرمایا:) ”کوئی ایسا شخص ڈھونڈو، جو بہت برا مالک ہو اور اس کنیز کو اس سے فروخت کر دو۔“ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی قیمت کے عوض میں ایک اور کنیز خرید لی اور اسے آزاد کر دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4267]
ترقیم العلمیہ: 4191
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7611، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16602، 21598، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4267، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24760، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 16667، 18749، 18750»
«قال ابن حجر: وإسناده صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 77)»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں