🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. باب مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا:
باب: جو شخص زنا کا اعتراف کر لے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1691 ترقیم شاملہ: -- 4420
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: " أَتَى رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّى تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى ثَنَى ذَلِكَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَبِكَ جُنُونٌ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَلْ أَحْصَنْتَ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَأَخْبَرَنِي مَنْ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ فَأَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ
عقیل (بن خالد اموی) نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان بن عوف اور سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مسلمانوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ مسجد میں تشریف فرما تھے، اس نے آپ کو آواز دی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا، وہ گھوم کر ایک طرف سے آپ کے سامنے آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ آپ نے (پھر) اس سے منہ پھر لیا حتی کہ اس نے آپ کے سامنے یہی کلمات چار مرتبہ دہرائے۔ جب اس نے اپنے خلاف چار گواہیاں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور پوچھا: کیا تمہیں جنون ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے پوچھا: کیا تم نے شادی کی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور رجم کرو۔ ابن شہاب نے کہا: مجھے اس آدمی نے بتایا جس نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی تھی، وہ کہہ رہے تھے: میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اسے رجم کیا، ہم نے اسے جنازہ گاہ میں رجم کیا تھا، جب پتھروں نے اس کی برداشت ختم کر دی تو وہ بھاگ نکلا، ہم نے اسے سیاہ پتھروں والی زمین میں جا لیا اور رجم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4420]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں ایک مسلمان آدمی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دے کر کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، وہ پھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا اور آپ سے کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض کیا حتیٰ کہ اس نے یہ بات چار مرتبہ دہرائی، جب اس نے اپنے بارے میں چار مرتبہ گواہی دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور اس سے پوچھا: کیا تو دیوانہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور سنگسار کر دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4420]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1691
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1691 ترقیم شاملہ: -- 4421
وَرَوَاهُ اللَّيْثُ أَيْضًا، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
عبدالرحمان بن خالد بن مسافر نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4421]
یہی روایت امام لیث رحمہ اللہ، زہری رحمہ اللہ ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4421]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1691
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1691 ترقیم شاملہ: -- 4422
وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَيْضًا وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي مَنْسَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ كَمَا ذَكَرَ عُقَيْلٌ،
شعیب نے بھی زہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور ان دونوں (عبدالرحمان بن خالد بن مسافر اور شعیب) کی حدیث میں ہے: ابن شہاب نے کہا: مجھے اس شخص نے بتایا جس نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ اسی طرح جیسے عقیل نے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4422]
یہی روایت امام صاحب، امام دارمی کی سند سے زہری ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں، امام لیث اور امام دارمی دونوں کی حدیث میں ابن شہاب، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا قول نقل کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4422]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1691
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1691 ترقیم شاملہ: -- 4423
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ كلهم، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ رِوَايَةِ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
یونس، معمر اور ابن جریج سب نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی جس طرح عقیل نے زہری سے، انہوں نے سعید (بن مسیب) اور ابوسلمہ (بن عبدالرحمان بن عوف) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4423]
امام صاحب تین اساتذہ کی دو سندوں سے زہری کے واسطہ سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4423]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1691
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1692 ترقیم شاملہ: -- 4424
وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " رَأَيْتُ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ جِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَعْضَلُ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ أَنَّهُ زَنَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَعَلَّكَ؟، قَالَ: لَا، وَاللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَى الْأَخِرُ، قَالَ: فَرَجَمَهُ، ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ: أَلَا كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ أَحَدُهُمُ الْكُثْبَةَ، أَمَا وَاللَّهِ إِنْ يُمْكِنِّي مِنْ أَحَدِهِمْ لَأُنَكِّلَنَّهُ عَنْهُ ".
ابوعوانہ نے سماک بن حرب سے، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ماعز بن مالک کو، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیے گئے، دیکھا، وہ چھوٹے قد کے مضبوط پٹھوں والے آدمی تھے، ان پر کوئی چادر نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے خلاف چار مرتبہ گواہی دی کہ انہوں نے زنا کیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تم نے (کچھ اور مثلا: بوس و کنار کیا ہو گا؟) انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! اِس بدبخت نے زنا (ہی) کیا ہے۔ کہا: آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: سنو، جب ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو ان لوگوں میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے، وہ نسل کشی کے بکرے کی طرح جوش سے آوازیں نکالتا ہے اور (عورتوں کو آمادہ کرنے کے لیے) معمولی چیز پیش کرتا ہے۔ سنو! اللہ کی قسم! اگر اُس نے مجھے ان میں سے کسی ایک کو (ثبوت سمیت) میرے قابومیں دیا تو میں اس کو عبرتناک سزا دوں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4424]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا، جب انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، (وہ) چھوٹے قد اور مضبوط جسم والے تھے، ان کے جسم پر چادر نہیں تھی، انہوں نے اپنے بارے میں چار دفعہ زنا کرنے کی شہادت دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تم نے...؟ (بوس و کنار کیا ہو یا چٹکی لی ہو) انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! اس ذلیل اور کمینے آدمی نے زنا کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: خبردار! جب بھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو کوئی فرد پیچھے رہتا ہے اور بکرے کی طرح جنسی آوازیں نکالتا ہے، کسی کو معمولی اور حقیر چیز پیش کرتا ہے، ہاں اللہ کی قسم! اگر ان میں سے کوئی میرے قابو میں آ گیا تو میں اس کو سامانِ عبرت بنا دوں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4424]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1692
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1692 ترقیم شاملہ: -- 4425
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَصِيرٍ أَشْعَثَ ذِي عَضَلَاتٍ عَلَيْهِ إِزَارٌ وَقَدْ زَنَى، فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ، فَرُجِمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، تَخَلَّفَ أَحَدُكُمْ يَنِبُّ نَبِيبَ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُمْكِنِّي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا جَعَلْتُهُ نَكَالًا أَوْ نَكَّلْتُهُ "، قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: إِنَّهُ رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹے قد، پراگندہ بالوں اور مضبوط پٹھوں والا ایک شخص لایا گیا، اس (کے جسم) پر ایک تہبند تھا اور اس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، آپ نے اسے دوبارہ لوٹایا، پھر اسے (رجم کرنے کا) حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: ہم جب بھی اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو تم لوگوں میں سے کوئی شخص پیچھے رہ جاتا ہے، وہ نسل کشی کے بکرے کی طرح جوش سے آوازیں نکالتا ہے اور عورتوں میں سے کسی کو (آمادہ کرنے کے لیے) معمولی سی چیز پیش کرتا ہے۔ بلاشبہ اللہ جب بھی مجھے ان میں سے کسی ایک پر قابودے گا تو میں لازماً اسے (لوگوں کے لیے) عبرت بنا دوں گا، یا عبرتناک سزا دوں گا۔ کہا: میں نے یہ حدیث سعید بن جبیر کو بیان کی تو انہوں نے کہا: آپ نے اسے چار بار واپس کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4425]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پستہ قد، پراگندہ بال اور مضبوط بدن والا آدمی لایا گیا، جو تہبند باندھے ہوئے تھا اور زنا کر چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو مرتبہ لوٹایا، پھر اس کو رجم کرنے کا حکم دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے نکلتے ہیں، تم میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے اور بکرے کی طرح آوازیں نکالتا ہے اور ان میں سے کسی کو تھوڑا سا دودھ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے جس پر بھی مجھے قابو دیا میں اسے عبرت بنا دوں گا یا عبرتناک سزا دوں گا، راوی بیان کرتا ہے کہ میں نے یہ حدیث سعید بن جبیر رحمہ اللہ کو سنائی تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار بار لوٹایا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4425]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1692
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1692 ترقیم شاملہ: -- 4426
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ وَوَافَقَهُ شَبَابَةُ عَلَى قَوْلِهِ فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَامِرٍ فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا.
شبابہ اور ابوعامر عقدی دونوں نے شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سماک سے، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن جعفر کی حدیث کی طرح روایت کی اور شبابہ نے اس بات میں ان کی موافقت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبار لوٹایا۔ اور ابوعامر کی حدیث میں ہے: آپ نے اسے دو یا تین بار واپس کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4426]
امام صاحب رحمہ اللہ یہی روایت اپنے دو اور اساتذہ سے شعبہ رحمہ اللہ ہی کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں، شبابہ رحمہ اللہ نامی راوی کی روایت میں بھی دو دفعہ لوٹانے کا تذکرہ ہے، جبکہ ابو عامر رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: دو یا تین دفعہ لوٹایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4426]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1692
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1693 ترقیم شاملہ: -- 4427
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ: " أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ؟، قَالَ: وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي؟، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّكَ وَقَعْتَ بِجَارِيَةِ آلِ فُلَانٍ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (چار بار واپس کرنے اور اس کے اصرار کے بعد) ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا وہ بات سچ ہے جو مجھے تمہارے بارے میں پہنچی ہے؟ انہوں نے کہا: میرے بارے میں آپ کو کیا بات پہنچی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے فلاں خاندان کی لونڈی سے زنا کیا ہے۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ کہا: تو انہوں نے (اپنے خلاف) چار گواہیاں دیں، پھر آپ نے ان (کو رجم کرنے) کے بارے میں حکم دیا تو انہیں رجم کر دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4427]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تیرے بارے میں مجھ تک جو کچھ پہنچا ہے، ٹھیک ہے، (حقیقت ہے)؟ اس نے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے بارے میں کیا خبر ملی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے خبر ملی ہے کہ تو نے فلاں خاندان کی لونڈی سے زنا کیا ہے؟ اس نے کہا، جی ہاں، اس نے چار مرتبہ اس کی شہادت دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4427]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1693
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1694 ترقیم شاملہ: -- 4428
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ " أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ فَاحِشَةً فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، قَالَ: ثُمَّ سَأَلَ قَوْمَهُ، فَقَالُوا: مَا نَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا إِلَّا أَنَّهُ أَصَابَ شَيْئًا يَرَى أَنَّهُ لَا يُخْرِجُهُ مِنْهُ إِلَّا أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَرْجُمَهُ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، قَالَ: فَمَا أَوْثَقْنَاهُ وَلَا حَفَرْنَا لَهُ، قَالَ: فَرَمَيْنَاهُ بِالْعَظْمِ وَالْمَدَرِ وَالْخَزَفِ، قَالَ: فَاشْتَدَّ فَاشْتَددْنَا خَلْفَهُ حَتَّى أَتَى عُرْضَ الْحَرَّةِ، فَانْتَصَبَ لَنَا، فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْحَرَّةِ يَعْنِي الْحِجَارَةَ حَتَّى سَكَتَ، قَالَ: ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا مِنَ الْعَشِيِّ، فَقَالَ: أَوَ كُلَّمَا انْطَلَقْنَا غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، تَخَلَّفَ رَجُلٌ فِي عِيَالِنَا لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ عَلَيَّ أَنْ لَا أُوتَى بِرَجُلٍ فَعَلَ ذَلِكَ، إِلَّا نَكَّلْتُ بِهِ "، قَالَ: فَمَا اسْتَغْفَرَ لَهُ وَلَا سَبَّهُ،
عبدالاعلیٰ نے کہا: ہمیں داود نے ابونضرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اسلم قبیلے کا ایک آدمی، جسے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھ سے بدکاری ہو گئی ہے، مجھ پر اس کی حد نافذ کیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کئی بار واپس کیا۔ کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم ان کی کسی برائی کو نہیں جانتے، مگر ان سے کوئی بات سرزد ضرور ہوئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں اس کیفیت سے، اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں نکال سکتی کہ ان پر حد قائم کر دی جائے۔ کہا: اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پھر واپس آئے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ انہیں رجم کر دیں۔ کہا: ہم انہیں بقیع الغرقد کی طرف لے کر گئے۔ کہا: نہ ہم نے انہیں باندھا، نہ ان کے لیے گڑھا کھودا۔ کہا: ہم نے انہیں ہڈیوں، مٹی کے ڈھیلوں اور ٹھیکروں سے مارا۔ کہا: وہ بھاگ نکلے تو ہم بھی ان کے پیچھے بھاگے حتی کہ وہ حرہ (سیاہ پتھروں والی زمین) کے ایک کنارے پر آئے اور ہمارے سامنے جم کر کھڑے ہو گئے، پھر ہم نے انہیں حرہ کی چٹانوں کے ٹکڑوں، یعنی (بڑے بڑے) پتھروں سے مارا حتی کہ وہ بے جان ہو گئے، کہا: پھر شام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: جب بھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے نکلتے ہیں کوئی آدمی پیچھے ہمارے اہل و عیال کے درمیان رہ جاتا ہے اور بکرے کی طرح جوش میں آوازیں نکالتا ہے، مجھ پر لازم ہے کہ میرے پاس کوئی ایسا آدمی نہیں لایا جائے گا جس نے ایسا کیا ہو گا مگر میں اسے عبرتناک سزا دوں گا۔ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبے کے دوران میں) نہ ان کے لیے استغفار کیا، نہ انہیں برا بھلا کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4428]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اسلم خاندان کا ایک آدمی جسے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا، میں نے بدکاری کا ارتکاب کیا ہے، اس کی حد مجھ پر لگائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کئی دفعہ واپس کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم سے پوچھا تو انہوں نے کہا، ہمیں اس کے اندر کسی بیماری (دماغی خلل) کا علم نہیں ہے، مگر یہ بات ہے، اس نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہے، جس کے بارے میں اس کا خیال ہے، وہ حد قائم کیے بغیر معاف نہیں ہو سکتا، وہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسے مارنے کا حکم دیا، تو ہم اسے بقیع غرقد (مدینہ کا قبرستان) کی طرف لے گئے، ہم نے نہ اس کو باندھا اور نہ ہی اس کے لیے گڑھا کھودا، ہم نے اسے ہڈیوں، روڑوں اور ٹھیکریوں سے مارا تو وہ بھاگ کھڑا ہوا اور ہم بھی اس کے پیچھے بھاگ پڑے حتیٰ کہ وہ حرہ (سیاہ سنگریزے) کے کنارے پر آ گیا اور ہمارے سامنے کھڑا ہو گیا تو ہم نے اسے حرہ کے بڑے پتھروں سے مارا حتیٰ کہ وہ خاموش ہو گیا، یعنی فوت ہو گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کو خطاب فرمایا اور کہا: جب بھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو کوئی آدمی ہماری عورتوں میں پیچھے رہ جاتا ہے اور وہ نر کی طرح آواز نکالتا ہے، مجھ پر لازم ہے، میرے پاس اس فعل کا مرتکب جو آدمی بھی لایا جائے گا، میں اسے عبرت ناک سزا دوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا کی نہ برا بھلا کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4428]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1694
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1694 ترقیم شاملہ: -- 4429
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ، وَقَالَ: فِي الْحَدِيثِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَشِيِّ: فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَال: " أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ إِذَا غَزَوْنَا يَتَخَلَّفُ أَحَدُهُمْ عَنَّا، لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ " وَلَمْ يَقُلْ فِي عِيَالِنَا،
یزید بن زریع نے کہا: ہمیں داود نے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی اور انہوں نے حدیث میں کہا: شام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد اور ثنا بیان کی، پھر فرمایا: اما بعد! لوگوں کا کیا حال ہے؟ جب ہم جہاد کے لیے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی شخص پیچھے رہ جاتا ہے، وہ نسل کشی کے بکرے کی طرح آوازیں نکالتا ہے۔۔ انہوں (یزید بن زریع) نے ہمارے اہل و عیال میں کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4429]
امام صاحب ایک اور استاد سے داود کی مذکورہ بالا سند سے اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں اور اس حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شام کو خطاب کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: حمد و صلوٰۃ کے بعد، لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جب ہم جہاد کے لیے نکلتے ہیں ان میں سے کوئی ایک پیچھے رہ جاتا ہے اور نر بکرے کی طرح آواز نکالتا ہے۔ اس میں «فِي عِيَالِنَا» ہمارے اہل و عیال میں (کے الفاظ ہیں)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4429]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1694
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں