🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. بَابٌ فِي الْإِيْمَانِ بِالنَّبِيِّ ﷺ وَفَضْلَ مَنْ آمَنَ بِهِ وَلَمْ يَرَهُ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 133
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ وَمَاتَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس امت کا جو یہودی اور عیسائی میرے بارے میں سنے گا اور پھر اس چیز پر ایمان نہیں لائے گا، جس کے ساتھ مجھے مبعوث کیا گیا ہے، تو وہ جہنمیوں میں سے ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 133]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8203 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8188»
وضاحت: فوائد: … چونکہ یہودی اور عیسائی اہل کتاب تھے اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معرفت رکھتے تھے، لیکن اس کے باوجود ان کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہ لانا، یہ بڑا جرم ہے، اس وجہ سے حدیث ِ مبارکہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کا بطورِ خاص ذکر کیا گیا ہے، وگرنہ جو غیر مسلم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہیں لائے گا، وہ آخرت میں ناکام و نامراد ہو گا۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 153
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 134
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ وَفِيهِ ( (لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ) ) بَدَلَ قَوْلِهِ ( (إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ) )
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں وہ جہنمیوں میں سے ہو گا کی بجائے یہ الفاظ ہیں: وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 134]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطيالسي: 509، والنسائي في الكبري: 11241، وابن حبان: 4880، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19765»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره ۔ أخرجه الطيالسي: 509
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 135
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْ آمَنَ بِي عَشَرَةٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ لَآمَنَ بِي كُلُّ يَهُودِيٍّ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ) ) قَالَ كَعْبٌ: اثْنَا عَشَرَ مِصْدَاقُهُمْ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہودیوں کے دس علماء مجھ پر ایمان لے آئیں تو روئے زمین پر موجود ہر یہودی مجھ پر ایمان لے آئے گا۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: بارہ کا مصداق سورۂ مائدہ میں ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 135]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3941، ومسلم: 2793، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9377»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3941
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 136
عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُوَيْطِبٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ تَعَالَى، وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ مَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِي، وَلَا يُؤْمِنُ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ) )
رباح بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی دادی نے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ) سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا، اس کا کوئی وضو نہیں اور جو شخص مجھ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں لا سکے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 136]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي ثقال المري۔ أخرجه الترمذي: 25 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27147 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27688»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف ابي ثقال المري۔ أخرجه الترمذي: 25 مختصرا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 137
عَنْ أَبِي مُحَيْرِيزٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جُمْعَةَ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا جَيِّدًا، تَغَدَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا؟ أَسْلَمْنَا مَعَكَ وَجَاهَدْنَا مَعَكَ، قَالَ: ( (نَعَمْ قَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي) )
ابو محیریز رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایک صحابی ابو جمعہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں ایسی حدیث بیان کریں، جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا: جی ہاں، میں تم لوگوں کو بڑی عمدہ حدیث بیان کرتا ہوں، ایک دفعہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کا کھانا کھایا، ہمارے ساتھ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ہم سے بھی بہتر ہو سکتا ہے؟ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ لوگ بہتر ہیں، جو تمہارے بعد آئیں گے اور بغیر دیکھے مجھ پر ایمان لے آئیں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 137]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الدارمي: 2744، والطبراني في الكبير: 3538، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17102»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه الدارمي: 2744
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 138
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَدِدْتُ أَنِّي لَقِيتُ إِخْوَانِي) ) قَالَ: فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: نَحْنُ إِخْوَانُكَ، قَالَ: ( (أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَلَكِنْ إِخْوَانِي الَّذِينَ آمَنُوا بِي وَلَمْ يَرَوْنِي) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو ملوں۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم آپ کے بھائی ہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تو میرے ساتھی ہو، میرے بھائی تو وہ ہیں، جو بغیر دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 138]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 3390، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12579 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12607»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ چاہ رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت والے دن ان لوگوں کو ملیں، جو بِن دیکھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے، نیز اس حدیث میں صحابہ کرام کی زائد خوبی بھی بیان کی جا رہی ہے کہ اُن کو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔

الحكم على الحديث: حسن لغيره ۔ أخرجه ابويعلي: 3390
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 139
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي وَطُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي سَبْعَ مَرَّاتٍ) )
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اور جو آدمی مجھ پر ایمان لایا، جب کہ اس نے مجھے دیکھا ہی نہیں، اس کے لیے سات دفعہ خوشخبری ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 139]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22277 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22633»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 140
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (طُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَرَآنِي مَرَّةً وَطُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي سَبْعَ مَرَّاتٍ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لیے ایک دفعہ خوشخبری ہے، جو مجھ پر ایمان لایا اور میرا دیدار کیا، لیکن جو آدمی بغیر دیکھے مجھ پر ایمان لایا، اس کے لیے سات دفعہ خوشخبری ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 140]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 3391، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12606»

الحكم على الحديث: حسن لغيره ۔ أخرجه ابويعلي: 3391
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 141
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ رَاكِبَانِ فَلَمَّا رَآهُمَا قَالَ: ( (كِنْدِيَّانِ مَذْحِجِيَّانِ) ) حَتَّى أَتَيَاهُ فَإِذَا رِجَالٌ مِنْ مَذْحِجٍ، قَالَ: فَدَنَا إِلَيْهِ أَحَدُهُمَا لِيُبَايِعَهُ قَالَ: فَلَمَّا أَخَذَ بِيَدِهِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مَنْ رَآكَ فَآمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ مَا ذَا لَهُ؟ قَالَ: ( (طُوبَى لَهُ) ) قَالَ: فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَقْبَلَ الْآخَرُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ لِيُبَايِعَهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مَنْ آمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ وَلَمْ يَرَكَ قَالَ: ( (طُوبَى لَهُ، ثُمَّ طُوبَى لَهُ، ثُمَّ طُوبَى لَهُ) ) قَالَ: فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ فَانْصَرَفَ
سیدنا ابو عبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک طرف سے دو سوار نمودار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا: یہ دو کندی مذحجی آدمی ہیں۔ جب وہ دونوں پہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ واقعی ان کا تعلق مذحج قبیلے سے ہے، پھر ان میں سے ایک بیعت کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہا: اے اللہ کے رسول! جو آدمی آپ کا دیدار کرتا ہے، آپ پر ایمان لاتا ہے، آپ کی تصدیق کرتا ہے اور آپ کی پیروی کرتا ہے، اس کے لیے اجر میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے خوشخبری ہے۔ پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پیچھے ہٹ گیا، پھر دوسرا بندہ آگے آیا اور بیعت کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے کہ جو آپ پر ایمان لاتا ہے، آپ کی تصدیق کرتا ہے اور آپ کی پیروی کرتا ہے، لیکن وہ آپ کو دیکھ نہیں پاتا تو اس کے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے خوشخبری ہے، پھر اس کے لیے خوشخبری ہے، پھر اس کے لیے خوشخبری ہے۔ پھر اس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پیچھے ہٹ گیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 141]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 742، والبزار: 2769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17523»

الحكم على الحديث: اسناده حسن ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 742
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 142
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا، فَمَرَّ بِي رَجُلٌ فَقَالَ: طُوبَى لِهَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ! لَوَدِدْنَا أَنَّنَا رَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتَ فَاسْتُغْضِبَ، فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ، مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: مَا يَحْمِلُ الرَّجُلَ عَلَى أَنْ يَتَمَنَّى مَحْضَرًا غَيَّبَهُ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَدْرِي لَوْ شَهِدَهُ كَيْفَ يَكُونُ فِيهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْوَامٌ أَكَبَّهُمُ اللَّهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ لَمْ يُجِيبُوهُ وَلَمْ يُصَدِّقُوهُ، أَوَلَا تَحْمَدُونَ اللَّهَ إِذْ أَخْرَجَكُمْ لَا تَعْرِفُونَ إِلَّا رَبَّكُمْ مُصَدِّقِينَ لِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ قَدْ كُفِيتُمُ الْبَلَاءَ بِغَيْرِكُمْ، وَاللَّهِ! لَقَدْ بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَشَدِّ حَالٍ بَعَثَ عَلَيْهَا نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فِي فَتْرَةٍ وَجَاهِلِيَّةٍ مَا يَرَوْنَ أَنَّ دِينًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ فَجَاءَ بِفُرْقَانٍ فَرَقَ بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ وَفَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَرَى وَالِدَهُ وَوَلَدَهُ وَأَخَاهُ كَافِرًا وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ قُفْلَ قَلْبِهِ لِلْإِيمَانِ يَعْلَمُ أَنَّهُ إِنْ هَلَكَ دَخَلَ النَّارَ فَلَا تَقِرُّ عَيْنُهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ وَأَنَّهَا الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ}
جبیر بن نفیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم ایک دن سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثنا میں ایک آدمی کا گزر ہوا اور اس نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر کہا: خوشخبری ہے ان دو آنکھوں کے لیے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا، اللہ کی قسم! ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہم نے بھی وہ کچھ دیکھا ہوتا جو تم نے دیکھا اور ہم نے بھی ان چیزوں کا مشاہدہ کیا ہوتا، جن کا تم نے مشاہدہ کیا۔ یہ سن کر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے، مجھے بڑا تعجب ہونے لگا کہ اس بندے نے بات تو خیر والی ہی کی تھی، اتنے میں وہ اس پر متوجہ ہو کر کہنے لگے: کون سی چیز بندے کو اس خیال پر آمادہ کر دیتی ہے کہ وہ تمنا کرنے لگتا ہے کہ ایسی جگہ پر حاضر ہوا ہوتا، جہاں سے اللہ تعالیٰ نے اسے غائب رکھا، وہ نہیں جانتا کہ اگر وہ اس مقام پر موجود ہوتا تو اس کی کیفیت کیا ہوتی، اللہ کی قسم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسے لوگ بھی موجود تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جن کو نتھنوں کے بل جہنم میں گرا دیا، ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو قبول نہیں کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق نہیں کی تھی، کیا تم اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی تعریف نہیں کرتے کہ جب اس نے تم کو پیدا کیا تو تمہاری حالت یہ تھی کہ صرف اپنے رب کو پہچانتے تھے اور اپنے نبی کی لائی ہوئی شریعت کی تصدیق کرنے والے تھے، تم سے پہلے والے لوگوں نے تمہیں آزمائشوں سے کفایت کیا۔ اللہ کی قسم! جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا تھا تو اس وقت بڑے سخت حالات تھے، فترت اور جاہلیت کا ایسا دور تھا کہ جس میں مشرک لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ بت پرستی والا دین سب سے بہتر ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا فرقان لے کر آئے، جس نے حق و باطل کے مابین فرق کیا اور باپ اور اس کی اولاد میں اس طرح فرق کیا کہ ایک آدمی دیکھ رہا ہوتا کہ اس کے والدین، اولاد اور بھائی کافر ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کا تالہ ایمان کے لیے کھول دیا ہے، اس کو یہ علم ہو جاتا تھا کہ اگر وہ اس دین کو قبول کیے بغیر مر گیا تو وہ جہنم میں داخل ہو جائے گا اور اس طرح اس کی آنکھ کبھی بھی ٹھنڈی نہیں ہو گی، جب کہ اسے یہ سمجھ ہوتی تھی کہ اس کا پیارا جہنم میں جا رہا ہے، یہی چیز ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ» (اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔) (سورۂ فرقان: ۷۴) [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 142]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه البخاري في الادب المفرد: 87، وابن حبان: 6552، والطبراني في الكبير: 20/ 600، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24311»
وضاحت: فوائد: … طُوْبٰی کے مزید معانی: جنت، جنت کی ہر خوشگوار چیز، بقائے لازوال، ابدی عزت، سرمدی دولت، جنت کا ایک درخت، سعادت، خیر و بھلائی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر معنی دوسرے تمام معانی کو مستلزم ہے۔ذہن نشین کر لیں کہ اس امت میں کلی اعتبار سے صحابۂ کرام ہی افضل ہیں، جو شرف اور سعاد ت ان کے نصیبے میں آئی، وہ اس میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، اس مقام پر اس موضوع سے متعلقہ شرعی نصوص کا احاطہ کرنا ضروری نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھے بغیر آپ پرایمان لاناایسی جزوی فضیلت ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والوں کی ان لوگوں پر برتری بیان کی گئی ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر ایمان لائے، لیکن یہ فضیلت جزوی ہے، کلی نہیں ہے۔درج ذیل حدیث میں اس خصوصیت کی وجہ بیان کی گئی ہے:
ایک مقام پر دس صحابہ کرام جمع تھے، انھوں نے کہا: ((یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ مِنْ قَوْمٍ ھُمْ اَعْظَمُ مِنَّا اَجْرًا، آمَنَّا بِکَ وَاتَّبَعْنَاکَ؟ قَالَ: ((مَا یَمْنَعُکُمْ مِنْ ذَالِکَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بَیْنَ أَظْھُرِکُمْ یَأْتِیْکُمْ بِالْوَحْیِ مِنَ السَّمَائِ؟ بَلْ قَوْمٌ یَأْتُوْنَ مِنْ بَعْدِکُمْ، یَأْتِیْھِمْ کِتَابٌ بَیْنَ لَوْحَیْنِ، یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَعْمَلُوْنَ بِمَا فِیْہِ، اُولٰئِکَ اَعْظَمُ مِنْکُمْ اَجْرًا)) … اے اللہ کے رسول! کیا ایسے لوگ بھی ہیں جو اجر و ثواب میں ہم سے بڑھ کر ہوں، ہم تو آپ پر (براہِ راست) ایمان لائے ہیں اور آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کی ہے؟ آپ نے فرمایا: بھلا (تم ایمان کیوں نہ لاتے) کون سی چیز تمھارے راستے میں روڑے اٹکا سکتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمھارے اندر موجود ہیں، (تمھارے سامنے) آسمان سے ان پر وحی نازل ہوتی ہے؟ (اجر و ثواب میں افضل لوگ) وہ ہیں جو تمھارے بعد آئیں گے، انھیں (یہ قرآن مجید) دو گتوں میں موصول ہو گا، وہ اس پر ایمان لائیں اور اس پر عمل کریں گے (حالانکہ انھوں نے مجھے دیکھا ہو گا نہ قرآن مجید کو نازل ہوتے ہوئے)، یہ لوگ اجر و ثواب میں تم سے افضل و اعلی ہوں گے۔ (معجم طبرانی کبیر: ۱/ ۱۷۴/ ۱، مسند ابو یعلی: ۳/ ۱۲۸، صحیحہ: ۳۳۱۰)
صحابہ کرام کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت کی کئی علامتیں موجود تھیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات کا مشاہدہ کر رہے ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزولِ وحی کی کیفیت کو دیکھ رہے ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکات کا عملی ظہور ان کے سامنے تھا، علی ہذا القیاس، اس لیے ان کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لایا جائے، جبکہ بعد میں ایمان لانے والوں کی بنیاد کتابوں میں لکھے ہوئے الفاظ تھے یا لوگوں سے سنے ہوئے۔
ان احادیث میں صحابہ کے بعد والے مسلمانوں کی افضلیت کا بیان ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم لوگ اس حدیث کا مصداق بنتے ہیں کہ ہمارے پاس قبولیت ِ ایمان کے لیے کوئی ایسی نشانی موجود نہ تھی، جو انبیا ورسل اور ان کے براہِ راست پیروکاروں کے پاس ہوتی تھی، یہ محض اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے، اس اعزاز کی وجہ سے ہمیں ثابت قدمی اختیار کرتے ہوئے اعمال صالحہ کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تاکہ دنیا و آخرت میں عزت پا سکیں۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه البخاري في الادب المفرد : 87
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں