🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بابٌ فِي خِصَالِ الإِيمَانِ وَآيَاتِهِ
ایمان کی خصلتوں اور اس کی نشانیوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 99
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ بَدَلَ قَوْلِهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کون سا اسلام افضل ہے کے بجائے یہ سوال کیا گیا: کون سے مسلمان افضل ہیں؟ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 99]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 756، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15280»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث مسلمان کی عظمت و حرمت پر دلالت کرتی ہے‘سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ عِرْضُہٗ وَماَلُہٗ وَدَمُہٗ، اَلتَّقْوٰی ھٰھُنَا، بِحَسْبِ امْرِیئٍ مِنَ الشَّرِّ اَنْ یَحْتَقِرَ اَخَاہُ الْمُسْلِمَ)) … ہر مسلمان کی عزت‘ مال اورخون دوسرے مسلمان پر حرام ہے‘ تقوی یہاں ہے اورکسی آدمی کیلئے برائی میں سے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر اور کمتر خیال کرے۔ (جامع ترمذی: ۱۹۲۷)
کسی مسلمان کی زندگی کا کمال یہ ہے کہ جہاں وہ حقوق اللہ کی ادائیگی کا خیال رکھتا ہے‘ وہاں وہ اللہ کے بندوں کو کسی قسم کی تکلیف پہنچانے سے نہ صرف باز رہے بلکہ ان کی عزتوں اور حرمتوں کی حفاظت بھی کرے‘ سیدنا ابو درداءؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ اَخِیْہِ رَدَّ اللّٰہُ عَنْ وَجْھِہٖ النَّارَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) … جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کیا‘ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے جہنم کی آگ دور کر دے گا۔ (جامع ترمذی: ۱۹۳۱) جو آدمی حقوق العباد کے سلسلے میں محتاط نہیں رہتا، اس کو قیامت والے دن بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 100
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْ أَنْ يُعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: عِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ فَأُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ: ( (ائْتِ بِهَا) ) فَدَعَوْتُهَا فَجَاءَتْ فَقَالَ لَهَا: ( (مَنْ رَبُّكِ؟) ) قَالَتْ: اللَّهُ، قَالَ: ( (مَنْ أَنَا؟) ) فَقَالَتْ: رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: ( (أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ) )
سیدنا ابو شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی ماں نے یہ وصیت کی تھی کہ وہ ان کی طرف سے ایک مسلمان غلام آزاد کرے، پس انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ ان کے پاس ایک کالے رنگ کی سوڈانی لونڈی ہے، کیا وہ اس کو آزاد کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لے آؤ۔ پس میں نے اس کو بلایا اور وہ آ گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تیرا رب کون ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دے، کیونکہ یہ مومنہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 100]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3283، والنسائي: 6/ 252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18109»
وضاحت: فوائد: … مسلمان غلام کو آزاد کرنا بڑے ثواب کا کام ہے، یہ اچھی بات ہے کہ ماں نے مسلمان غلام کو آزاد کرنے کی وصیت کی تھی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 101
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَاءَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَإِنْ كُنْتَ تَرَى هَذِهِ مُؤْمِنَةً أَعْتِقْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟) ) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ( (أَتُؤْمِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟) ) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ( (أَعْتِقْهَا) )
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیاہ رنگ کی ایک لونڈی لے کر آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک مسلمان گردن آزاد کرنی ہے، اب اگر آپ اس لونڈی کو مومنہ خیال کرتے ہیں تو اس کو آزاد کر دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو یہ گواہی دیتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: کیا تو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان رکھتی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 101]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه مالك في المؤطا: 2/ 777، والبيھقي: 10/ 57، وعبد الرزاق: 16814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15835»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسین حکیمانہ انداز تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موقع محل کو دیکھ کر اور متعلقہ آدمی کے مزاج کو سامنے رکھ سوال کرتے تھے، اس حدیث میں رسالت اور آخرت کے بارے میں پوچھا ہے، جبکہ سابقہ حدیث میں اللہ تعالیٰ اور اپنی ذات کے بارے میں سوال کیا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 102
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ قِلَّةُ الْكَلَامِ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ) تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ) )
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندے کے حسنِ اسلام میں سے یہ ہے کہ جس چیز میں اس کا کوئی مقصد نہ ہو، وہ اس کے بارے میں باتیں کم کرے۔ اور ایک روایت میں ہے: جس چیز میں اس کا کوئی مقصد نہ ہو، وہ اسے چھوڑ دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 102]
تخریج الحدیث: «حسن بشواهده۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 2886، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1737»
وضاحت: فوائد: … یہ ایک جامع حدیث ہے اور نبیٔ کریم کے صاحب ِ جوامع الکلم ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: اہل علم نے اس حدیث کو بڑی شان و عظمت والا قرار دیا اور اس کو ان چار فرمودات ِ نبویہ میں شمار کیا، جن پر اسلام کے احکام سہارا لیتے ہیں، بعض نے اس حدیث کو اسلام کا تیسرا حصہ قرار دیا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۱۲۹)
یہ حدیث تمام اسلامی احکام کا ملجاو ماوی ہے، اس حدیث کا مسلمان کے ہر معاملے سے گہرا تعلق ہے، جب بھی کوئی اقدام کرنا چاہے یا بولنا چاہے تو اس کے نتائج اور فوائد پر غور کر لے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں ندامت ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 103
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَجِلُّوا اللَّهَ يَغْفِرْ لَكُمْ) ) قَالَ ابْنُ ثَوْبَانَ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) يَعْنِي أَسْلِمُوا
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرو، وہ تم کو بخش دے گا۔ ابن ثوبان رحمہ اللہ راوی نے کہا: اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو جاؤ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 103]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي العذراء۔ أخرجه الطبراني في الاوسط: 6794، وابو نعيم في الحلية: 1/ 226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22077»
وضاحت: فوائد: … بہرحال اللہ تعالیٰ ہی ہے، جو ہر قسم کی تعظیم کا مستحق ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں